Hum sab ka anjaam
ایک دفعہ ایک چڑیا کا بچہ گرا ہوا ملا ۔۔ ہم نے اسے اٹھا کر اندر کمرے میں رکھ لیا۔ اسی کھلانے پلانے کی بھی کوشش کی چڑیا بار بار ہمارے کمرے کے روشندان کے پاس چکراتی رہی۔ رات ہوگئ صبح ایک اداس صبح تھی۔ میری آنکھ کھلی تو میرے سرہانے چڑیا مردہ حالت میں بیڈ پر پڑی تھی۔ رات کو یا صبح جانے کب وہ روشندان سے اندر آئی اور چلتے پنکھے سے ٹکرا کر مر گئ۔ نا خون نکلا نہ گردن الگ ہوئی اسکے گھونسلے میں اور بھی بچے ہوں گے۔ مگر اس ایک بچے کے پیچھے وہ مر گئ۔ اسکے باقی بچے بھی بھوکے مریں ہوں گے۔ اسکو پتہ نہیں تھا کہ ہم اسکے بچے کا خیال رکھ رہے تھے خوامخواہ ڈرتی رہی مرگئ۔ اسکا بچہ بھی مرگیا تھا شائد ہم اسکا اسکی ماں کی طرح خیال نہ رکھ سکے ہم سب چڑیا ہی ہیں۔ جانے کیا بچاتے ہیں کیا چھپاتے کیا چھن جانے سے ڈرتے کس کے چھن جانے پر مرتے۔۔ اور ہم سب کا انجام بھی ایسا ہی ہے جو کھوگیا اسکا غم ہےجو ہے اسکی فکر نہیں۔ ہے نا۔۔ Join our Facebook page https://urduz.com https://urduz.pk kuch acha perho #urduz #urduqoutes #urdushayari #urduw...