روبوٹ۔۔افسانہ robot afsana

روبوٹ
میرا شانہ ہلاتے ہوئے اس نے اپنے مخصوص انداز میں مجھے جگایا تھا۔۔
اٹھ جائیے صبح کے آٹھ بج گئے ہیں۔ اس نے کہتے ہوئے گرم گرم چائے کا مگ میری مسہری کے ساتھ میز پر رکھ دیا تھا۔۔
میں انگڑائی لیتا ہوا اٹھ بیٹھا۔۔
میرے کپڑے استری کر دیئے تھے۔۔
میں نے معمول کا سوال کیا حالانکہ اسکا جواب مجھے معلوم تھا۔۔ وہ کر چکا ہوگا۔۔ یہ اسکا روز کا  کام تھا رات سونے سے پہلے وہ یہ سب کام نپٹا دیتا تھا
ہوں ۔۔ مختصر جواب ملا۔۔
میں مطمئن ہو کر اٹھ بیٹھا اور ہاتھ بڑھا کر چائے کا کپ اٹھا لیا اور چسکیاں لینے لگا۔۔ وہ ابھی بھی میرے سر پر کھڑا تھا
اب سر پر سوار کیوں ہو جائو ناشتہ بنائو۔۔
مجھے اچھی خاصی چڑ آئی۔۔ پانچ سال ہونے کو آئے تھے اس روبوٹ کو مجھے گھر لائے آج بھی مجھے اسکو ہر بات نئے سرے سے سکھانی پڑتی تھی۔ ہر روبوٹ کی طرح اسکا دماغ تو تھا نہیں۔۔ یا یوں سمجھئے پچھلے پانچ سالوں سے میں جو جو اسکی یاد داشت کی چپ میں بھر رہا تھا اسکی بھی جگہ ختم ہو چکی تھی بس اب یونہی دھکا شروع ہو گیا تھا ۔
میرے چڑنے پر وہ روبوٹ پلٹ کر شائد باورچی خانے میں چلا گیا تھا۔۔ میں اطمینان سے اگلے پندر منٹ میں چائے پی کر موبائل کے سب پیغامات اور سماجی رابطے کی تمام تر سائیٹس کی بے مصرف اطلاعات دیکھ کر اٹھا۔۔ نہا دھو کر داڑھی بنا کر اپنی چکنی جلد پر آفٹر شیو لوشن رگڑتا باہر نکلا تو وہی عاجز شکل والا روبوٹ منتظر کھڑا تھا۔۔
ناشتہ تیار ہے ۔۔آجائیں۔۔
وہ کہہ کر اس بار مزید میرے حواسوں کا امتحان نہ بنتے ہوئے پلٹ گیا۔۔
میں تیار ہو کر جب ناشتے کی میز پر پہنچا تو وہ خالی میرا منہ چڑا رہی تھی۔۔ ابھی مجھے غصہ آنے ہی لگا تھا روبوٹ بھاگتا ہوا آیا اور بھاپ اڑاتا ہوا پراٹھا اور آملیٹ میرے سامنے رکھ دیا۔۔
پہلے سے رکھا ہوتا تو ٹھنڈا ہو جاتا۔۔ روبوٹ نے صفائی دی۔۔
چائے؟۔۔ میری تیوری پھر بھی چڑھ گئ۔۔
ایک منٹ۔۔ وہ گھبرا کر پلٹ گیا۔۔
اف۔۔ ایک ناشتہ تک ڈھنگ سے بنانا آج تک نہ سیکھا تم نے۔۔ جانے کونسا منحوس وقت تھا جو تمہیں گھر لے آیا۔۔ میں بڑ بڑانے والے انداز میں اچھا خاصا اونچی آواز میں بول رہا تھا۔۔ مقصد اس غبی روبوٹ کو سنانا ہی تھا مگر ایک حسیات سے عاری مشین پر کیا فرق پڑنا تھا سپاٹ چہرے کے ساتھ اس نے چائے کا کپ بھی لا رکھا اور کسی معمول کی طرح ہاتھ باندھے میرے پیچھے مئودب کھڑا ہو رہا۔
میں ناشتہ کرکے دفتر جانے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
وہ روبوٹ مجھے دروازے تک چھوڑنے آیا۔۔ روبوٹ بے چین سا تھا میں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسے ابھی اسٹآرٹ کر رہا تھا کہ وہ کھڑکی پر جھک ایا
میری بیٹری کمزور ہو رہی ہے مجھے چارجنگ کی ضرورت ہے۔۔
اف ۔۔ میں جھلایا۔۔
کوئی اندازہ ہے بجلی کتنی مہنگی ہے پاکستان میں تم جیسا ناکارہ روبوٹ کتنا مہنگا پڑتا۔۔ اوپر سے دن بہ دن تمہاری بیٹری بھی کمزور ہوتی جا رہی ہے ہر وقت کی چارجنگ نرا خرچہ۔۔ شام تک گزارا کرو۔۔ اسی بیٹری میں کام کم کرنا۔۔ میں واپس آکر خود چارجنگ پر لگالوں گا۔۔
میں نے جھڑک کر رکھ دیا۔۔
مگر پھر مجھے کل دگنا کام کرنا پڑے گا اگر اج کا کام کل پر چھوڑا تو۔۔
روبوٹ منمنایا۔۔
میں کینہ توز نظروں سے گھور کر رہ گیا۔۔
ٹھیک ہے لگ جائو جارجنگ پر مگر ایک گھنٹہ بس۔۔ میں ایک گھنٹے بعد فون کر کے خود پوچھوں گا کتنی بیٹری ہوئی۔
میں نے احسان کرنے والے انداز میں اجازت دی۔۔
وہ روبوٹ سر ہلا کر پیچھے ہٹ گیا۔۔ میں نے گاڑی نکال لی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دفتر میں آکر کاموں میں لگ کر میں بھول بھال گیا۔۔اینڈروائڈ روبوٹ سیلف چارجنگ کے بعد خود میسج کر کےبتا دیتا ہے کتنا چارج ہوا کتنی بیٹری رہ گئ۔میرا روبوٹ پچھلے زمانے کا ہے اینا لوگ۔۔یہ وہی کام سر انجام دے سکتا بس جومیں فیڈ کروں اب چونکہ میں فید کرکے آیا تھا تو ٹھیک ایک گھنٹے بعد پچپن فیصد بیٹری چارج کا پیغام آچکا تھا ۔ میں نے موبائل پر آیا پیغام دیکھا پھر اسے ایک۔طرف رکھ دیا۔۔
یار ساجد ایک فائل دیکھ لے۔۔ میرا کولیگ اور بچپن کا دوست عقیل بےتکلفی سے کمرے میں داخل ہوا اور فائل میرے سامنے میز پر رکھتا ہوا بولا۔۔
ایس اینڈ سنز ۔۔ میں نے فائل پر نام پڑھا اور گھور کر دیکھا اسے۔۔
ایس اینڈ ایس کے اکائونٹس کی فائل ابھی تک تو نے نہیں دیکھی آج شام کو باس کو میں تیرا بوتھا رکھ کر دکھائوں گا۔۔
میں بنا لحاظ چلایا۔۔ جوابا وہ مسمسی سی شکل بنا کردیکھنے لگا۔۔
