وہ ایک بہت ہی خوشحال پرامن گائوں تھا۔ وہاں رہنے والے ہنستے تھے خوش بستے تھے۔ ایک دن وہاں ایک سلسلہ وار قاتل آیا قتل اسکی ضرورت پیشہ شوق زندگی کا مقصد تھا۔ جب وہ کسی کی گردن پر چھری رکھتا تو اسکی آنکھوں میں اترتا خوف اسکی روح تک شاد کردیتا وہ جو اطمینان محسوس کرتا تھا اسکے آگے دنیا کی ہر خوشی ہیچ تھی۔۔ اس نے ایک گھر کا انتخاب کیا۔ ایک بوڑھی عورت ایک اسکا جوان بیٹا بس۔۔ اسکا شکار بے حد آسان تھا۔ اس نے چپکے سے دیوار پھلانگی۔ دروازے کا کواڑ کھولا جوان سامنے ہی بستر پر لیٹا تھا۔ اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسکی گردن پر چھری رکھ دی تبھئ اسے اپنے کندھوں پر ہلکا سا دبائو محسوس ہوا۔ اس نے مڑ کر دیکھا تووہی بوڑھی عورت جو اسی لڑکے کی ماں تھئ سامنے کھڑی تھی۔ اسے دیکھا تو آزردہ سی مسکراہٹ سے بولی
مرے ہوئے کو مار رہے ہو؟۔
قاتل نے چونک کر دیکھا جوان بے سدھ سویا پڑا تھا اس نے
آگے بڑھ کر اسکی ناک پر انگلی رکھی دھیمی چلتی سانس
قاتل بھنا کر پلٹا
یہ تو زندہ ہے؟
ماں مسکرا کر بولی
تم نا اہل قاتل ہو۔ جس کو قتل کرنے آئے ہو اسکی چلتی سانس سے اندازہ لگا رہے کہ وہ زندہ ہے ؟
قاتل حیران ہوا
پھر کیسے اندازہ لگاتےہیں؟تم نہیں جانتیں مجھے میں نے سینکڑوں قتل کیئے ہیں ۔مقتول کی سانس رک جاتی ہے۔
ماں ہنسی تمہیں تو یہ بھی نہیں پتہ کہ سانس لینے والے بھی کبھی اندر سے مر چکےہوتے ہیں تم
۔ قاتل کیسے بن بیٹھے جانے آج تک قتل کیا بھی ہے یا یونہی جھوٹ بول رہے ہو اصل قاتل ہوتے تو اب تک قتل کر بھی چکے ہوتے الٹا بحث میں الجھے ہو سانس دیکھ رہے ہو تم جیسا نکما قاتل کبھی قتل کر نہیں سکتا تمہاری تو چھری بھی کند ہوگی او رہاتھ تو کانپ ہی رہا ہے
قاتل نے دیکھا تو واقعی اسکا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ طیش کے مارے اتنا کچھ اسے صرف وقت پر چھری نہ چلانے پر سننے کو مل گیا تھا اس کا دل چاہا اس عورت کا ہی گلا کاٹ دے مگر ہاتھ اٹھ نہ سکا جامد سناٹے اندر اتر آئے اسکی سانس رکنے لگی وہ تیزی سے پلٹا صحن میں آیا اس گھر سے ہی نکل آیا کھلی فضا میں سانس لی احساس ہوا سانس لے رہا ہے اپنا ہاتھ دیکھا تو خالی تھا چھری جانے کہاں گری اس قاتل کو پتہ ہی نہ چل سکا۔ وہ وہیں ہارے ہوئے جواری کی طرح گھٹنوں کے بل گر پڑا کیا ہوا ہے آخر میرے ساتھ؟ وہ رو دیا ۔ پاس عورت نے اسے لفظوں کی مار دی تھی وہ سانس لے رہا تھا مگر مرگیا تھا۔۔
پہلی بار احساس ہوا تھا کہ اسکو اپنے قتل ہوجانے کا کسی کو یقین دلانا بھی مشکل ہوگا۔۔۔وہ عورت اس سے بھی بڑی شاطر قاتل تھی۔ اس نے جسم زخمی نہیں کیا تھا روح گھائل کردی تھی۔ وہ اب ہنسا اور ہنستا چلا گیا۔۔۔
چھری ہتھیار تو بہت بعد کی بات ہے جسم کا مرنا تو طے ہے ہی قاتل لفظوں کا بھی انتخاب کرتے ہیں روح گھائل کرتے ہیں اور ایسے قاتل پکڑے بھی نہیں جاتے۔ کیسے پکڑیں؟ جسم سلامت ہے سانس جاری ہے کیسے بتائیں اندر
سے مرچکے ہیں ہم؟
kuch acha perho
#urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen #vaiza #hajoometanhai
x
تبصرے