Rasta aur nasoor kahani

راستہ اور ناسور کہانی
وہ شخص روز سفر کرتا تھا وہی راستہ تھا جو اسکی اسی منزل تک جاتا تھا پر اب تھکن دو گنا ہوگئ تھی پیروں میں زخم بن رہے تھے ۔ اس نے موٹے تلے والا جوتا خریدا مگر حل نہ نکلا تکلیف کا شائد راستے کے پتھر بڑے ہوگئے تھے چبھن بھی ذیادہ ہوگئ تھی۔ اس نے سوچا جب روز یہی راستہ اپنانا ہے تو کیوں نہ اسکو ہموار کردوں۔ کدال پھائوڑا بجری سمنٹ اس کو ایک لمبی سڑک اپنی منزل تک بنانے کیلئے مہینوں لگ گئے مگر ایک شفاف سڑک بن گئ۔ جس دن پہلی دفعہ اس پر قدم رکھا سوچا تھا اب سفر آسان ہو چکا ہوگا۔ 
سیدھئ ہموار پختہ سڑک پر قدم اٹھاتے اسکو احساس ہوا کہ نہ تکلیف میں کمی آئی نہ سیدھی سڑک سے راستہ چھوٹا ہوا۔ وہ تڑپتا منزل پر پہنچا جوتا اتارا جوتے میں خون بھرا تھا۔ اس نے پیرو کا تلوہ دیکھا تو ایک ناسور اندر پل رہا تھا اتنے مہینوں میں وہ اندر ہی اندر پل رہا تھا بظاہر پیر شفاف لگتا تھا مگر اب جا کر اسکا منہ بنا تھا اس نے ہلکے سے دباہ پچکاری کی صورت مواد باہر نکلا
اس نے دبا دبا کر سب گندگی نکالی۔ جوتا دھویا زخم دھویا مگر اب اس نے جوتے کی جگہ آرام دہ کھلی ہوائی چپل پہنی  
اس دن واپسی پر معمول سے کم وقت لگا تکلیف کم ہوئی۔۔ 
نتیجہ : کبھی کبھی ہم تکلیف کا منبع باہر ڈھونڈتے ہیں جبکہ ناسور ہمارے اندر پل رہا ہوتا ہے۔ 



kuch acha perho 
#urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen #vaiza #hajoometanhai

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

انوکھی کہانی پہلی قسط

گندگی کہانی.. gandgi kahani

Urdu web travel novel Links