انوکھی کہانی پہلی قسط


انوکھی کہانی پہلی قسط
ایک تھی انوکھی نام تو تھا خیر اسکا عالیہ ... انوکھی ایسے نام پڑا کہ اسکی دادی نے ایک دن لاڈ میں پکارا تھا اسے انوکھی کہہ کر بس چار بہن بھائیوں کی وہ سب سے چھوٹی بہن تھی سو سب نے چھیڑ چھیڑ کر اسکا نام انوکھی ہی کر دیا
انوکھی کا ہر کام انوکھا تھا پہلی بار سکول گئی استانی کو گرا دیا جان کر نہیں استانی صاحب اسکی بات نہیں سن رہی تھیں اس نے انکا دوپٹہ کھینچ کر کہا سن لیں میری بات مس مس نے پھر بھی نہیں سنا کھڑی اس کے پیچھے بیٹھے بچے کو گھر کا کام نہ کرنے پر ڈانٹتی رہی تھیں اپنی اونچی ایڑھی والی صندل اسکی گری ہوئی کاپی پر رکھے تھیں اس نے اٹھانا تھا تین بار تو کہا تھا چوتھی بار
اسے بھی غصہ آگیا اسکو ڈانٹے جا رہیں اب بس بھی کریں ایک تو اتنی اونچی ہوئی وی ہیں اب گر جائیں میرے ہی سر پر
اس نے انکی اونچی ایڑھی والی سنڈل کو گھورا
بس وہ مڑیں پیر مڑا سیدھی اسکے سر پر
استانی صاحبہ نازک سی تھیں مگر ایک چار سالہ بچی کے اپر پہاڑ کی طرح گری تھیں سٹیکر بنتے بنتے رہ گیا تھا اسکا سری کلاس ہنس رہی تھی ایک وہ رو رہی تھی اس پر ہی بس نہیں
اسکی امی کو بلا لیا تھا استانی صاحب نے
آپکی بیٹی نے مجھے گرایا ہے '
فورا شکایات دھر دیں امی خاص پاکستانی ماں
کان سے پکڑ لیا
کیوں گرایا ؟
ارے میں نے کچھ نہیں کیا وہ روہانسی ہو چلی
اس نے مجھے کہا تھا اب گر جائیں مجھ پر
استانی صاحبہ پاؤں پر پٹی باندھے بیٹھی تھیں شدید موچ آئی تھی
آپکو اسکی بات نہیں ماننی چاہے تھی
امی نے دبی دبی زبان میں کہہ دیا تھا استانی صاحب غور کر رہ گیں
پھر ایسا اکثر ہونے لگا وہ جسکو جو کام کہتی ہزار انکار کرتا منہ بناتا مگر کر دیتا
اسکو بھی پانی لانے کا کہتا یہ بھر کے لا کر گلاس تھماتی اور کہتی میرے سکول کا کام کروا دیں
اپنا ٹیسٹ چھوڑ کر اسکو گھر کا کام کرواتا کہاں چھوٹا ہونے کی وجہ سے سب اسکو اپنے کام کہا کرتے کہاں سلسلہ الٹ گیا
سب سے بڑی بہن تھی اسکی نمرہ ایک نمبر کی کام چھوڑ کاہل سست الوجود کالج جاتی تھی
بد پر بیٹھ جاتی کبھی کہتی مجھے نیل پالش لا کر دو دوسرے کمرے میں بیٹھی ہوتی تھی عالیہ بھاگ کر آتی اسکو
اسکے ہی کمرے میں دو قدم کے فاصلے پر رکھی سنگھار میز سے مطلوبہ نیل پالش
تھماتی پھر واپس جا کر اپنا کام کرتی
ایک دن وہ فشل کر رہی تھی اس سے بولی مجھے لوشن پکڑا دو
اس نے یونہی کہ دیا
منہ پر آپی لوشن کی بجایے وم مل لو زیادہ صاف ہو جایے گا
اس نے لوشن تھماتے مذاق کیا تھا آپی اٹھیں سیدھا باورچی خانے میں گیں اور وم مل لیا منہ پر
امی دیکھیں میرا پورا چہرہ سرخ ہو گیا
رو رو کر شکایت لگ رہی تھی اسکی وہ معصومیت سے سر جھکایے کھڑی تھی
اس نے کہا اور تم نے ماں لیا
امی نے سر پیٹ لیا
امی اسکو منع کریں ہم سے کام نہ کہا کرے کل میچ کھیلنے جا رہا تھا بولی مجھے گھر کا کام کروا کر جائیں
دو گھنٹے لگا کر میں نے اسکو سارا گھر کا کام کروایا میرا پورا میچ برباد ہوا دوستوں نے الگ میری بستی کی
آپی سے چھوٹا بھائی رو رہا تھا اسکے میٹرک کے امتحان ہو چکے تھے سو تین مہینے بس کھل کود ہی کرنا تھا اس نے خاصا گراں گزرا تھا اسے کام کرنا یا کروانا
ہاں تو چھوٹی ہے کام کون کراتا اسے
امی نے اسکی حمایت نہیں کی
مگر امی یہ بہت عجیب ہے کل مجھے کہہ رہی تھی کارٹون دیکھنا میں ڈرامہ دیکھ رہی تھی مگر میں نے چینل بدل کر اسکو کارٹون لگا دیا
سارا اس سے سات سال بڑی بہن بسوری
ارے تو تم لوگ اسکی بات مانتے کیوں ہو ؟
امی نے سر پیٹ لیا
وہ معصوم سی شکل بنایے سب کو ٹکر ٹکر دیکھتی رہی
..........................
اس دن وہ سکول سے واپس آ رہی تھی کہ دیکھا دو بچے آپس میں لڑتے جا رہے بچے اس سے شاید دو چار سال بڑے ہی ہونگے
اس نے یونہی رعب سے کہا
مت لڑو اچھے بچے نہیں لڑتے ہاتھ ملاؤ چلو
دونوں نے جھٹ ایک دوسرے کا گریبان چھوڑا ہاتھ ملا لئے
