Saturday, September 9, 2017

پیسا کہانی


پیسا کہانی 


ایک آدمی کی جیب میں سوراخ تھا 
یہ بات وہ نہیں جانتا تھا  وہ   بازار سے گزر رہا تھا اسکی جیب میں کچھ پیسے تھے 
وہ چلتا جا رہا تھا اسکی جیب سے کچھ پیسے گرے 
ہوا سے اڑنے بھی لگے ایک دو لوگوں نے دیکھ لیا اور ان روپوں کی جانب لپکے
 اب اس آدمی کا حال سنو 
وہ چلتا جا رہا تھا  اسکے پیچھے لوگ آتے جا رہے تھے اس نے حیران ہو کر مڑ  کر دیکھا  اسکے مڑ  کر   جھٹکا لگتا 
کہ اسکے  پیچھے آنے والوں کی تعداد بڑھتی جا   رہی تھی اچانک اسکو چھن  چھن کی آواز آئ 
اس نے چونک کر  نیچے دیکھا اسکی جیب سے سکے اچھل کر باہر گر رہے تھے 
اس نے گھبرا کر جیب میں  ہاتھ ڈالا اسکے سب روپے گر چکے تھے 
دو چار سکے بچے تھے جو اب گرے تو اسے معلوم ہوا 
کہ اسکی جیب میں سوراخ ہے 
اس بار اس نے مڑ  کر دیکھا تو اسکے پیچھے آنے والا ہجوم چھٹ  چکا تھا اب اسکے جیب خالی ہو جانے کی وجہ سے کوئی اسکے پیچھے نہیں آ رہا تھا 
نتیجہ : دنیا صرف پیسے کے پیچھے آتی 
اور گھر سے نکلتے وقت جیب ضرور  دیکھ لینی چاہے 

از قلم ہجوم تنہائی

Friday, September 8, 2017

short urdu poetry samndr azaad nazm

سمندر 

میں انتظار میں ہوں
کب سمندر سوکھے
کب تہ اسکی نظر آیے
دیکھے دنیا کیا کیا سمیٹے تھا یہ پانی
وہ سب کچھ جس سے اسکا واسطہ نہیں تھا
تب کیا 
دنیا شکر گزار ہوگی
کتنا پردہ رکھا سمندر نے ؟
کیا کیا سہہ رہا تھا سمندر
کیا کوئی احسان مانے گا ؟
کیا جانے تب بھی یہ دنیا سمندر کو کوسے
کیا تھا اب بھی نہ سوکھتا 
سب راز کھول بیٹھا 