یار قسم سے مجھے وقت نہیں ملا کل بھی جلدی نکلنا پڑا میرا روبوٹ دو دن سے مسلہ کر رہا تھا اسکی بیٹری پھول گئی تھی وہی بدلوانے ایک سے دوسری لبارٹری پھرتا رہا بالکل یاد نہیں رہا کل ایک۔نئے سائنسدان کا کسی نے پتہ بتایا ہے ابھی جا رہا ہوں وہیں دکھانے ورنہ ابھی کر کے جاتا یہ کام۔۔
وہ بے چارگی سے مجھے دیکھ رہا تھا
حد کرتا ہے تو۔۔ میں ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔
کس نے کہا تھا جدید ترین روبوٹ لینے کا نازک ہوتے انکا ایسے ہی خیال رکھنا پڑتا میری طرح ایک درجہ کم تر روبوٹ لیتا خود کار بھی ہے سال دو سال میں کبھی بس بیٹری بدل دیتا یہ اینڈروائڈ
روبوٹ ناکارہ ہوتے خود کار حافظہ انکو ہر وقت متحرک رکھتا پھر ایسے ہی آئے دن بیٹری ختم ہوتی رہتی۔۔ میں نےمفت مشورے سے نواز ا عقیل کے چہرے کے تاثرات سنجیدہ سے ہو گئے
میں اپنے فیصلے پر مطمئن ہوں۔۔ مجھے اپنے روبوٹ سے کوئی شکایت نہیں۔۔ باقی ہر مشین کی طرح اسے بھی دیکھ بھال کی ضرورت پڑتی ہے
ہمیشہ کیلیئے تو انسان کے بھی کل پرزے نہیں ہوتے خیال رکھنا ہی پڑتا ہے خیال رکھوانے کیلیئے۔۔ روبوٹ کو بیوی بنالو۔۔ مگر  بیوی کو روبوٹ نہیں۔۔ کیونکہ روبوت بس مشین ہوتی اسکے جزبات اور احساسات نہیں ہوتے۔۔۔
وہ بولتا چلا گیا۔۔ میں نے بیزاری سے دیکھا۔۔
ایک سائنسدان کو بتا رہا کہ اسکو اپنی بنائی مشین کی دیکھ بھال کیسے کرنی چاہیئے۔۔
میں نے کہا تو وہ چپ ہوگیا۔پھر مزید کچھ بھی بولے بغیر چلا گیا۔۔
ہائش۔۔
روبوٹ انسان اپنے کام کروانے اپنی خدمت کیلیئے بناتا ہے اب اسکی خدمت میں لگ جائیں تو چہ معنی دارد ۔احمق غبی۔۔
مالک اور ملازم برابر ہو سکتے؟۔۔ میں نے جھلا کر فائل پٹخ دی میز پر۔۔
یہ روبوٹ مجھے وراثت میں ملا ہے۔۔ اس سے جو کام لیا جا سکتا میں لیتا۔۔مزید کیا اب اسے سر پر بٹھا لوں۔۔ میں جھلایا۔۔
میں بچپن سے روبوٹ استعمال کر رہا کوئی اسکی طرح جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے میرے ابا بہت بڑے سائنسدان تھے انہوں نے بھی ایسا ہی روبوٹ بنایا تھا وہ اسے ایسے ہی استعمال کرتے تھے انکا بنایا روبوٹ تو اب اپنا وقت پورا کر چکا تھا اب تو خیر اس روبوٹ کو بنانے والا بھی نہیں رہا تھا میں البتہ اپنے بنائے گئے روبوٹ کو ہرگز بھی رعائت دینا پسند نہیں کرتا تھا۔۔
میں ہر چیز کو اسکے مقام پر ہی رکھنا پسند کرتا ہوں۔۔ میں نے فخر سے گردن اکڑائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کو جب میں گھر داخل ہوا تو روبوٹ نے پورا گھر چمکا رکھا تھا۔۔ میں کپڑے بدل کر منہ ہاتھ دھو کر نکلا تو گرما گرم کھانا میز پر چنا رکھا تھا۔۔ میں بیٹھ کر رغبت سے کھانے لگا۔۔
کھانا ختم کرتے ہی چائے کا گرم بھاپ اڑاتا مگ سامنے تھا۔۔ میں مسکرا دیا۔۔
جو بھی تھا پانچ سال اس روبوٹ میں اپنی مرضی کا ڈیٹا بھر کر اسے اپنی مرضی کے مطابق اطاعت گزار روبوٹ بناتے مجھے انسیت سی ہو ہی گئ تھی اس روبوٹ سے
روبوٹ جوابا اسی سپاٹ چہرے کے ساتھ مجھے دیکھتا رہا۔
کیا کیا کام کیئے دن بھر ۔۔ میرا انداز لگاوٹ بھرا تھا۔۔
کپڑے دھوئے صفائی کی کھانا پکایا چارجنگ پر لگایا
بس ۔۔ سارے دن میں بس اتنا سا کام ۔۔ میں بس سوچ کر رہ گیا
روبوٹ بات مکمل کر کے خاموش ہو گیا۔۔
اور ۔ میں شائد باتیں کرنا چاہ رہا تھا
اور کیا کہوں بتا دیں
روبوٹ ہی تو تھا اپنے زہن سے عاری الٹا مجھ سے ہی پوچھنے لگا۔۔
غبی روبوٹ اب باتیں کیا کرنی ہیں یہ بھی میں بتائوں۔۔ میں چڑ کر سوچنے لگا۔۔
روبوٹ چپ چاپ میری آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
یہی روبوٹ تھا جب تک میں نے اپنا ڈیٹا فیڈ نہیں کیا تھا بے معنی بے مقصد باتیں سارے دن کا احوال سب فضول سے فضول بات تک مجھے بتاتا تھا۔۔
میں سارا دن دفتر میں سر کھپا کر آتا اور روبوٹ بک بک کرکے دماغ خالی کر دیتا تھا۔۔
تنگ آکر میں نے اسکی دوبارہ پروگرامنگ کی تھی۔۔ تب جا کر سکون ہوا مگر آج جانے کیوں میرا دل چاہا روبوٹ پہلے کی طرح بک بک کرے مگر آج روبوٹ ساکت بیٹھا رہا۔۔
میں بیزار سا ہو گیا۔۔
بے کار روبوٹ مالک کیا چاہتا یہ بھی خود سے سمجھ نہیں سکتا۔۔میں نے چڑ کر ٹوکا۔۔
آپ کی ہی پروگرامنگ ہے۔۔ روبوٹ ہنس کر بولا اور برتن سمیٹنے لگا۔۔
ہائش۔۔ میں جانے کیوں عاجز سا محسوس کر رہا تھا۔۔
فارغ ہو کر سیدھا کمرے میں آنا۔۔ میں حکم دیتا ہوابڑ بڑاتا ہوا کمرے میں چلا آیا
غبی روبوٹ۔۔
روبوٹ باورچی خانے میں برتن سنک میں رکھتا استہزائیہ ہنسا
غبی روبوٹ۔۔ اس نے مالک کے الفاظ دہرائے ۔۔
اسے ہنسی آگئ۔۔
آپکی ہی پروگرامنگ ہے۔۔ روبوٹ نما بیوی ہنستے ہنستے رو پڑی۔