اب یہ ہاتھ مت چھوڑنا ایسے ہی اچھے بچوں کی طرح گھر جاؤ
وہ آرام سے خود گھر آگئی
اگلے دن دونوں بچوں کے والدین سکول آیے ہوئے تھے
یہ دیکھیں کل سے یہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑ رہے ہم کہہ کہہ کر تھک گیے ہاتھ چھڑانا چاہا تو ہم چھڑا بھی نہیں پا رہے
دونوں بچوں کا رو رو کر گلہ بیٹھا تھا
دونوں بچے شکر ہے پڑوسی تھے دونوں کے والدین کہ سن کر بچوں کو سلا تو لیا تھا مگر شدید پریشان تھے
اتنا زور زور سے روتےہیں کہتے عالیہ کہے گی تب ہی چھوڑیں گے کون ہے عالیہ ؟
پرنسپل صاحب نے علیہ کو بلوایا
معصوم سی دو پونیاں کے بڑی بڑی آنکھیں پوری کھولے عالیہ آی تھی
عالیہ بیٹا ان بچوں سے کہو ہاتھ چھوڑ دیں ایک دوسرے کا
پرنسپل صاحب نے بڑے پیار سے کہا تھا
کیوں؟ عالیہ کو ہرگز انکا خیال پسند نہیں آیا
بیٹا کل سے دونوں مشکل میں ہیں ہاتھ نہیں چھوڑ رہے ایک دوسرے کا پ انکے والدین پریشان ہیں
انہوں نے سمجھایا
عالیہ سوچ میں پڑ گئی
مگر کل یہ دونوں لڑ رہے تھے اسلئے میں نے انکو کہا تھا ایسا
ہم کبھی نہیں لڑیں گے
دونوں بچے روہانسے ہو کر بولے
چلو ٹھیک ہے ہاتھ چھوڑ دو
اس نے کہا تو دونوں نے جھٹ ہاتھ چھوڑ دیا
دونوں بچوں کے والدین ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے پھر دونوں نے ہی اپنے اپنے بچوں کا سکول تبدیل کروا دیا تھا
.......
کوئی بار بار انکے گھر کی اطلاعی گھنٹی بجا رہا تھا
آرہی ہوں آرہی ہوں
امی باورچی خانے میں تھیں ہاتھ پونچھتی باہر آیئں
کون ہے ؟
انہوں نے دروازہ کھولا
ایک آئس کریم فروش کھڑا تھا
کیا کام ہے بھائی ؟
اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا امی نے پوچھا
بہن جی آپ عالیہ کی والدہ ہیں ؟
ہاں انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تو تو پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا
آپکی بیٹی نے آ کر مجھ سے آئس کریم لی ..
پیسے نہیں دے؟
وہ یہی سمجھیں
نہیں اس نے تو دیے پھر کہنے لگی تمہیں ویسے سب بچوں کو مفت آئس کریم دینی چاہے
یقین کیجیے دو دن سے ایک روپیہ نہیں لے رہا بچوں سے میری سب آئس کریم مفت بانٹتا رہا
مرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں غریب آدمی ہوں اسی سے کماتا ہوں بیگم صاحب
تو تمہیں کس نے کہا اس بچی کی بات مانو
انکو غصہ ہی آگیا
میں نہیں جانتا مگر میں اسکی بات ٹال نہیں سکتا آپ براۓ مہربانی اس سے مجھے اجازت دلوا دیں کہ میں پیسے وصول کر لیا کروں اپکا بڑا احسان ہوگا
وہ مسمسی سی شکل بنایے کھڑا تھا
صبیحہ اسے کچھ کہتے کہتے رک سی گئیں پھر عالیہ کو پکار لیا
..........................................
یہ تو کافی عجیب بات ہے
پاپا کافی حیران ہوئے تھے سن کر
عجیب نہیں بہت عجیب ترین بات ہے
اور کسی کو چھوڑو کل مجھے کہتی ہے مجھے چکن کھانا میں نے کل الو گوشت بنایا تھا پوری ہنڈیا پڑوس میں بھجوا کر میں نے مرغی بھونی ہے
صبیحہ بے حد حیرانی سے بتا رہی تھیں
ہاں پاپا میں نے کل اسکا سارا گھر کا کام کیا تھا آج مجھے استانی صاحب نے بلا کر ڈانٹا بھی کہ چھوٹی بہن کا ہوم ورک کیوں کیا؟
سارا نے بتایا
میں کل دو گھنٹے اسکو سائکل پر بیٹھا کر گھوماتا رہا ہوں میری ٹانگیں ٹوٹ گئیں سائکل چلا چلا کر
بھائی نے بھی دکھڑا رویا
سب گول میزکانفرنس کر رہے تھے عالیہ خاموشی سے ایک کونے میں صوفے پر بیٹھی سن رہی تھی
عجیب بات تو ہے
شکیب صاحب نے کان کھجایا
کل مجھ سے کہنے لگی مجھے چوکلاتے کا ڈبہ لا کر دیں میں منع کرنے لگا تھا کہ دانت خراب ہو جائیں گے مگر میں نے پھر اسکو پورا ڈبہ لا کر دیا
عالیہ ایلین تو نہیں؟
آپی نے خیال ظاہر کیا
سب مڑ کر اسے گھورنے لگے تھے
از قلم ہجوم تنہائی

No comments:

short story

udaas urdu status

urduz.com kuch acha perho #urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen