ڈرا ونی کہانی ..

ڈرا ونی  کہانی ..
کچھ  دوست  تھے   ہوسٹل  میں  رهتے  تھے  ایک  بار  سردی  میں  واپس  آیے لحاف  میں  گھس  گیے  
گھسنے
 کے  بعد  دیکھا  دروازہ  تو  بند  کیا  ہی نہیں 
ایک دوسرے  کو کہا   کوئی  دروازہ  اٹھ  کر  بند  کرنے  کو  تیار  نہ  ہوا  ایک  دوست  بولا  میں  کر  دیتا  ہوں  اس  نے  ہاتھ  لمبا کیا  لیتے  لیتے  بند  کردیا .. سب  ڈر
کے  بھگ  گیے 
نتیجہ : ٹھنڈ  آنے والی ہے  کمرے  میں  داخل  ہوتے    ہی  دروزہ  خود  بند  کرنے کی عادت ڈال  لیں 


از قلم ہجوم تنہائی

انوکھی کہانی تیسری قسط


انوکھی کہانی 
تیسری قسط 
انوکھی تمہیں پرنسپل صاحب بلا رہے 
وہ حسب معمول اکیلی آدھی چھٹی میں بیٹھی باقی بچوں کو کھیلتے  دیکھ رہی تھی جب ایک بچہ بھاگتا ہوا آیا اور اسے بتا کر واپس بھاگ گیا 
وہ پیچھے پکار کر پوچھتی رہ گئی کیوں بلا رہے 
خیر کیا ہو سکتا تھا وہ پرنسپل صاحب کے کمرے میں آگئی 
بیٹا ادھر آؤ انہوں نے پیار سے اسے پاس بلایا 
وہ حیران سی ان کے پاس چلی ای
ان کے پاس دو لوگ بیٹھے تھے جو حلیے سے کافی معتبر دکھائی دیتے تھے اور تھوڑے بیزار بھی دکھائی دیتے تھے 
بیٹا ان سے کہو ہمارے اسکول کی رپورٹ اچھی بنائیں اور رشوت لے لیں آرام سے 
 انوکھی نے ان کے کہے الفاظ د ہرا دیے 
.......................................
رات کو کھانا کھاتے اسے جانے کیا یاد آیا پوچھنے لگی 
ابو رشوت کیا ہوتی؟
اگر آپکو کوئی کام کرنا چاہیے اپکا فرض ہے کرنا اور پھر بھی اس کام کو کرنے یا نہ کرنے کے آپ پیسے وصول کریں یا تحفہ کوئی بھی نا جائز فائدہ اٹھائیں تو اسے رشوت کہتے 
ابو نے تفصیل سے بتایا 
مگر کوئی کام آپکو کرنا ہی ہے اس کے کوئی پیسے کیوں دیگا ؟
اسے ابھی بھی صحیح سمجھ نہیں آیا 
دیکھو 
اس کے بھی نے چمچ پلیٹ میں رکھا اور اسے متوجہ کیا 
مجھے امی نے کہا بازار سے چاول لے کر آؤ میں گیا لے آیا 
میرا کام تھا اگر میں کہتا مجھے چاول لانے کے لئےقیمت سے   تھوڑے سے پیسے زیادہ دیں تو یہ کام کرنے کی رشوت ہوتی
یعنی تم پہلے سے ہی رشوت خور ہو 
آپی سمجھ گئیں
کیوں کیسے ... بھائی کو کافی برا لگا 
ایسے کہ تم ہمیشہ مجھے کوئی بھی چیز لا کر دینے کے زاید پیسے وصول کرتے ہو رشوت خور 
وہ غصے سے بولیں 
کوئی نہیں میں نے کب کیا ایسا 
بھائی صاف مکر گیا 
امی اس دن 
آپی کو کوئی پرانا جھگڑا یاد آگیا دونوں لڑنے بیٹھ گیے 
خاموش ہو جاؤ دونوں اور کھانا کھاؤ 
ابو نے ڈانٹا تب جا کے چپ ہوئے دونوں 
پاپا رشوت لینا بری بات ہے ؟
انوکھی نے پوچھا 
ہاں... ابو نے بلا توقف جواب دیا
رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں 
ابو اگر کوئی رشوت نا لے رہا ہو اور کسی کے کہنے پر لے لے تب بھی جہنم میں جایے گا 
انوکھی کسی خدشے سے ڈر کر بولی 
ہاں ... کوئی غلط کام کرنے کو کہے تو ماننا نہیں چاہے نا بیٹا 
خاموشی سے کھانا کھاتی دادی نے بھی باتوں میں حصہ لیا 
اور اگر کوئی ایسا کہے جسکی بات ٹالی نا جا سکے تب بھی 
اس نے کہتے کہتے سر جھکا لیا 
ایسا کون ہو سکتا ناجائز تو والدین کی بھی ماننا منع ہے 
امی نے کہا تو اس نے مزید سر جھکا لیا 
انوکھی کی آنکھوں میں آنسو آگے 
میں .... سب گھر والے کھانا چھوڑ کر اسکو دیکھنے لگے 
..............................................
انوکھی نے میز پر سر رکھا رونا شروع کردیا 
اب وہ دونوں انکل جہنم میں جائیں گے 
ابھی تھوڑی جب مریں گے تب  اور کیوں کے تم نے غلط کام کروایا انسے تو تم بھی جاؤ گی 
بھی نے تمسخر اڑایا 
ہیں ابو 
وہ ڈر گئی 
بری بات 
امی نے بھائی کو گھرکا وہ منہ بنا کر چپ ہو رہا 
یہ تو بہت غلط بات ہے پرنسپل صاحب نے انوکھی کی صلاحیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا 
آپی شدید غصے سے بولیں 
مجھے ان سے یہ امید نہیں تھی 
ابو پر سوچ انداز میں کہنے لگے 
پورا سکول انوکھی سے ڈرتا ہے کوئی بات بھی نہیں کرتا اس سے 
سارا نے بھی بتانا ضروری سمجھا 
 کیا واقعی ایسا ہے؟
دادی کو صدمہ لگا 
ہمیں انوکھی کا سکول تبدیل کروا دینا چاہیے اور اسکی خاصیت کو بھی چھپانا چاہیے اس طرح چلتا رہا تو لوگ اسکی خاصیت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہیں گے 
ابو نے پر سوچ انداز میں کہا امی بھی متفق تھیں 