از قلم ہجوم تنہائی

sad urdu poetry main hunsta tha


میں ہنستا تھا
اتنا کہ لوگ تھے کہتے
یہ دنیا میں ہنسنے آیا ہے
میں ہنس کر تھا کہتا
کبھی رویا تو غضب ڈھا ونگا
آج جب میں رویا
ساتھ یہ بھی سوچا کیا
میں نے
آج غضب ڈھایا ہے
؟
سوچتے ہوئےیہ
مجھے تھوڑا اور رونا آیا ہے
از قلم ہجوم تنہائی

A tribute to kpop star late jong johyun from group shinee in urdu

خو د کشی سے پہلے میرا آخری خط۔۔۔
مجھے آج اپنا آخری خط لکھنا ہے۔۔
کس کے نام لکھوں۔۔؟
انکے جن کی وجہ سے
آج میں اس مقام پر ہوں۔۔ کہ مجھے سامنے اپنے بس اندھیرا نظر آتا ہے۔
یا انکے نام جن سے میرا کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا۔۔
عجیب بات ہے نا۔۔ مگر آج میرا مخاطب اس دنیا کا ہر وہ فرد ہے جو اس دنیا میں اس وقت موجود ہے۔۔
چلو تو سنو۔۔
یہ میرا آخری خط ہے۔۔
اسکے بعد نہ تو کبھی میری صورت دکھائی دے گی
نہ کبھی میری آواز سنائی دے گی۔ اب تم لوگ کہوگے
تو کیا ؟۔۔
ہا ہا۔۔ تو کیا۔۔
تو یہ کہ۔۔
مجھے بھی ویسی ہی زندگی ملی جیسی تم سب کو ملی۔۔ مگر میرا انجام تم سب سے مختلف کیوں ہے؟۔۔
مجھے بڑھاپے تک جینا کیوں مشکل لگ رہا۔
میں اپنی جوانی میں ۔۔ قبر میں جا لیٹنے جیسی مایوس کن سوچ کا شکار کیوں ہوں۔۔
تو سنو۔۔
میرے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔۔
یوں کہو۔۔
میرے ساتھ دنیا نے اچھا نہیں کیا۔۔
یوں کہو۔۔
مجھے سب نے چھوڑ دیا۔۔ شائد اس نے بھی جو مجھے تمہیں سب کو پیدا کرنے والا ہے۔۔
مگر نہیں۔
اس سے مجھے شکوہ نہیں۔۔
عجیب بات ہے نا۔۔
برا لوگ کرتے خفا ہم خدا سے ہو جاتے۔۔
نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔۔ میں خدا سے ناراض نہیں۔ ورنہ اسی کے پاس چلے جانے کی خواہش کیوں ہوتی میری؟۔۔
میں تو بس۔
چلو چھوڑو۔۔
مجھے لگتا ہے میں نے اپنی بساط کے مطابق سب اچھا کیا۔۔ اس سے زیادہ میرے بس میں ہی نہیں ہوگا۔
تو اگر مجھ سے کوئی شکوہ ہو تو معزرت میں بس اپنے آخری وقت میں اور کہوں بھی تو کیا۔۔
تو خدا حافظ دنیا۔۔
اب مجھ سے اور جیا نہیں جاتا۔۔
ختم شد۔۔
میں نے سطروں پر نظر دوڑائی۔۔
ایک اطمینان میرے رگ و پے میں دوڑ گیا۔۔
میرا آخری سفر اب آسان ہوگا۔۔ میں نے سوچا۔۔
میرے کچن میں ایک فرائی پین چولہے پر چڑھا ہے۔۔ اس پر ایک خاص مرکب دم دے رہا ہے۔۔
اس کے دھوئیں نے میرے پورے اپارٹمنٹ کا احاطہ کرنا شروع کر دیا ہے۔۔ میں اپنے بستر پر نیم دراز ہو گیا۔۔ آنکھیں زندگی میں بند کروں یا موت کو اپنے حواس مختل کرنے تک انتظار کروں
بس میں یہی فیصلہ کرنے لگا ہوں۔۔
آپ شائد متجسس ہیں ۔۔
میں کون۔۔؟۔۔۔
میں ایک ترقی یافتہ ملک کا مشہور ترین گلوکار ہوں ایک دنیا اس شہرت کے مزے لینا چاہتی جو میرے گھر کی باندی ہے جسکے پاس اتنا پیسہ ہے کہ وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بقیہ عمر کھا سکتا ہے۔۔ ہا ہا ہا۔۔
میں ہاں۔۔ میں۔جونگ جوہیون۔۔ شائینی گروپ کا لیڈ سنگر۔۔
از قلم ہجوم تنہائی

