اشاعتیں

جنوری, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

short story

kahani ek ujray shehar ki

کہانی ایک اجڑے شہر کی نام سمجھو شہر خموشاں عوام اسکے تھے بالکل عام سےتھے خاموش رہتےانجان ہر زبان سے تھے عروج حاصل تھا انہیں دانشوروں کی نسبت سبھی با شعور تھے سیکھا کرتےعلم و حکمت ایک دن آئے انکے شہر میں اہل علم پاس جن کے تھی لمبی زبان اور ایک قلم سکھایا انہوں نے شہر کے باسیوں کو بولنا لفظ لفظ کہنا بات بات کو تولنا۔ لفظوں آوازوں سے پر شہر کی فضاء ہوئی کہنے والوں کے منہ کھلے خاموشی بد مزا ہوئی علم وحکمت دور ہوئی ان پر تنزلی آتی گئ شوریدہ سری نے سر ابھارا بے رحمی چھاتی گئ بولنے والوں نے بولا اہم علم سے اتنا بتائو سکھا دیانا سب ہمیں ؟اب تم لوگ جائو اہم علم ہوئے پریشان حیران و خاموش کون جیت سکا ہے جب ہو سامنےجہل و جوش باندھا اپنا بوریا بستر راتوں رات شہر چھوڑ گئے علم و ہنر سے بھرا صندوق ، کنجی بھی توڑ گئے سوچا کوئی تو انکا سامان اٹھائے گا جو اٹھائے گا کچھ تو دھیان لگائے گا صندوق کھول کے شہر کےلوگ حیران ہوئے ایک بھونپو چھوڑا اورایک خط وہ بدگمان ہوئے اہل علم سے بولنا سیکھا پڑھنے سے رہے نابلد بھونپو بجا کر سوچا ڈال لی آسمان پر کمند ہنرمندان شہر نے ایسے پھرکئی  اوربھونپو بنائے ہر شخص کے ہات...

سب مل۔جاتا ہے کہانی

ایک تھا فلسفی۔۔  اکیلا تھا۔۔  وہی جو کسی کو اکیلا دیکھ کر لوگ کرتے ہیں۔۔  اسے تنگ۔۔۔ کوئی جا پوچھنے لگا۔۔  کہاں گئیں وہ۔محفلیں۔۔  وہ زندہ دلی ۔۔۔۔ وہ قہقہے۔۔۔۔۔۔  وہ جو بات بے بات جھاڑ دیتے تھے لمبی تقریریں   گر زندگی جینے کے سکھاتے تھےخواب دیکھتی آنکھیں کیا ہوئیں۔۔ کوشش کرتے ہاتھ کیا ہوئے۔۔ اب بھی وہیں اسی مقام پر ہو تو بدلے کیوں لگتے ہو۔۔  فلسفی ہنسا۔۔۔  میں تب اداس تھامجھے لگتا تھا اچھا ہوا نہیں ۔۔ پریشان تھا کب اچھا ہوگا  روتا تھا کچھ اچھا ہو جائے خوش ہونا چاہتا تھا۔۔  مجھے بہت یاد آتا یے اپنا آپ۔ اپنے مستقبل سے بے خبر تھا خوش گمان تھا۔اب میں نہ اداس ہوں نا پریشان۔۔ روئے بھی عرصہ ہو گزرا۔ اب جو ہو سو ہو اب مجھے پروا نہیں رہی۔۔  فلسفی سپاٹ سے انداز میں بول رہا تھا۔۔  کوئی ہنسا۔۔۔۔۔ پوچھا۔ جانتے ہو میں کون؟  فلسفی نے سوالیہ نگاہ سے دیکھا۔۔  میں تمہاری۔خواہش۔۔۔۔۔  تم نے مجھے کہا تھا بس پورا ہو جائوں چاہے جب کبھی بھی بس تمہاری چاہت پوری ہو۔ تم خوش ہو جائو گے چاہے جتنا بھی عرصہ لگے اب ملا ہوں بولو کیا بر...

دیوار ۔۔۔۔ آزاد نظم

تصویر
یہ اپنے میرے بیچ بڑھانے کو فاصلے۔۔  سوچا ہے تم نے چھوٹی سی دیوار بنانے کا۔۔  ایسا کرو پھر۔۔   اینٹیں تم لگائو۔۔۔  گارے سے انکو جوڑ کر دیوار بنائو۔۔  مگر یاد رہے۔۔۔  ایک اینٹ میں لگائوں گا۔۔  تم پھر چاہے دیوار توڑ لو اپنی۔۔  میں اپنی اینٹ نہیں پھلانگوں گا۔۔ . . .  از قلم : ہجوم تنہائی از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom #urdupoetry #urdushortstories #shayari #lifestyle #urdupoetry #urdu #poetry #shayari #love #urduadab #urdushayari #pakistan #urduquotes #urdupoetrylovers #ishq #sad #lovequotes #urdupoetryworld #urdusadpoetry #shayri #lahore #hindi #hindipoetry #quotes #urdulovers #shayar #urduliterature #urduposts #karachi #instagram #poetrycommunity #like #mohabbat #bhfyp#hajoometanhai #hajoompoetry

ریشم کہانی

ریشم کہانی ایک تھا ریشم کا کیڑا۔ریشم بن رہا تھا کسی مکڑی کا اسکے پاس سے گزر ہوا تو ٹوکے بنا نہ رہ سکی ۔ یہ جو ریشم بن رہے ہو نا اپنے گرد اسی میں دم گھٹنے سے مرجائو گے۔  ریشم کا کیڑا بولا ریشم بننا یہی تو میری فطرت ہے۔۔ نہ بنوں تو بھی مر جائوں گاپر جاتے جاتے میں دنیا کو تحفہ دے جائوں گا میرا ہونا بےکار نہ ہوگا انکے لیئے۔ مکڑی ہنسی  میں بھی جال بنتی ہوں میری فطرت ہے مگر میرا جال بننا مجھے فیض دیتا ہےمیری خوراک کا انتظام کرتاہے میرے انڈوں کو سینچتا ہے تمہارا ریشم تمہیں کیا فیض دے گا؟ تم اس میں گھٹ کر مر جائو گے ۔۔ میری مانو تو ریشم بنو مگر اپنے گرد نہیں۔۔  کیڑا سوچ میں پڑا۔ مکڑی آگے چلدی کیڑے نے ریشم بنا مگر خود ریشم سے باہر نکل آیا۔ ریشم مکمل ہوا مگر کیڑے کو سردی لگنے لگی۔ سوچا زندگی تو میری یوں بھی ذیادہ نہیں ہونی تھی کم از کم مرتے وقت ٹھٹھرتا تو نہ میں۔ مکڑی کیا جانے میری فطرت کیا میرا بھلا کیا۔۔ ریشم کا کیڑا ٹھٹھرا مر گیا۔ مکڑی گزری بے ڈھب بے کار ریشم الجھا پڑا تھا افسوس کیا۔۔  بے چارہ کیڑا اس فالتو بے کار ریشم بننے میں زندگی گزار گیا۔۔  اپنے ٹھکانے کی جانب بڑھ...