از قلم ہجوم تنہائی

ہنس مکھ مکھی کہانی

ہنس مکھ مکھی کہانی 

ایک تھی مکھی خرم رہتی تھی 
ہنستی رہتی کسی نے جل کر اسے کہا ہر وقت ہنستی ہو کبھی ہنسی بچا بھی لو کل کو کام ایگی 
مکھی احمق مان گئی اب کوئی لطیفہ سنے 
ہنسے نا 
کوئی خوشی کی خبر ملے نہ ہنسے 
کچھ اچھا ہو نہ ہنسے 
ہنسنا سمجھو بھول ہی گئی 
ایک بار اسے ایک مکھی اپنا قصہ سنا رہی تھی 
کیسے ایک بار وہ مٹھائی کی دکان میں چلی گئی 
حلوائی شیرہ بنا رہا تھا اس نے چکھنا چاہا تو اسکے پاؤں چپک گیے 
حلوائی نے اس میں گلاب جامن ڈال دیے یہ مزے لے لے کر کھاتی رہی 
اتنے میں کوئی خریدار آیا اور گلاب جامن لے گیا ڈبہ کھولا سب سے پہلے مکھی والی گلاب جامں اٹھائی 
دیکھا مکھی ہے تو پھینک دی 
بس پوری گلاب جامن سے پورا مکھیوں کا جھنڈ کے دن مستفید ہوتا رہا 
وہ بتا کر ہنسے جا رہی تھی 
یہ مکھی خاموشی سے دیکھتی رہی 
دوسری مکھی حیران ہو کر پوچھنے لگی تمہیں ہنسی نہیں آی؟
مکھی بولی آی کل تھوڑا سا ہنس دوں گی مکھی کیا کہتی چپ ہو رہی اگلے دن مکھی بیٹھی رو رہی تھی 
ہنس مکھ مکھی نے پوچھا کیا ہوا بولی 
کیا بتاؤں کل میں رس ملی سمجھ کر گلو پر جا بیٹھی 
کسی بچے نے گھول رکھی تھی اپنی پتنگ جوڑنے کو 
چپک گئی 
پورے دو گھنٹے ہوا میں ادھر سے ادھر پتنگ کے  ساتھ بھوکی پیاسی اڑ ان  بھرتی رہی 
ہنس مکھ مکھی کو ہنسی آگئی مگر ضبط کرنا پڑا
نتیجہ : ایک تو بنا سوچے سمجھے ہر کسی کی سنا مت کرو 
دوسرا آج اگر ہنسی یے تو ہنس لو کل ہو سکتا اور برا کچھ ہو جایے 
از قلم ہجوم تنہائی