بے بسی کہانی۔۔ be basi kahani

بے بسی کہانی
ایک بار ایک بڑا سا بحری جہاز جو مسافروں سے بھرا ہوا تھا بیچ سمندر میں جا کر ڈوبنے لگا۔۔
سب مسافروں میں بھگدڑ مچنے لگی سب کے اوسان خطا ہو گئے کوئی مددگار کشتیوں کو بلانے کے اشارے بھیجنے لگا کوئی جہاز میں موجود امدادی سامان جمع کرنے دوڑا کسی کو ڈوبنے سے بچنے کو جہاز میں موجود مددگار چھوٹی کشتی درکار تھی۔۔ کوئی بس ڈوبنے سے بچانے والی جیکٹ پہن کر مطمئن ہو چلا تھا۔۔
جہاز کا کپتان خاموشی سے بیٹھا سب کی افراتفریح دیکھ رہا تھا کسی سے رہا نہ گیا پہنچا اسکے پاس سخت سست سنانےلگا۔۔
تمہاری غلطی ہے جو جہاز ڈوب رہا کم از کم اب تو اسے بچانے کی کوشش کر لو ہاتھ پر ہاتھ دھرے مت بیٹھے رہو۔۔
کپتان خاموشی سے سنتا رہا۔۔
کچھ لوگ آگے بڑھے اور کسی کو سنبھالنے لگے
بجائے اسکے کپتان کو برا بھلا کہو اپنی مدد آپ کرو۔
وہ آدمی غصے سے چلایا۔
تم کچھ کرتے کیوں نہیں ہو؟۔۔
کپتان مبہم سا مسکرایا اور بے چارگی سے بولا۔۔
میں کچھ نہیں کر سکتا۔۔
نتیجہ:کبھی کبھی زندگی میں ایسے موڑ آتے ہیں جب آپ کچھ نہیں کر سکتے تو تب آپ واقعی کچھ نہیں کر سکتے ہوتے ہیں۔۔
از قلم ہجوم تنہائی

پڑوسی کہانی

پڑوسی کہانی۔۔
ایک تھا مجو۔۔
اس کا پڑوسی بھی تھا سجو۔۔
اب مسلئہ یہ تھا کہ سجو نے بھینس پالی ہوئی تھی
مسلئہ یہ سجو کا نہیں تھا
مسلئہ مجو کا تھا کہ بھینس ہمیشہ اسکے گھر کے آگے آکر گوبر کر دیتی تھی
مجو روز اسکا گوبر اٹھاتا
مگر کبھی سجو سے شکایت نہ کی۔۔ ایک دن سجو غصے میں لال پیلا مجو کے گھر آیا
آتے ہی بلا لحاظ چلا کر بولا۔۔
پکڑو اپنے مرغے کو میرے گھر کے دروازے پر بٹ کر آیا ہے ۔۔۔ تمہارا مرغا ہے سنبھال کر رکھو اسے آئندہ میرے دروازے پر بٹ کی تو حلال کر دوں گا۔۔
مجو حیران پریشان کھڑا سوچ رہا تھا
 مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا ایک مسلئہ میں نے پال رکھا ہے کسی کیلئے۔
نتیجہ۔۔پڑوسی نے بھینس پالی ہو تو کبھی نہ کبھی اسکا گوبر آپکو اٹھانا ہی پڑتا۔۔
بھینس اور گوبر یہاں استعارے ہیں۔۔۔


از قلم ہجوم تنہائی

Maafi معافی

Maafi short urdu nazm

Ay tahi daman wajood...
apni kotahyoun pe nadim ha...???
aaho zari kerta ha...???
Tu kabhi ...
na Bargah e Ilahi me jhuk saka...
apne wajood ki alaisho ka weham liay...
sun nadaan...
tu kia janay...
jin baymaya hatho ko tu na phaila saka...
dua k lie...
na jor ska mafi k liye...
haan...
yeh tery hath...
hain takhleeq uski...
wo zaat jo paak hay...

By hajoom e tanhai
اے تہی دامن وجود
اپنی کوتاہیوں پر نادم ہے؟
آہ و زاری کرتا ہے
تو کبھی
نہ بارگاہ الہی میں جھک سکا
اپنے وجود کی آلائیشوں کا وہم لیئے
سن نادان
تو کیا جانے

جن بے مایہ ہاتھوں کو تو نہ پھیلا سکا
دعا کیلئے
نہ جوڑ سکا معافی کیلیئے
ہاں یہ تیرے ہاتھ
ہیں تخلیق اسکی
وہ زات جو پاک ہے۔۔



از قلم ہجوم تنہائی

sochain short urdu poem ...مختصر اردو نظم سوچیں

boht socha aj mene k main kia kia sochoun...
phr sochta houn sochna kia k kia kia sochoun...

socha akhir kuch mene ab is soch me gum houn...
sochta houn k kia bataon main kia kia sochoun...

itna socha sochain meri khud soch me per gaen...
sochta kitna hay is soch ko k main kia kia sochoun...

sochtay ho tum k socha mene akhir ab kia hay...
me yeh sochoun tujh ko laga kia main kia kia sochoun...

tanhai me sochoun hajoom mery gird sochta hy ye...
hajoom me sochoun tanhai main main akhir kia kia sochoun..


by hajoom e tanhai 
مختصر اردو نظم 
سوچیں 
بہت  سوچا  آج  میں نے  کہ  میں  کیا  کیا  سوچوں ...
پھر  سوچتا  ہوں  سوچنا  کیا  کہ  کیا  کیا  سوچوں ...

سوچا  آخر  کچھ  میں نے  اب  اس  سوچ  میں  گم  ہوں ...
سوچتا  ہوں  کہ  کیا  بتاؤں  میں  کیا  کیا  سوچوں ...

اتنا  سوچا  سوچیں  میری  خود  سوچ  میں  پڑ گیں ...
سوچتا  کتنا  ہے  اس  سوچ  کو  کہ  میں  کیا  کیا  سوچوں ...

سوچتے  ہو  تم  کہ  سوچا  میں نے  آخر  اب  کیا  ہے ...
میں  یہ  سوچوں  تجھ  کو  لگا  کیا  میں  کیا  کیا  سوچوں ...

تنہائی  میں  سوچوں  ہجوم  میرے  گرد  سوچتا  ہے  یہ ...
ہجوم  میں  سوچوں  تنہائی  میں  میں  آخر  کیا  کیا  سوچوں ..

از قلم ہجوم تنہائی

مردہ کہانی


مردہ کہانی 
ایک تھا سائیں ایک ویرانے میں اسکا پڑاؤ تھا آتے جاتے مسافر کبھی کبھی اسے کچھ اشیاء خورد و نوش فراہم کر دیتے تھے سو وہ گزر بسر کر لیتا تھا کئی سال گزرے 
ویرانہ ویرانہ نہ رہا آبادی بڑھتے بڑھتے وہاں تک آ پہنچی سائیں کا سکون تباہ ہوا لوگ آتے جاتے چھیڑ جاتے بچے پتھر مار کر ہنستے سائیں جو کئی  عشروں سے خاموش تھا اپنی چپ توڑ بیٹھا ہوا کچھ یوں 
وہ اپنے دھیان میں سر نہیہوا ڑے دیوار سے پشت ٹکایے بیٹھا تھا 
روز لوگ آتے جاتے جملے کستے 
چپ سہتا رہا 
بچے پتھر مار کر بھاگ جاتے خاموش رہا 
کچھ من چلے اسکے سامنے کھڑے ہو کر اسکو مجنوں کہنے لگے اسکی نقل اتار اتار کر اسکے انداز سے چل کر اسے چڑا رہے تھے 
ملنگ اٹھ کھڑا ہوا دھاڑ کر بولا 
دور ہو جاؤ نا خلفوں اس سے قبل میرا غضب میرے قابو سے باہر ہو جایے 
من چلے دبک گیے کوئی دور سے یہ منظر دیکھ رہا تھا پاس آیا اور حیرت سے ملنگ سے دریافت کیا 
لوگ پتھر مارتے رہے تم سہ گیے جملے کستے رہے تم سہتے گیے آج معمولی من چلوں کی شرارت پر اتنا غیظ آخر کیوں؟
ملنگ پھیکی ہنسی ہنس دیا 
ملنگ کی بھی برداشت کی حد ہوتی ہے چاہے کسی عام انسان کے مقابلے میں کہیں زیادہ در میں ختم ہوتی ہے مگر ہو جاتی ہے 
وہ تو ٹھیک ہے 
کوئی بات کاٹ کر بولا 
مگر ملنگ کو کیا فرق پڑتا لوگوں سے
نہیں پڑتا فرق ملنگ ہنسا 
مگر پڑتا ہے فرق 
سننے والا سہنے والا کبھی نہ کبھی ہار جاتا ہے 
مگر کوئی ابھی بھی اپنی بات پر اڑا
مگر دنیا میں ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جنکو آپ کچھ کہ دیں جواب نہیں دیتے انکو مار کر بھاگ جو اف نہ کہیں گے ...
ہاں ... ملنگ نے ٹھنڈی سانس بھری 
ہوتے ہیں مگر انسانوں میں سے ایسے لوگ جانتے ہو کون ہیں ؟
ملنگ نے اپنی سرخ آنکھیں اس کے چہرے پر جمائیں 
کوئی متجسس ہو کر پوچھ بیٹھا 
کون ہیں >؟
مرے ہوئے لوگ 

نتیجہ : جو سہہ رہا ہے نا ... ہمیشہ نہیں سہے گا 


از قلم ہجوم تنہائی

قنوطی کہا نی ...qanooti kahnai



قنوطی کہا نی
ایک بار ایک قنوطی اکیلا بیٹھا وقت گزاری کے لئے اچھا اچھا سوچنے لگا جیسے کہ وہ آج اداس نہیں ہے خوش ہے
وغیرہ وغیرہ
پھر اس نے قنوطیت سے سوچا 
یہ سب تو میں نے سوچا ہی ہے بس
نتیجہ : خود سوچیے
از قلم ہجوم تنہائی

qanooti kahani 
ek baar ek qanooti akela betha waqt guzari ke liye acha acha sochnay laga jesay k woh aaj udaas nahin hay khush hay waghera waghera
phir us ne qanootiat say socha 
yeh sab tu main ne socha hi hay bs 
nateeja : khud sochiye 
by hajoom e tanhai 

اوپر کہانی ... ooper kahani


اوپر کہانی 
ایک تھا ابا بیل ہوا میں ا ڑتا پھرتا 
اسے سب سے اونچے مقام پر پہنچنا تھا ایک دن وہ اڑتا گیا 
اڑتا گیا پہاڑ کی چوٹی پر جا پہنچا 
نیچے دیکھا تو احساس ہوا اونچے مقام پر پہنچ گیا ہے چھوٹے پرندے تو سو چ بھی نہیں سکتے سینہ پھلا کر بیٹھ گیا تبھی ایک باز اڑتا آیا اس کے پاس سے گزرا خیر سگالی مسکراہٹ


اچھالی اوپر  اڑ گیا ابا بیل حیران ہو کر اوپر  دیکھنے لگا اوپر  اس سے بھی اونچا پہاڑ تھا جس پر بیٹھ کر وہ اترا رہا تھا اسکی گردن اتنی انچائی دیکھتے تھک گیئی 
اس کا توازن بگڑا گر پر ا
نتیجہ : جہاں لگنے لگتا کہ اپ بہت اونچائی پر جا پہنچے  ہیں وہاں سے پھر اوپر نہیں نیچے جاتے ہیں


از قلم ہجوم تنہائی


oper kahani
ek tha ababeel hawa main urta phirta 
usay sab say oonchay maqaam pr pohanchna tha ek din woh urta gaya 
urta gaya pahaar ki choti pr ja pohancha 
neechay dekha tu ehsaas hua oonchay maqam par pohanch gaya hay chotay parinday tu soch bhi nahin saktay 
seena phula kr beth gay tbhi ek baar urta gaya uske paas se gzra kher sagaali muskurahat uchaali oper ur gaya aba beel heraan ho kar oper dekhne laga oper us se bhi ooncha pahaar tha jis per beth kar woh itra raha tha uski gardan itni oonchaai dekhne zsay thak gai uska tawazn bigra gir para 
nateeja : jahan agnay lgta k aap bht onchaai par ja pohanchay hain wahan say phir oper nahin neechay jaatay hain 