از قلم ہجوم تنہائی

ہائے روہنگیا Rohingya people

ہائے روہنگیا

اسکی فیس بک بھری تھی۔۔ اسکی ٹائم لائن پر جائو تو رونگٹے کھڑے کر دینے
 والے مراسلے تھے۔۔ خون لاشیں ظلم بربریت۔۔ کہیں ٹکڑے ٹکڑے جسم تھے کہیں معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کرتے جابر شقی۔۔
وہ آن لائن تھا۔۔
اس نے فورا اسے پیغام بھیجا۔۔
یہ کیا بھیج رہے ہو دل خراب ہوگیا۔۔
جہادی نامی آئی ڈی نے فورا جواب دیا تھا۔۔
یار یہ برما کی تصاویر ہیں۔ دیکھو کتنا ظلم ہو رہا بربریت کی انتہا ہے مسلمانوں کو چیونٹی کی طرح مسل رہے ہیں۔۔ عورتوں بچوں کو بھی نہیں چھوڑ رہے شقی۔۔
اوہ۔۔ اس کو یاد آیا۔۔ عالمی برادری بھی اس مسلے پر آواز اٹھا رہی تھی۔۔
صحیح۔۔
اس نے بس اتنا ہی ٹائپ کرکے بھیجا آگے سے فوری جواب آیا۔۔
تم بھی شیئر کر و نا ۔۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اس ظلم کی اطلاع پہنچے۔ یار ہم مسلمان ایک ہو جائیں تو مجال ہے دنیا ہمارا کچھ بگاڑ لے۔
ہمم۔۔ اس نے سوچا اور شئیر کر دیا۔۔
اسے فوری اطلاع آئی۔۔ جہادی نے آپکے اشتراک کیئے گئے مراسلے کو پسند کیا۔۔ پھر شائد اس نے اسکی پوری ٹائیم لائن کے ہر مراسلے کو پسند کرنا شروع کیا۔۔
جہادی نے آپکے جون میں اشتراک کیے گیے مراسلے پر تبصرہ کیا ہے۔۔
اسکو نئی اطلاع آئی۔ اس نے فورا کھولی۔۔
یہ کیا؟ تو شیعہ ہے؟
اس نے فوری جواب دیا۔۔
نہیں بھئی۔۔ میں سنی ہوں۔۔
فورا اگلا تبصرہ آیا۔۔
پھر یہ ہٹا مراسلہ۔۔
کیوں۔۔ وہ حیران ہوا۔۔
یار دیکھ اس قول میں حضرت علی کے نام کے آگے رضی اللہ کی جگہ علیہ السلام لکھا ہے۔۔
اس نے غور سے دیکھا۔۔
اس نے تو بس خلیفہ کا قول دیکھ کر اشتراک کیا تھا۔۔
قول تھا۔۔
فتنہ اور فساد میں اس طرح رہو جس طرح اونٹ کا وہ بچہ جس نےابھی اپنی عمر کے دو سال ختم کیئے ہوں کہ نہ تو اسکی پیٹھ پر سواری کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اسکے تھنوں سے دودھ دوہا جا سکتا ہو۔۔۔
تو ؟
اسے الجھن آئی۔۔
یار رضی اللہ لکھنا چاہیے حضرت علی کے نام کے ساتھ
خود تو نے تو رضی اللہ بھی نہیں لکھا۔۔ اس نے ٹوک دیا۔۔
اوہو۔۔ بحث مت کر ہٹا یہ مراسلہ گناہ گار ہو رہا ہے۔۔
جہادی کا فورا پیغام آیا۔
اسکے پاس دلیل تھی۔۔بہت سے علما متفق ہیں اس بات پر کہ حضرت علی کو علیہ السلام کہا جا سکتا ہے کہ رسول صلی اللہ و علیہ واآل وسلم کا نسب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور انکی اولاد پر درود و سلام بھیجا جاتا ہی ہے ۔۔وہ اہل بیت کو ماننے والا تھا سب سے بڑھ کر اس نے قول شئیر کیا تھا رضی اللہ یا علیہ السلام تو دیکھا بھی نہیں تھا پھر تھے تو وہ صحابی رسول پھر رسول کے داماد چچا زاد اہل بیت میں سے تھے انکا احترام اپنی جگہ تھا۔۔
اس نے سب کچھ لکھتے لکھتے مٹایا۔۔ اور بس اتنا سا تبصرہ لکھا۔۔
تو کہتا ہے نا ہم مسلمان ایک ہوجائیں تو مجال ہے دنیا ہمارا کچھ بگاڑ لے۔۔
میں کہتا ہوں مجال ہے جو تمام مسلمان ایک ہو جائیں۔۔
از قلم ہجوم تنہائی

Thursday, September 7, 2017

sakitnya tu dsini indonesian song sung by pakistani girl

چڑیا کہانی


چڑیا کہانی


ایک تھی چڑیا ایک تھا چڑا
دونوں  ایک دن اڑتے جا رہے تھے کہ اچانک بارش شروع ہو گئی 
چڑیا کو بارش پسند نہیں تھی 
بولی چھتری لے کر آؤ
چڑا بھیگتا گیا اور چھتری لے آیا 
دونوں چھتری کے نیچے بیٹھ گیے 
بارش رکی ہی نہیں 
چھتری پکڑ کر اڑنا چاہا تو پتا چلا انکے پنجے چھتری پکڑ بھی لیں تو اپر سے تو وہ بھیگتے رہیں گے 
سو چھتری چھوڑی اور اڑ کر اپنے گھونسلے میں چلے گیے 

نتیجہ : اگر آپکو چھتری چاہیے تو نیی خرید لیجیے وہ چڑیا چڑا جانے کہاں گرا گیے چھتری 


از قلم ہجوم تنہائی



ذات کہانی



ذات کہانی 



قلق اتنا سا ہے 
ذوق تنہائی جدا سب سے 



از قلم ہجوم تنہائی

غصہ کہانی


غصہ کہانی 



ایک بار ایک کوئل اور کوے کی لڑائی ہو گئی 
کوے نے کوئل کو خوب برا بھلا کہا 
کیں کائیں کائیں کر کے خوب شور مچایا اتنی باتیں سن کر کوئل 
کو خوب غصہ آیا اور وہ شدید غصے میں بولی
کو ہو کو وووووو کو ہوو 
نتیجہ : غصے میں آپ کے منہ سی وہی نکلتا ہے جسکے آپ عادی ہوتے کہنے کے 



از قلم ہجوم تنہائی

short story

udaas urdu status

urduz.com kuch acha perho #urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen