اشاعتیں

مارچ, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

short story

kahani ek ujray shehar ki

کہانی ایک اجڑے شہر کی نام سمجھو شہر خموشاں عوام اسکے تھے بالکل عام سےتھے خاموش رہتےانجان ہر زبان سے تھے عروج حاصل تھا انہیں دانشوروں کی نسبت سبھی با شعور تھے سیکھا کرتےعلم و حکمت ایک دن آئے انکے شہر میں اہل علم پاس جن کے تھی لمبی زبان اور ایک قلم سکھایا انہوں نے شہر کے باسیوں کو بولنا لفظ لفظ کہنا بات بات کو تولنا۔ لفظوں آوازوں سے پر شہر کی فضاء ہوئی کہنے والوں کے منہ کھلے خاموشی بد مزا ہوئی علم وحکمت دور ہوئی ان پر تنزلی آتی گئ شوریدہ سری نے سر ابھارا بے رحمی چھاتی گئ بولنے والوں نے بولا اہم علم سے اتنا بتائو سکھا دیانا سب ہمیں ؟اب تم لوگ جائو اہم علم ہوئے پریشان حیران و خاموش کون جیت سکا ہے جب ہو سامنےجہل و جوش باندھا اپنا بوریا بستر راتوں رات شہر چھوڑ گئے علم و ہنر سے بھرا صندوق ، کنجی بھی توڑ گئے سوچا کوئی تو انکا سامان اٹھائے گا جو اٹھائے گا کچھ تو دھیان لگائے گا صندوق کھول کے شہر کےلوگ حیران ہوئے ایک بھونپو چھوڑا اورایک خط وہ بدگمان ہوئے اہل علم سے بولنا سیکھا پڑھنے سے رہے نابلد بھونپو بجا کر سوچا ڈال لی آسمان پر کمند ہنرمندان شہر نے ایسے پھرکئی  اوربھونپو بنائے ہر شخص کے ہات...

آپ کہانی

تصویر
آسمان کہانی ایک تھا پہاڑ بہت اونچا تھا اتنا اونچا کہ اسکو وہم ستانے لگا کہ وہ ہی آسمان تھامےہے وہ نہ ہو تو آسمان گر جائے۔ پرندے اڑتے آسمان میں کبھی پہاڑ کی چوٹی پر۔جا بیٹھتے تو پہاڑ اترا کر کہتا میرا احسان مانو میں نے آسمان تھام رکھا ہے ورنہ تم لوگ کہاں اڑتے۔ پرندے جنکی پرواز محدود تھی سر ہلاتے شکریہ ادا کرتے  ایک دن روپل کا گروفن گدھ اس پہاڑ پر آبیٹھا۔ پہاڑ نے حسب عادت شیخی بھگاری۔ گدھ ہنسا۔بولا تم سے کہیں اونچا ہے آسمان جہاں تک میری رسائی ہے۔ پہاڑ نہ مانا کہنے لگا بکواس کرتے ہو۔  گدھ نے کہا ٹھیک ہے میں اونچی اڑان بھرتا ہوں تم میری دم چھو لو۔مان لوں گا کہ تمہاری رسائی آسمان تک ہے۔  پہاڑ مان گیا۔ گدھ نے اڑان بھری قلابازی کھائی آسمان میں گم گیا۔ پہاڑ کو اپنی اوقات پتہ لگی کوئی اس سے بھی اونچا ہے۔ مگر ماننا سرشست میں نہ تھا۔ پرندے جمع کرکے تقریر جھاڑنے لگا۔ دیکھو روپل کا گروفن گدھ مجھے کیا کہہ گیاکہتا یے آسمان مجھ سے اونچا ہے اور میں نے تھام نہیں رکھا اگر تھام رکھا ہے تو ذرا اسکی دم تھام کر دکھائوں اب بتائو اتنے عرصے سے آسمان تھامے ہوں اسکی دم تھامنے کو ہاتھ بڑھایا تو آسمان...

ڈھکن کہانی

تصویر
ایک تھا فلسفی اسے ڈھکن جمع کرنے کا شوق تھا ۔ ہر طرح کے ہر قسم کے ڈھکن اسکے پاس موجود تھے۔اتنے ڈھکن تھے کہ وہ ڈھکنوں کا مینار بنا سکتا تھا۔ مگر اس نے کبھی ڈھکنوں کا مینار کسی کو بناتے نہیں دیکھا تھا سوچا ڈھکن سجائے پھیلائے شائد کچھ بن ہی جائے۔ ایکدن وہ اسی طرح ڈھکن پھیلائے سجائے بیٹھا تھا۔ کچھ ڈھکن ایک جیسے تھے کچھ ڈھکن مختلف تھے۔ کچھ بڑے ڈھکن تھے کچھ چھوٹے ڈھکن تھے۔ ڈھکنوں کی اتنی اقسام تھیں کہ اسے سمجھ نہ آیا ڈھکنوں کا کیا کرے۔ خیر ڈھکن تو ڈھکن ہوتے ہیں کچھ نہ بھی کریں ڈھکنے کے کام آجاتے یہ سوچ اسکی عقل ڈھک گئی تھئ۔یہ سوچ کر اس نے ڈھکنوں کو ڈھکنوں سے ڈھکا اور ڈھکنوں کو چھوڑ کر یہ سوچنے بیٹھ گیا کہ ڈھکن  کا کیا کرے۔۔تبھئ اور کچھ ڈھکن آئے۔۔  فلسفئ نے توجہ نہ کی وہ ڈھکن اب مزید تب ہی جمع کرنا چاہتا تھا جب اسکو کوئی اچھوتا خیال آجائے کہ ان ڈھکنوں کا کوئی مصرف سوجھ جائے۔۔  ڈھکن بڑھتے گئے۔ فلسفی ان ڈھکنوں کے ڈھیر میں دب کر مر گیا۔  نتیجہ: ڈھکن کو اپنی عقل نہ ڈھکنے دیں۔۔  از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom #urdupoetry #urdushortstories #shayari #l...