کردار کہانی

کردار کہانی

میں ایک کردار ہوں 
کیا بد ؟
نہیں
کیا معاون ؟ 
نہیں 
کیا ثانوی ؟
نہیں 
کیا مرکزی؟ 
وہ بھی نہیں 
میں وہ کردار ہوں جو ابھی لکھا نہیں گیا 
نتیجہ : کہانیاں وقت گزاری کے لئے ہوتی ہیں کردار نہیں 

از قلم ہجوم تنہائی

درد کہانی ...

درد  کہانی ...
ایک  بار  دو  درد  آپس میں  باتیں  کر  رہے  تھے ...
دل  ٹوٹنے  کا  درد  اور  ہڈی  ٹوٹنے کا  درد 
لڑنے  لگے  
ہڈی  کا  درد  بولا  میں  زیادہ  محسوس  ہوتا  ہوں  نظر  بھی آتا  تمہارا  کیا  ہے  عادت  ہو  جاتی  ہے  اتنا  ٹوٹتے  ہو ...
دل  کا  درد  بڑھ  گیا 
کہہ  نہ  سکا  تمہیں  تو  ہمدردی  بھی  ملتی  درد  کم  بھی  ہو  جاتا ...
دل  تو  نہ  جوڑتے  ہیں  نہ  ٹوٹنا  کم   ہوتے 
 نتیجہ : درد دل کا ہو یا ہڈی کا کوئی بانٹ نہیں سکتا 

از قلم ہجوم تنہائی

کہانی shajra



رات کہانی

ایک دفعہ دو لوگ آپس میں بات کر رہے تھے 
یونہی شجرے کا ذکر نکل آیا
ایک نے دوسرے کو غور سے دیکھا اور کہا بھائی آپ پٹھان ہو؟
دوسرے نے کہا نہیں بھائی میں پٹھان نہیں میں اردو سپیکنگ سید زادہ ہوں انڈیا سے ہجرت کر کے آیا ہے یہاں خاندان میرا
نہیں بھی آپ پٹھان لگتے ہو گورے چٹے ہو پہلا آدمی بولا
دوسرے نے انکار کیا
بحث بڑھی پہلے والا بولا آپ کے ابو یا امی میں سے تو کوئی ضرور پٹھان ہے
گھر جا کر پوچھنا
اتنی یہ بحث بڑھی کے دوسرے آدمی کو خود اپنے شجرے پر شک پڑ گیا گھر گیا جا کے اپنے اماں ابا سے انکی سات پشتوں کا احوال دریافت کیا
معلوم ہوا دہلی میں شجرہ موجود ہے ان کے کسی دادا کے رشتے دار کے پاس
وہاں تو رابطہ نہ ہوا مگر تسلی ہوئی اگلے دن اسی آدمی کے پاس گیا تفصیل سے بتایا نہ صرف امی بلکہ ابا بھی سید ہیں اپس میں رشتے دار ہیں دہلی سے ان کے بارے یہاں آیے تھے دوسرے آدمی کو تسلی ہو گئی معذرت کی ماں لیا
دوسرے آدمی نے معذرت قبول کر لی
یونہی بات برایے بات دریافت کیا
بھائی آپ کی ذات کیا ہے؟
پہلے نے جواب دیا ...
.
.
.
پٹھان 
نتیجہ : بحث کیجیے مگر شجرہ مت کھنگالیے دوسروں کا