by hajoom e tanhai 

کچھ کہانی ... kuch kahani


کچھ کہانی 
ایک دفعہ کچھ ہوا ہی نہیں ۔۔۔
نتیجہ : کچھ نہیں


از قلم ہجوم تنہائی


kuch kahani 
ek dafa kuch hua hi nahin
nateeja : kuch nahi
by hajoom e tanhai 

تھوک کہانی... thook kahani




تھوک کہانی
ایک بار ایک مکڑی جالا بنا کر اونچے پہاڑ سے اتر رہی تھی
کیا دیکھتی ہے تیزی سے چڑھتی ایک چونٹی اس کی جال میں پھنس گی ہے
مکڑی ایک تو بھوکی نہیں تھی دوسرا اتنی سی چونٹی سے پیٹ نہ بھرتا اس نے سوچا چھڑا دے 
اسے اپنی طرف آتآ دیکھ کر چونٹی کے اوسان خطا ہو گے
مکڑی مسکرائی اسے بچایا پوچھا اوپر کاہے کو جاتی ہو
چونٹی بولی مقابلہ ہے مجھے پہلا انعام لینا ہے
مکڑی سر ہلا کر واپس ہو لی زمین پر پہنچی تو ڈھیر ساری بوندیں آ گریں اس نے چہرہ صاف کر کیے اوپر دیکھا درجنوں چونٹیا ں تھوک کر دیکھ رہی تھیں کس کا تھوک پہلے پہنچا
نتیجہ : تھوک نیچے پہلے جسکا بھی آیے جیت اسکی ہوتی جسکا تھوک کسی کے او پر نہ آیے
از قلم ہجوم تنہائی

thook kahani 
ek baar ek makri jaala bana kar oonchay pahaar se utar rhi thi 
kia dekhti hay tezi say cherhti ek chewnti uske jaal main phans gai hay 
makri ek tu bhooki nahin thi dosra itni si chewnti say uska pait na bharta us ne socha chura de
use apni taraf aata dekh kr chewnti ke osaan khata ho gaiay 
makri muskurai usay bachaya pocha oper kaahay ko jaati ho
chewnti boli muqabla hay mujhay pehla inaam lena hay 
makri sir hila kar wapis ho li
zameen pr phnchi tu dher saari bondain munh pr aa gireen 
usne chehra saaf kar ke oper dekha darjanon chewntiaan thook kr dekh rhi theen kiska thook pehle phncha 
nateeja : thook neechay pehle jiska bhi aayay jeet uski hoti jiska thook kisi ke oper na ayay
by hajoom e tanhai 

ہتھیار کہانی .. hathyaar kahani

ہتھیار کہانی 
ایک تھا باد شاہ اسکی سلطنت بہت بڑی  تھی کئی  سلطنتوں  کے با دشاہ اس پر قبضہ  کرنا چاہتے تھے 
با د شاہ  بہت پریشان تھا اس نے اپنی فوج بڑھا لی مگر پھر بھی جنگ کا خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا 
ایک دن بادشاہ اپنے سپاہ سالار سے اپنی  فوج کی صورت حال انکی مہارت اور طاقت کے حوالے سے تفصیلات سن رہا تھا کہ اسے خیال آیا کیوں نہ کوئی ایسا ہتھیار بنایا جایے جو بہت مہلک ہو اور اس کی سلطنت کی افواج کے سوا دنیا میں کسی کے پاس نہ ہو 
خیال آنا تھا کہ اس نے فورا ماہر ہتھیار ساز کو حکم دے ڈالا
دنیا کا سب سے مہلک اور انوکھا ہتھیار بنا لایے
ہتھیار ساز نے حکم سن تو لیا مگر پریشان ہو گیا
اپنی تمام تر صلاحیتیں آزما ڈالیں
سوچ کے گھوڑے دوڑ ایۓ ہر طرح کا ہتھیار بن تو چکا تھا تیر کمان سے لے کر تلوار تک چھری سے لے کر نیزے تک
آخر نیا کیا ہتھیار بنایے
سوچتا رہا خیر اسکے پاس وقت کم تھا اگر کوئی نیا ہتھیار بنایے بغیر بادشاہ کے حاضری دیتا تو آخری حاضری دیتا بادشاہ نے اسکا سر قلم کروا دینا تھا
کرتے کرتے وہ دن آ پہنچا جب اسے اپنا شاہکار ہتھیار پیش کرنا تھا بادشاہ کی خدمت میں
گھر میں حال سے بے حال سر پکڑے بیٹھا تھا جب سپاہی اسے لینے دروازے پر آ موجود ہوئے
ہاتھ میں لوہے کا ٹکڑا لئے بیٹھا تھا اسکو ڈھالنے کے لئے مگر کس شکل میں ڈھالے یہ سمجھ نہیں اتا تھا خیر سپاہی اسے اسی حالت میں لے کر بادشاہ کے پاس چلے آیے
ہتھیار ساز تھر تھر کانپ رہا تھا بادشاہ نے پوچھا بتاؤ کیا ہتھیار بنایا تو اس نے بے ساختہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کمر پر باندھ لئے بادشاہ نے اسکی حرکت کو تعجب سے دیکھا سپاہی کو اشارہ کیا
سپاہی بادشاہ کے ابرو کے اشارے کی تعمیل کرتا اسکے ہاتھ کھینچ کر بادشاہ کی نگاہوں کے سامنے پیش کر ڈالے
نوکدار تیر کی شکل کا لوہے کا ہتھیار دیکھ کر سخت برہم ہوا
اس تیر میں نیا کیا ہے ؟
ہتھیار ساز کا گلہ خشک ہوا
وہ یہ اتنا مہلک ہے کہ اشارے سے جان لے لیتا...
بادشاہ کو یقین نہ آیا
ٹھیک ہے اگر یہ واقعی مہلک ہے تو تم اسکو اپنی جانب نشانہ باندھ کر دیکھاؤ ...
ہتھیار ساز مایوس ہوا جانتا تھا یہ عام سا لوہے ٹکڑا ہے جو ابھی کسی شکل میں ڈھالا ہی نہیں گیا اس سے اشارہ کرنے سے کیا گھونپ لینے پر بھی بس زخمی ہی ہوگا مرنا تو دور کی بات ہے
خیر اس نے اپنی جانب اشارہ کیا اس ٹکڑے سے بلکہ گھونپ ہی لیا
اسکے کنارے بھی تیز نہ تھے گھونپنے پر بھی بس اسکے شکم پر نیل پڑ سکا خون تک نہ نکل سکا بادشاہ چراغ پا ہو گیا
تم انتہائی نالائق غبی اور بیکار انسان ہو ایک ہتھیار تک نہیں بنا سکتےماہر ہتھیار ساز بنے پھرتے ہو اس سے بہتر تھا تم لوہار کا کام سیکھ لیتے لوہے کے اس ٹکڑے کو کسی شکل میں تو ڈھال لیتے
ہتھیار ساز کی اس بے عزتی پر محل میں موجود افراد دبی دبی ہنسی ہنسنے لگے
ہتھیار ساز پر گھڑوں پانی پڑ گیا شرم سے ڈوب مرنے لگا
بادشاہ کے غیظ و غضب کی شہہ پا کر سب اسے سخت سست سنانے لگے
ہتھیار ساز کے پیٹ میں درد اتنا نہیں رہا جتنا دل میں اٹھ گیا
تڑ سے گرا گرتے ہی مر گیا
بادشاہ حیران رہ گیا
واقعی اس نے اتنا مہلک ہتھیار بنایا تھا کہ اسکے اشارے پر مر گیا ؟
محل میں بیٹھے دانش ور سے پوچھ بیٹھا
فلسفی مسکرایا اور بولا اس نے نہیں یہ ہتھیار عالی جاہ نے آزمایا تھا جو جان لیوا نکلا
نتیجہ : زبان کا وار کاری ہوتا ہے
از قلم ہجوم تنہائی

