اب ایسی کہانی لکھنی ہے کہ
جس میں کردار ہی نہ ہو۔۔۔
میں تم نہ ہوں یا یہ دیار ہی نہ ہو۔۔۔
ایسا ہو کہ دنیا کو دیکھیں ہم مگر دور سے۔۔
اس دنیا پر تیرا میرا کسی کا کوئی اختیار نہ ہو۔۔۔
کھلتے پھولوں ، گڑگڑاتے بادل ، اٹھکیلیاں ہوں چوپایوں کی۔۔
متروک نسلوں کا کوئی قدیم بھی آثار نہ ہو۔۔
ہم ہوں اس جہاں وہاں کہانیاں ہی نہ نئی بنا کریں
کوئی کسی سے کسی بھی وجہ سے برسر پیکار نہ ہو
دھتکاردے چھوڑدے حال پر تنہائی کو ہجوم کبھی تنگ آکر
دنیا میں کوئی اس جیسا بھی آدم بیزار نہ ہو۔۔
تبصرے