از قلم ہجوم تنہائی

بادل کہانی

بادل کہانی 

ایک تھا بادل یونہی کسی گھر کے پاس سے گزر رہا تھا گھر کا مالک دروازہ کھلا چھوڑ گیا تھا 
بادل اندر گیا کچن میں دیکھا چاۓ بنی پڑی تھی غٹا غٹ چڑھا گیا 
باھر گیا برسنے لگا 
لوگ حیران ہوۓ چاۓ برس رہی ہے سب کپ لے کر کھڑے ہو گیے گھر کا مالک بھی گزر رہا تھا سوچا میں گھر میں چاۓ بنانے کا که کر آیا ہوں بیوی نے بنا رکھی ہوگی وہ ہی پی لونگا گھر آیا تو دیکھا اسکا
کپ خالی پڑا ہے اور پورا گھر پانی پانی ہو رہا
بیوی پریشان کھڑی تھی
اس نے بیوی سے کہا چاۓ ؟
بیوی نے کہا بنا دونگی مگر پہلے ذرا گھر کا پانی نکال دوں بادل سب گیلا کر گیا شوہر نے کہا اچھا میں سوتھ دیتا ہوں تم چاۓ بنا دو اور
وائپر نکالا اور گھر سوتھنے لگا
بیوی کچن میں گئی دیکھا دودھ ختم انتظار کرنے لگی کہ شوہر کام ختم کر لے پھر دودھ لانے بھیجے 
نتیجہ : اگر بادل چاۓ برسا رہا ہو تو کپ لے کر کھڑے ہو جائیں گھر جا کے پینے کا شوق نہ پالیں گھر والوں کو اور بھی کام ہوتے ہیں چاۓ بنانے کے سوا

