اشاعتیں

مئی, 2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

short story

kahani ek ujray shehar ki

کہانی ایک اجڑے شہر کی نام سمجھو شہر خموشاں عوام اسکے تھے بالکل عام سےتھے خاموش رہتےانجان ہر زبان سے تھے عروج حاصل تھا انہیں دانشوروں کی نسبت سبھی با شعور تھے سیکھا کرتےعلم و حکمت ایک دن آئے انکے شہر میں اہل علم پاس جن کے تھی لمبی زبان اور ایک قلم سکھایا انہوں نے شہر کے باسیوں کو بولنا لفظ لفظ کہنا بات بات کو تولنا۔ لفظوں آوازوں سے پر شہر کی فضاء ہوئی کہنے والوں کے منہ کھلے خاموشی بد مزا ہوئی علم وحکمت دور ہوئی ان پر تنزلی آتی گئ شوریدہ سری نے سر ابھارا بے رحمی چھاتی گئ بولنے والوں نے بولا اہم علم سے اتنا بتائو سکھا دیانا سب ہمیں ؟اب تم لوگ جائو اہم علم ہوئے پریشان حیران و خاموش کون جیت سکا ہے جب ہو سامنےجہل و جوش باندھا اپنا بوریا بستر راتوں رات شہر چھوڑ گئے علم و ہنر سے بھرا صندوق ، کنجی بھی توڑ گئے سوچا کوئی تو انکا سامان اٹھائے گا جو اٹھائے گا کچھ تو دھیان لگائے گا صندوق کھول کے شہر کےلوگ حیران ہوئے ایک بھونپو چھوڑا اورایک خط وہ بدگمان ہوئے اہل علم سے بولنا سیکھا پڑھنے سے رہے نابلد بھونپو بجا کر سوچا ڈال لی آسمان پر کمند ہنرمندان شہر نے ایسے پھرکئی  اوربھونپو بنائے ہر شخص کے ہات...

kahi un kahi kahani کہی ان کہی کہانی

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک بادشاہ بہت بوڑھا ہو چکا تھا مگر چاق و چوبند تھا سیاسی دائوپیچ کا ماہر ریاست کو بخوبی چلا رہا تھا اسکا ولی عہد اب بادشاہت کا خواہاں تھا اس نے باپ سے کہہ بھی دیا کہ اب اسے ریاستی امور اسے سونپ دینے چاہیئیں مگر بادشاہ اسے خود سے زیادہ اہل نہیں سمجھتا تھا۔ شہزادے کو بادشاہت کا شوق چڑھ چکا تھا۔ مگر وہ باپ کے تقدس کو پامال کرنا نہیں چاہتا تھا۔ ولی عہد کا ایک دوست تھا اس نے ولی عہد سے ایک دن کہا کہ اگروہ سو دن کے اندر بادشاہ کو نقصان پہنچائے بنا تخت اسے دلوا دے تو ولی عہد اسے کیا انعام و اکرام سے نوازے گا ۔ولی عہد نے کہا اگر میں بادشاہ بن گیا تو تمہیں وزیر بنالوں گا۔ مگر تم میرے باپ کو نقصان پہنچائے بنا ایسا کیسے کرپائوگے؟ وہ دوست ہنس دیا۔ کہہ کہہ کر  ولی عہد نے منہ بنایا کہنے سے کیا ہوتا؟ دوست چلا گیا۔ دوست نے بادشاہ کا اعتماد جیتا اور اسکے خاص غلاموں میں شامل ہوگیا جو ہروقت بادشاہ کی خدمت کیلئے حاضر رہتے۔ بادشاہ اکثر اسے دوسرے غلاموں سے کھسر پھسر کرتے دیکھتا۔ ایکدن اپنے غلام سے پوچھا آخر یہ کیا کہتا ہے۔ غلام نے جان کی امان پا کر عرض کی کہ یہ کہتا ہے بادشاہ سلام...