facebook

qarya qarya pages ki feed bs koi shanasa na mil saka...
char din na like kero newsfeed se nikal jatay hain log...
friend req jo bund milay poke ker k messg keraain...
add hotay hain baray shoq se phr ofline ho jatay hain log...
char pages thay mery jo visit ker lia main kerta tha...
ab comment kerty derta hun reply kernay lag jatay hain log...
main jab kuch post lagaon tag main option main nahi atay...
mujhay apni darjano pics main bilawaja tag jo ker jaatay hain log...
saaloun baat nahi kertay pochtay hain mujhse hain kon aap...
friend list se nikal detay hain mjhe jab jaan jatay hain log...
kisi jaanay walay se chupte phiry kae anjaan ids buna b leen...
ab ajnabi bun k mil lain yeh soch k phr mil jatay hain log...
close friend se restricted tak suffer angraizi wala kertay hain...
her status pe privacy alag fb pe b science laraty hain log...
profile pe privacy laga k sochtay hain k hum chup gayay...
friend suggestion k naam pe wohi phr takar jatay hain log...
dost k naam pe jama kertay rehay janay kitnay log hajooom...
ab followers ka button b aya hay kabi tanha b reh jatay hain log...

قریہ  قریہ پیجز  کی  فیڈ  بس  کوئی  شناسا  نہ  مل  سکا ...
چار  دن  نہ  لائک کرو  نیوز فیڈ سے  نکل  جاتے  ہیں  لوگ...
فرینڈ  ریکویسٹ   جو   بند  ملے  پوک  کر  کے  مسسج کریں ...
ایڈ ہوتے  ہیں  بارے  شوق  سے  پھر  ایف لائن ہو  جاتے  ہیں  لوگ ...
چار  پیجز  تھے  میرے  جو  وزٹ کر  لیا  میں  کرتی  تھی ...
اب  کمینٹ  کرتے  ڈرتی  ہوں  رپلائی  کرنے  لگ  جاتے  ہیں  لوگ ...
میں  جب  کچھ  پوسٹ  لگاؤں  ٹیگ  میں  آپشن  میں  نہیں  آتے...
مجھے  اپنی  درجنوں  پکس  میں  بلاوجہ  ٹیگ  جو  کر  جاتے  ہیں  لوگ ...
سالوں  بات  نہیں  کرتے  پوچھتے  ہیں  مجھ سے ہیں  کون  آپ ...
فرینڈ  لسٹ  سے  نکال دیتے  ہیں  مجھے  جب  جان  جاتے  ہیں  لوگ ...
کسی  جانے  والے  سے  چھپتے  پھرے  کئی انجان ائی ڈی بھی بنا لیں 
اب  اجنبی  بن  کے  مل  لائن  یہ  سوچ  کر پھر  مل  جاتے  ہیں  لوگ ...
کلوز فرینڈ  سے  ریستریکٹڈ  تک  سففر  انگریزی  والا  کرتے  ہیں  ...
ہر  سٹیٹس  پہ پرائیویسی الگ  ایف بی  پہ  بھی  سائنس  لڑاتے  ہیں  لوگ ...
پروفائل  پہ  پرائیویسی  لگا  کر  سوچتے   ہیں  کہ  ہم  چھپ  گیے ...
فرینڈ  سجسشن   کے  نام  پہ  وہی  پھر  ٹکر  جاتے  ہیں  لوگ ...
دوست  کے  نام  پہ  جمع  کرتے  رہے  جانے  کتنے  لوگ ہجو م...
اب  فولّورز  کا  بٹن  بھی  آیا  ہے  کبھی  تنہا  بھی  رہ  جاتے  ہیں  لوگ ...
از قلم ہجوم تنہائی

azadi march 2014


چپک چپک کے کریں مارچ کبھی یہ دونوں
جڑے ہوئے ہیں دھرنے کے لگا ہو جسے گم
ڈبل ڈبل ہوتی تھی کبھی کبھی جو پوندی
دھرنے میں جا کی بیٹھنے سے ہوئے حاف سے کم
تیرا میرا میرا تیرا تھا دھرنا سترنگی
کبھی کبھی بھنگڑے ہیں کبھی کبھی لڈی میں
کفن پوش تبدیلی...
جواری میں تو جھوٹا سا قادری
ملا اور سیاست دان کی کٹ گے دوری ہی ساری...
جواری میں تو جھوٹا سا قادری
ففٹی ففٹی ہر انقلاب میں حصّے داری...
ایک طرف تو جھگڑا ہے ساتھ پھر بھی تگڑا ہے
الطاف بھی سنگ چلتے ہیں رکتے ہیں کیا بات ہے...
دو طرح کے دھرنے بات کر کرکے مکرنے
کنٹینر میں رہتے ہیں واہ کیا ان کے ٹھاٹ ہیں...
کبھی کفن پہنے کبھی ڈر جایئں
پارلیمنٹ پی چڑھائیں پھر روک جائیں
کبھی مزاکرات توڑیں کبھی پھر جڑ جائیں
ہم شام سحر کے چاروں پہر انقلاب کی لوری سنائیں
جواری سا میں تو جھوٹا سا قادری...
اتر کے کنٹینر سے راحیل کو سلیوٹ ماری...
ہو رہا ہے معاہدہ مان لی حکومت کی بات ساری...
تیل بچنے جایے اب پوری قوم ہماری... 
از قلم ہجوم تنہائی

میں وہ متروک لفظ ہوں...