از قلم ہجوم تنہائی

قسط دو انوکھی کہانی


قسط دو انوکھی کہانی 

جلد ہی یہ بات سکول میں سب بچوں میں پھیلتی گئی 
انوکھی سے سب بچے ڈرنے لگے وہ اکیلی رہنے لگی 
وہ اکثر اکیلے بیٹھ کر روتی رہتی اور خدا سے شکوہ کرتی 
سب میری بات کیوں ماں لیتے اور اگر ماں لیتے تو اس میں میرا قصور کیا ہے 
اس کے امی ابو کافی خوش تھے اسکے بہن بھایئوں سے جو بات منوانی ہوتی انوکھی کے ذریے کہلاتے 
نتیجہ بہن بھی علیحدہ اس سے چڑنے لگے گھر میں جہاں یہ آ کر بہن بھائیوں کے پاس آ کر بیٹھتی وہ اٹھ کر چل دیتے 
انوکھی بچی ہی تو تھی اداس رہنے لگی 
اسکی دادی نے اسے پیار سے سمجھایا 
بیٹا یہ کوئی بری بات نہیں ہے اگر کوئی تمہاری بات ماں لیتا برا تب ہوتا جب تم اس بات کا غلط فائدہ اٹھاتیں بیٹا 
غلط فائدہ؟
وہ سمجھی نہیں 
ہاں جیسے تم لوگوں کو کچھ ایسا کرنے کا کہتیں جس سے انھیں نقصان ہوتا یا تم اپنے ذاتی کام کرنے کا کہتیں ٹیب بری بات تھی نا
دادی کو ایسا سمجھاتے ہوئے خیال بھی ذہن میں نہ آیا کہ انہوں نے نا دانستگی میں 
اسے نیی ترکیبیں اپنانے کا مشورہ دے دیا ہے 
...........
انوکھی یہ تمھاری لکھائی تو نہیں ہے 
اسکی استانی صاحبہ نے اسکی کاپی کے پچھلے صفحے پلٹ کر لکھائی کا موازنہ کیا 
میری نہیں ہے میں نے اپنی بہن سے اپنا گھر کا کام کروایا ہے 
کیوں ؟ 
استانی صاحبہ حیران ہویں 
میں تھک گئی تھی 
اس نے معصومیت سے کہا 
اچھا ٹھیک ہے ابھی یہ سب کام پانچ پانچ مرتبہ لکھ کر لاؤ 
انھیں غصہ آگیا تھا 
مت سزا دیں مس 
ٹھیک ہے آئندہ اپنا کام khud کرنا 
وہ فورا مان گیں 
انوکھی خوش ہو گئی
......
انوکھی لنچ باکس ویسے کا ویسا ہے کچھ کھایا کیوں نہیں؟
امی اسکا لنچ باکس دیکھ کر حیران رہ گائیں 
امی کھایا نا میری دوست آلو کا پراٹھا لائی تھی میں نے کہا مجھے دے دو اس نے دے دیا میں نے اسکا آلو کا پراٹھا کھایا نا 
انوکھی نے مزے سے بتایا 
اور اسنے کیا کھایا؟
امی حیران پریشان ہی تو رہ گیں 
اس نے کچھ نہیں روتی رہی آدھی چھٹی میں 
اس نے کندھے اچکا دے امی سر پیٹ کر رہ گیں 
تو تم اپنا لنچ اسے دے دیتیں بیٹا 
کل میں آپکو آلو کا پراٹھا بنا کر دوں گی وہ اسے دے دینا کل جا کر 
ٹھیک ہے؟
انہوں نے پیار سے اسکا سر سہلایا 
اس نے خوشی خوشی اثبات میں سر ہلا دیا 
.......
اگلے دن اس بچی کو اس نے آلو کا پراٹھا دیا اس نے خوشی خوشی اپنا لایا سند وچ اسے دے دیا 
اس نے سینڈوچ آدھا  ہی کھایا تھا اس کو اپنا دوسرا ہم جماعت نوڈل کھاتا دکھائی دے گیا 
........
ارے اس نے کوئی مار کر تھوڑی لیا تھا بچی ہے اسے لنچ پسند آگیا تھا اس نے کہا مجھے نوڈل دے دو آپ کے بچے نے دے دے اب میں اس بات پر بچی کو کیا ڈانٹوں؟
امی صاف مکر گیں 
ہاں عالیہ کو گھور کر دیکھا تھا عالیہ مسکرا دی تھی اس بار ڈری نہیں تھی امی حیران ہو کر رہ گیں  
اس وقت وہ پرنسپل کے دفتر میں موجود تھیں عالیہ کے علاوہ پرنسپل صاحب وہ بچہ منہ بسورتا ہوا اور اسکی امی غصے سے ناک بھنویں چڑھا ے بیٹھی تھیں 
 امی کو پرنسپل صاحب نے بلوا لیا تھا اس بچے کی امی  نے آ کر شکایات کی تھی کہ انوکھی ان کے بچے کا لنچ کھا گئی 
 کیوں بیٹا انوکھی نے آپکو مارا تھا؟
پرنسپل صاحب نے پیار سے پوچھا بچے نے نفی میں سر ہلا دیا 
 آپکو نوڈل نہیں دینے تھے تو آپ منع  کر دیتے نہ دیتے ؟
بچے نے سر ہلایا دوبارہ موٹے موٹے آنسوں سے رونے لگا 
دیکھے مسز فیروز بچے ہیں آپس میں کھلتے ہیں کھاتے پیتے بھی ہیں اس بات کو بڑھانے کا فائدہ نہیں آپ بچے کو منع  بھی کریں گی کہ آیندہ عالیہ کو اپنا لنچ نہ دے تو یہ بھی بری ہی بات ہوگی پھر بھی اگر آپ ایسا چاہیں تو ٹھیک ہے آپ کہ دیں اپنے بیٹے کو 
پرنسپل صاحب نے دھیرج سے سمجھایا وہ غصے سے اٹھ کھڑی ہیں عالیہ کو گھور کر دیکھا اور بولیں 
آیندہ میرے بچے کا لنچ کھایا تو بوہت بری طرح پیش آؤنگی
عالیہ نے کندھے اچکا دے 
مجھے اگر پسند آیا تو ضرور کھاونگی
وہ ذرا نہ ڈری 
عالیہ امی نے اسکی بدتمیزی پر گھورا 
یہ تربیت ہے آپکی مان کی امر کی ہوں اور یہ آگے سے مجھ سے بدتمیزی کر رہی ہے 
وہ خاتون بری طرح تپ گئیں تھیں 
میری امی سے تمیز سے بات کریں 
عالیہ نے گھور کر دیکھا انھیں 
سوری بولیں میری امی سے
ان خاتوں کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں 
سوری مسز شکیب 
وہ خاتون اب بیحد تمیز سے معذرت کر رہی تھیں 
پرنسپل صاحب اور امی منہ کھولے دیکھ رہے تھے 
کان پکڑ کر سوری بولیں 
عالیہ نے اطمنان سے سٹول پر چڑھ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ لی تھی 
ان خاتوں نے دونوں کان پکڑ لئے تھے 
...................................
عالیہ بیٹا یہ کیا حرکت تھی بیٹا؟
بڑوں کو ایسا نہیں کہتے کان پکڑ کر معافی مانگو 
امی نے گھر آ کر بڑے پیار سے سمجھایا 
مجھے مت سمجھائیں مجھے کھانا دن بھوک لگی ہے 
اس نے منہ بنایا تھا امی کھانا لگانے اٹھ گیں 
.........................................
سارا گھر اسکی خدمت میں لگا رہتا کوئی اسکے سکول کا یونیفارم استری کرتا کوئی اسکا سارا گھر کا کام کر دیتا اسکو کوئی ڈانٹ نہیں سکتا تھا وہ منع کر دیتی تھی دادی خاموشی سے اسکی حرکتیں دیکھ رہی تھیں 
اس دن صبح اٹھی سارا اس سے پہلے اٹھ کر باتھ روم جا رہی تھی 
سارا مت جاؤ مجھے پہلے جانا 
بیچاری دروازہ بند کرنے لگی تھی روتی روتی باہر آگئی
امی کچن میں تھیں جا کے رو رو کر انھیں شکایات لگی 
کیا کروں چندا مجھے بھی منع کیا ہوا ہے کہ اسے نا ڈانٹوں تم ہمارے کمرے کے باتھ روم میں چلی جاؤ 
وہ اور کیا کہتیں ویسے بھی ناشتہ بنانے میں مصروف تھیں 
وہ منہ ہاتھ دھو کر باہر ائی تو امی نے اسکا آملیٹ اور پراٹھا لا کر سامنے رکھ دیا 
مجھے ہالف فرائی کھانا 
امی دانت پیس کر رہ گیں کوئی اور بچہ ہوتا تو ایک لگا کر یہی کھانے پر مجبور کرتیں ناچار اٹھ کر دوسرا انڈا بنا کر لائیں 
انوکھی اب دس سال کی ہو چکی تھی اسکو اب نہ صرف اپنی اس خاصیت کا پتہ چل چکا تھا بلکہ وہ اب اسکا صحیح غلط استمال بھی دھڑلے سے کرتی تھی 


........
سکول میں سپورٹس کمپیٹیشن ہوا 
ہر کھیل میں گولڈ میڈل لیا 
دوڑ کا مقابلہ ہوا اس نے بھاگتے بھاگتے اپنے سے آگے بھاگتے بچوں کو روک جانے کو کہا 
وہ تب تک رکے رہے جب تک وہ اختتامی لکیر تک نہ پہنچ گئی 
رسہ کشی کے مقابلے میں اس نے مخالف ٹیم کے بچوں سے کہا رسی چھوڑ دو سب ان کی ٹیم کے اپر آ کر گر گیے 
لڑکے فٹ بال کھیل رہے تھے اسکو مزہ نہ آیا جا کر منع کردیا مت کھیلو 
جب پرنسپل صاحب میچ دیکھنے آیے تو با یس بچے قطار سے بیٹھے انوکھی کا ملی نغمہ سن رہے تھے گا کر بولی سب تالیاں بجاتے رہو 
پرنسپل صاحب نے اسے بلا کر پوچھا یہ کیا کر رہی ہو؟
مجھے فٹ بال نہیں پسند میں نے گانا تیار کیا ہے سب کو وہ سنا رہی تھی 
پاکستان پاکستان 
پیچھے سب بچے تالیاں پیٹ پیٹ کر ہاتھ سرخ کر چکے تھے 
مگر بیٹا آپکو پسند نہیں اپ مت کھیلو آوروں کو منع تو نہ کرو 
وہ حیران تھے بچے رک بھی نہیں رہے تھے
وہ دو بار کہہ چکے تھے انھیں روکنے کو 
اس نے ایک نظر انکو دیکھا پھر بتایا 
آپ کے کہنے سے نہیں رکیں گے 
اس نے مڑ کر انہیں تالیاں بجانے سے رکنے کو کہا سب رک گیے 
اس نے سر کو مسکرا کر دیکھا اور آگے بڑھ گئی   
امتحان شروع ہوئے اس نے سارا پیپر اپنے ساتھ بیٹھی لائق لڑکی کا نقل کیا 
صاف کہا اسے مجھے دیکھو 
استانی صاحبہ نے آکر گھرکا تو انھیں خاموش کرا دیا مجھے مت ڈانٹیں 
چپ رہیں 
نتیجہ آیا تو اول آی تھی وہ پورے سکول میں 
اسکو پرائز دیتے ہوئے اسکی استانی صاحبہ کا منہ پھولا ہوا تھا 
اسکے پرنسپل صاحب بھی سنجیدہ سے کھڑے تھے 
اور تو اور وہ اسٹیج پر اپنا انعام لینے گئی کسی نے تالی تک نہیں بجائی 
وہ اپنا انعام لے کر امی ابو کے پاس ای اسکے اور کسی بہن بھائی نے پوزیشن نہیں لی تھی مگر وہ انکی پرسنٹیج دیکھ کر خوش ہوئے تھے اسنے اپنا انعام دکھایا تو امی نے ایک نظر دیکھ کر بنا خوش ہوئے ایک طرف رکھ دیا 
وہ بہت اداس ہو گئی تھی 
آپ سب مجھے مبارک باد دیں 
اس نے کہا تو سب کورس میں اسے پاس ہونے اور پوزیشن لانے پر مبارک باد دینے لگے 
وہ بجایے خوش ہونے کے مزید اداس ہو گئی اپنے کمرے میں آ کر بیڈ پر اندھی لیٹ کر رونے لگی 
دادی خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھیں 
چپکے سے اسکے پاس آ کر بیٹھ گیں پیار سے اسے سہلایا 
بیٹا کیوں رو رہی ہو؟
کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا کوئی مجھ سے خوش نہیں میں نے انعام لیا کسی نے تالی بھی نہیں باجی میرے بہن بھائی بھی خوش نہیں ہوئے کیوں دادی اماں ؟
وہ اٹھ بیٹھی اور سسکنے لگی 
دادی نے اسے پیار سے گلے لگایا 
ایسا اس لئے کہ تم نے یہ انعام اپنی محنت یا کار کردگی سے نہیں اپنے خصوصیات اپنی طاقت کا بیجا استمعال کر کے حاصل کیا ہے 
میں نے سمجھایا تھا نا بیٹا یہ طاقت آپکو اچھے مقصد کے لئے استمعال کرنی ہے اسکا غلط استمعال کروگی تو نقصان اٹھاوگی مجھ سے وعدہ کرو آئندہ کبھی کسی غلط فائدے کے لئے یا اپنے فائدے کے لئے اسے استمعال نہیں کرو گی؟
مگر دادی میں نے تو صرف 
اس نے ہچکچا کر کچھ کہنا چاہا 
بیٹا یہ طاقت آپکو دوسروں کی مدد کرنے کے لئے دی گئی ہے اسکا اپنے لئے بیجا استمال کروگی تو چھن جایے گی آپ سے آپ نے کسی اور کی محنت نقل کی اس سے آپ کے اپنے علم میں بھی اضافہ نہیں ہوا دوسرا کسی کی محنت چرا کر آپ نے اسکا بھی دل دکھایا جو پہلی پوزیشن لانے کے لئے سارا سال محنت کرتی رہی کسی کا دل دکھاؤ گی تو اسکی بددعا پیچھا کریگی پھر یہ خصوصیت جاتی رہی گی اب سمجھ ای 
دادی نے تفصیل سے سمجھا کر اسکا سر ہلایا 
تو اس نے آنسو پونچھ کر وعدہ کر لیا 
آئندہ میں کبھی کسی کو تنگ نہیں کرونگی
شاباش میری اچھی بچی 
دادی کو اسکے سمجھ جانے پر پیار آگیا تھا 


