Pathar ka Parinda kahani
وہ مجسمہ ساز تھا۔ ایک سے ایک مجسمہ بنا چکا تھا مگر آج تک اس سے کوئی شاہکار تخلیق نہ ہوسکا ایک دن وہ اپنے گھر سے باہر صحن میں کچھ پھل اور پانی کا کونڈا رکھ کر مجسمہ بنانے بیٹھا۔ بناتا بگاڑتا سمجھ نہ آتا تھا کیا بنائے۔ اس نےتھک کر پانی پینے کا سوچا اٹھا دیکھا تو مٹی کا کونڈا اسے بڑا خوب لگا ۔ پانی پینا بھول بھال وہ مٹھی گوندھ کر کونڈا بنانے لگا اسے بنایا سجایا تبھی کہیں سے لال کلغی کا سر پر تاج سجائے ایک ست رنگا پرندہ کونڈے پر آبیٹھا۔ پانی پیا پر پھیلائے اڑ گیا۔ یہ منظر اس مجسمہ ساز کو اتنا بھایا کہ فورا وہی منظر ڈھالنے لگا۔ صبح سے شام ہوئی رات ہوئی وہ تندہی سے کام میں جتا رہا۔ پھل اس نے کھانے کیلئے کونڈے کے برابر ہی رکھے تھے مگر جنون نے بھوک پیاس ایسی مٹائی کہ اس نے نہ کھایا نہ پیا بلکہ ان پھلوں کو کونڈے کے گرد ڈھال دیا۔۔ اگلے دن کا سورج نکل آیا۔ مجسمہ سوکھتا گیا مجسمہ ساز نے سب رنگ اتار دیئے اس پر۔ اس جنون میں اسے اگلے دن بھی کچھ کھانا پینا یاد نہ رہا ۔ تیسرے دن اس نے مجسمہ تو مکمل کردیا مگر بھوک پیاس سے ہوش حواس کھو بیٹھا۔وہیں دھپ سے گرگیا۔۔ کسی نے دیکھا تو اٹھانے بڑھا مگر دیر ہو چکی تھی۔ مجسمہ ساز اب دنیا میں نہ رہا تھا۔ اس نے آخری مجسمہ جو بنایا تھا وہ ایسا عکس دیتا تھا جسے ایک جانب سے دیکھو تو ست رنگا پرندہ پر پھیلا کر اڑان بھرنے کو تیار نظر آتا تھا تو دوسرے رخ سے وہ اطمینان و کروفر سے بیٹھا نظر آتا تھا۔ وہ مجسمہ ساز جس کو ملا اس نے مجسمہ ساز کو مٹی کی پتلا سمجھا مٹی میں دفنا دیا۔ اسکا مجسمہ بھی مٹی کا ہی تھا مگر اسے اتنا بھایا کہ اسے اٹھا کر قدردانوں کو دکھانے لے گیا۔ قدردانوں نے اسکو شاہکار مجسمہ قرار دیا ۔ خوب انعام و اکرام سے نوازا ۔ آج بھی عجائب گھر کی زینت بنا ہے لوگ دور دور سے دیکھنے آتے ہیں۔ انہی میں سے ایک وہ بھی تھا۔ نوادرات پر تحقیق کرنے والا۔ پرانے کھنڈرات ٹٹولنے والا تاریخ کوسچا یا جھوٹا ثابت کرنے پر معمور۔ آج اسکو اسی امر کیلئے عجائب گھر کے مالک نے دعوت دی تھی۔ اب تفصیل سے اسے اپنے اس نادر و نایاب مجسمے کے خواص گنوارہا تھا۔ آئیے دیکھیں کھرے کھوٹے کی پہچان کیجئے۔ کیا مجسمہ ہے مجسمہ ساز نے مجسمہ بنانے کا فن جیسے گھول کرپی لیا ہے۔ ایک رخ سے اڑان بھرنے کو تیار دوسرے رخ سے پر سمیٹے بیٹھا ست رنگی پرندہ۔۔ اس نے غور سے مجسمہ دیکھا پھر مجسمہ ساز کی خیالی تصویر دیکھی اسکا تعارف پڑھا قطیعت سے بولایہ مجسمہ اس آدمی نے نہیں بنایا۔ مالک حیران ہوگیا اسی نے اسکو بیچا یہی لایا اس نے کہا اس نے بنایا ہے آپ کیسے جھٹلا سکتے؟یہ مسکرادیااس آدمی کا تعارف پڑھو۔ بنجارہ جو گلیوں گلیوں شہروں شہروں گھومتا تھا۔ اگر اسکو یہ فن آتا ہوتا تو یوں گھومتا؟ زندگی میں ایک مجسمہ بنایا دوبارہ کبھی کہیں نہ نظر آیامالک نے استہزا سے اس کا اعتراض چٹکی میں اڑایادنیا میں ہر انسان کوئی نہ کوئی شاہکار تخلیق کرتا ہی ہے۔ ہوسکتا ہے اسکے فن کی معراج یہی رہی ہو اسکے بعد اس نے اس معیار سے کم بنانا کچھ گوارا نہ کیا ہو۔یہ متفق نہیں تھا۔ہر انسان شاہکار تخلیق کرنے کے قابل ضرور ہوتا ہے مگر ہر انسان تخلیق کرنہیں پاتا۔ اور جو تخلیق یا تحقیق کریں وہ کبھی ان دونوں کاموں سے رک نہیں پاتے۔ مالک کو اپنا عجائب گھر بند ہوتا نظر آیا تو بحث سمیٹ لیاس نے کہا میں نے بنایا ہمارے بڑوں نے مان لیا ہم نے مان لیا ۔ اب بحث بے معنی ہے۔۔ یہ کندھے اچکا کر رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قبر میں لیٹے مجسمہ ساز نے کروٹ لی۔ آہ میرا جنون میری جان لے گیا چار صدیوں قبل اتنی مہارت اتنا علم چار کائنات کی چوتھی صورت دیکھنے کی قوت تھی اور میں نے بس ایک شاہکار بنانے میں زندگی گنو ا دی۔ یہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا۔ تخلیق اور تحقیق کا سفر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ مجھے گلہ نہیں کہ میرا شاہکار کسی اور سے منسوب ہے مجھے خود سے گلہ ہے میں شاہکاروں کو تخلیق کرنے کی بجائے بس ایک شاہکار پر زندگی لٹا بیٹھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرندہ میری قسمت کہ چوتھے رخ سے پہلے رخ میں سفر کربیٹھا۔ میں تو اس دنیا کا تھا ہی نہیں۔ مجھے منظر میں قید کرگیا ایک معمولی مجسمہ ساز جو خود کو بلا چیز سمجھ رہا تھا درحقیقت ایک کائنات کے چوتھے رخ کا منظر پہلے رخ میں قید کربیٹھا اب سب کہتے ہیں میں شاہکار ہوںپر پھیلائے کیسی شان سے بیٹھا ہوں پر جانتے ہو میں اپنے پر ہلا بھی نہیں سکتاپتھر کا جوہوں۔۔ مجسمہ ساز نے کچھ نیا تخلیق نہیں کیا تھا۔ اس نے جو دو دن کی محنت سے مجسمہ بنایا وہ تو تیسرے دن ہونے والی بارش میں بہہ گیا تھا۔۔یہ منظر دیکھنے سے پہلے مجسمہ ساز بھئ گزر گیا۔۔ میں اسکے ذہن میں اٹک کر وہیں کائنات کے چوتھے رخ کا پرندہ پہلے رخ میں ساکت رہ گیا۔ شاہکار کہلایا اور نہ جی سکا نہ مرپایا۔۔۔ ہر رخ کائنات کا الگ دنیا ہے اپنی دنیا میں جینا سیکھو پھر دوسرا رخ کھوجنا میری طرح نہ کرنا۔۔مجھ سانہ ہونا ۔۔۔۔پتھر کا پرندہ
از قلم واعظہ زیدی#urduz
kuch acha perho
#urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen #vaiza #hajoometanhai

تبصرے