میں وہ متروک لفظ ہوں...
کتابوں میں نظر نہیں آتا
جھٹک کے ہاتھ قلم چلاتا ہے مصنف 
سیاہی دشمنی ایسی مجھے لکھا نہیں جاتا 
دکھائی دے جاؤں گر کسی کو سویے قسمت 
تلفظ غلط ہوگا ایسا صحیح پڑھا نہیں جاتا
مجھے زبان دانی میں تلاش کر لو تلاش لو لغت بھی
جو روز مرہ استمال ہو
زبان درازی میں میں نہیں آتا
میرے حرف کرب و فغاں سے ہیں سخن وروں کی زبان سے ہیں
مجھ میں تلاش راحت و مسرت نہ کر میں ان لفظوں میں نہیں اتا
ڈھونڈ تاریخ کے حوالوں میں مجھے الفت کے پیغاموں میں
میں داستانوں میں ذکر خاص تھا
اب مگر تصنیف میں نہیں آتا
نیے لفظ تلاش کرنے ہو ہجوم تنہائی سے پوچھ لو
ایجاد مجھے کر دیگی گر اردو پر حرف نہیں آتا


از قلم ہجوم تنہائی

چھوٹی کہانی... choti kahani

choti kahani..
ek thi choti si kahani.. Khatam shud
moral: aur berhati kahani tau lambi hojati choti si tau na rehti na...

by hajoom e tanhai


چھوٹی  کہانی 
ایک تھی چھوٹی  سی کہانی 
ختم شد 
نتیجہ : اور بڑھاتی کہانی تو لمبی ہو جاتی چھوٹی سی تو  رہتی  نا
از قلم ہجوم تنہائی

گنجی بطخ کہانی


 گنجی بطخ کہانی  
ایک تھی بطخ
قین قین کرتی پھرتی
قین قین سریلی سی آواز میں کرتی تھی
اس نے سوچا وہ سب بطخوں کو جمع کر کے کونسرٹ کرے 
اس نے جمع کیا سب کو قین قین شروع کر دی
بطخوں کو پسند آئی
اب روز بطخیں جمع ہوتیں اور قین قین سنتیں
ایک دن بطخ کا موڈ نہیں تھا اس نے قین قین نہیں کی
بطخوں نے غصے سے اسے گنجا کر دیا
اب وہ جہاں جاتی سب کہتے
وہ دیکھو گنجی بطخ
سب بھول گیے تھے کے وہ اچھی قین قین کرتی تھی
نتیجہ : گنجے لوگوں کی کوئی قدر نہیں کرتا
از قلم ہجوم تنہائی

ھنسیے کہانی.... hunsye kahani

ھنسیے کہانی
ایک تھا فلسفی فلسفہ سکھا رہا تھا اپنے شاگردوں کو 
کسی کو ہنسی آگئی
فلسفی نے غور سے کسی کو دیکھا 
پھر بولا میں نہیں پوچھوں گا کیوں ہنسے مگر حکم دیتا ہوں سب کو سب ہنسو 
کوئی ہنس پڑا کسی کی ہنسی رک گئی پوچھنے لگا 
مگر کیوں ہنسیں ؟
ھنسیے کیوں کہ آپ اور کر بھی کیا سکتے 
فلسفی مسکرایا 
ہم بس ہنس سکتے مگر کسی وجہ سے ہی ہنسیں گے کوئی وجہ بتائیں
اب کوئی ہنسنا بھول گیا تھا 
بے وجہ ھنسیے وجہ ڈھونڈنے لگے تو رونا آجائیگا 
فلسفی رو پڑا تھا 
کوئی وجہ ڈھونڈتا رہ گیا کسی کو وجہ نہ ملی 
سب رو پڑے 
نتیجہ : ہنسنا آسان نہیں بے وجہ ہنسی بھی نہیں آتی 
از قلم ہجوم تنہائی

hunsye kahani 
ek tha falsafi falsafa sikhaa raha tha apne shagirdon ko 
kisi ko hunsi aagai 
falsafi ne ghor say kisi ko dekha
phr bola main nahi pochun ga kiun hunsay mgr hukm dekta hun sab ko sb hunso 
koi hnspara kisi ki hnsi rk gai pochne laga
mgr kiun hunsain 
hunsye kiun k aap aur kar bhi kia sakte 
falsafi muskruya 
hm bs huns skte mgr kisi wajah say hi hunsain gay koi wajah batain 
ab koi hunsna bhol gaya tha
be wajah hunsye wajah dhondne lagay tu rona ajaiyga 
falsafi ro para
koi wajah dhondta reh gaya kisi ko wajah na mili 
sb ro pray 
nateeja : hunsna asaan nahin hay be wajah hunsi bhi nahin aati 
by hajoom e tanhai 

میں کہانی ... main kahani


میں کہانی 

ایک دفعہ کا ذکر ہے 
میں نے دیکھا تھا مجھے  ڈوب میں  تھا رہا 
مر گیا ہوںگا میں یقین سے نہیں کہہ  سکتا
دیکھا ہے کیا آپ نے کبھی
خود میں مرتے ہوئے خود کو ہی 
زندہ بھی نہ رہا مر بھی نہ سکا کوئی
میں نے دیکھا تھا مجھے  پکار میں  تھا رہا
سن نہ سکا میں یقین سے کہہ نہیں سکتا 
سنا ہے کیا آپ نے کبھی
خود کو پکارتے ہوئے خود ہی کو 
سن سکا بھی نہ کوئی سنتا بھی رہا کوئی 
میں نے دیکھا مجھے بچا میں خود رہا تھا 
بچ گیا ہونگا میں بھی یقین سے کہہ  نہیں سکتا
بچایا ہے آپ نے کبھی 

خود کو مرنے سے خود ہی 

نتیجہ : میں ہوں شاید 

از قلم ہجوم تنہائی


main kahani
ek dafa ka zikr hay 
main ne dekha tha mujhay doob main tha raha
mer gaya honga main yaqeen say kehh nahin sakta
dekha hay kia aap ne kabhi?
khud main mrtay hue khud ko hi 
zinda bhi na raha mr bhi na saka koi 
main ne dekha tha mujhay pukaar main tha raha 
sun na saka main yaqeen say kehh nahin sakta 
suna hay kia aap ne kabhi
khud ko pukartay hue khud hi ko 
sn saka bhi na koi sunta bhi raha koi
main ne dekha mujhay bacha main khud raha tha
bach gaya honga main yaqeen say keh nahin sakta bchaya hay aap ne kabhi 
khud ko mernay say khud hi 
nateeja : main houn shayad 

by hajoom e tanhai 

short story

udaas urdu status

urduz.com kuch acha perho #urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen