sandal ki lakri aur churi ki kahani
ایک تھی لکڑی چھری سے دوستی تھی اسکی۔ چھری کا آنگن مہکتا تھا۔ چھری کو لگتا اسی مہک کے پیچھے کھنچئ آتی ہے لکڑی۔۔ خیر وجہ جو بھئ ہو خوب پیار سے ملتی گلے لگتی ادھر لکڑی جب چھری کے پاس جاتی چھلتی جاتی۔ لکڑی اچھی خاصی سکڑ گئ۔ اس سے آگ ملی بولی چھری تو کھا گئ تمہیں ؟ مجھ سے دوستی ہوتی تو جل کر کوئلہ بن جاتیں آگ اندر سے دہکتی۔۔ لکڑی مسکرا دی۔ چھری اسکی دوست تھی آگ دشمن مگر بات اسکی دل میں کہیں ترازو ہوگئ تھی۔ چھری کھا گئ تمہیں۔ آگ نے لکڑی پر اپنا وار بے اثر دیکھا تو سیدھی چھری کے پاس گئ۔ اسکے ساتھ نے چھری کو خوب تپا دیا دہک اٹھی۔ جب تک لکڑی آئی آگ تو جا چکی تھی مگر جب لکڑی چھری سے حسب عادت گلے ملی تو چھری کی تپش سہہ نہ سکی۔ دور ہوگئ چھری طنزیہ مسکرائی یہ تھی دوستی تمہاری ؟ ذرا سا دہک کیا اٹھی میں تم نے مجھے چھوڑ دیا۔ لکڑی نے چھری کے گرد اپنا برادہ دیکھا۔۔ اتنے عرصے کی دوستی میں چھری کا آنگن اسکے چھلتے وجود کے برادے سے اتنا بھرا تھا کہ اب زمین ہی لگتا تھا۔ مگر چھری کو صرف آج کا لکڑی کا پیچھے ہٹن اپنے سلگے ہوئے وجود پر ہاتھ رکھا۔ چھری اسے کتنی بھئ عزیز کی...