از قلم ہجوم تنہائی

انوکھی کہانی پہلی قسط


انوکھی کہانی پہلی قسط
ایک تھی انوکھی نام تو تھا خیر اسکا عالیہ ... انوکھی ایسے نام پڑا کہ اسکی دادی نے ایک دن لاڈ میں پکارا تھا اسے انوکھی کہہ کر بس چار بہن بھائیوں کی وہ سب سے چھوٹی بہن تھی سو سب نے چھیڑ چھیڑ کر اسکا نام انوکھی ہی کر دیا
انوکھی کا ہر کام انوکھا تھا پہلی بار سکول گئی استانی کو گرا دیا جان کر نہیں استانی صاحب اسکی بات نہیں سن رہی تھیں اس نے انکا دوپٹہ کھینچ کر کہا سن لیں میری بات مس مس نے پھر بھی نہیں سنا کھڑی اس کے پیچھے بیٹھے بچے کو گھر کا کام نہ کرنے پر ڈانٹتی رہی تھیں اپنی اونچی ایڑھی والی صندل اسکی گری ہوئی کاپی پر رکھے تھیں اس نے اٹھانا تھا تین بار تو کہا تھا چوتھی بار
اسے بھی غصہ آگیا اسکو ڈانٹے جا رہیں اب بس بھی کریں ایک تو اتنی اونچی ہوئی وی ہیں اب گر جائیں میرے ہی سر پر
اس نے انکی اونچی ایڑھی والی سنڈل کو گھورا
بس وہ مڑیں پیر مڑا سیدھی اسکے سر پر
استانی صاحبہ نازک سی تھیں مگر ایک چار سالہ بچی کے اپر پہاڑ کی طرح گری تھیں سٹیکر بنتے بنتے رہ گیا تھا اسکا سری کلاس ہنس رہی تھی ایک وہ رو رہی تھی اس پر ہی بس نہیں
اسکی امی کو بلا لیا تھا استانی صاحب نے
آپکی بیٹی نے مجھے گرایا ہے '
فورا شکایات دھر دیں امی خاص پاکستانی ماں
کان سے پکڑ لیا
کیوں گرایا ؟
ارے میں نے کچھ نہیں کیا وہ روہانسی ہو چلی
اس نے مجھے کہا تھا اب گر جائیں مجھ پر
استانی صاحبہ پاؤں پر پٹی باندھے بیٹھی تھیں شدید موچ آئی تھی
آپکو اسکی بات نہیں ماننی چاہے تھی
امی نے دبی دبی زبان میں کہہ دیا تھا استانی صاحب غور کر رہ گیں
پھر ایسا اکثر ہونے لگا وہ جسکو جو کام کہتی ہزار انکار کرتا منہ بناتا مگر کر دیتا
اسکو بھی پانی لانے کا کہتا یہ بھر کے لا کر گلاس تھماتی اور کہتی میرے سکول کا کام کروا دیں
اپنا ٹیسٹ چھوڑ کر اسکو گھر کا کام کرواتا کہاں چھوٹا ہونے کی وجہ سے سب اسکو اپنے کام کہا کرتے کہاں سلسلہ الٹ گیا
سب سے بڑی بہن تھی اسکی نمرہ ایک نمبر کی کام چھوڑ کاہل سست الوجود کالج جاتی تھی
بد پر بیٹھ جاتی کبھی کہتی مجھے نیل پالش لا کر دو دوسرے کمرے میں بیٹھی ہوتی تھی عالیہ بھاگ کر آتی اسکو
اسکے ہی کمرے میں دو قدم کے فاصلے پر رکھی سنگھار میز سے مطلوبہ نیل پالش
تھماتی پھر واپس جا کر اپنا کام کرتی
ایک دن وہ فشل کر رہی تھی اس سے بولی مجھے لوشن پکڑا دو
اس نے یونہی کہ دیا
منہ پر آپی لوشن کی بجایے وم مل لو زیادہ صاف ہو جایے گا
اس نے لوشن تھماتے مذاق کیا تھا آپی اٹھیں سیدھا باورچی خانے میں گیں اور وم مل لیا منہ پر
امی دیکھیں میرا پورا چہرہ سرخ ہو گیا
رو رو کر شکایت لگ رہی تھی اسکی وہ معصومیت سے سر جھکایے کھڑی تھی
اس نے کہا اور تم نے ماں لیا
امی نے سر پیٹ لیا
امی اسکو منع کریں ہم سے کام نہ کہا کرے کل میچ کھیلنے جا رہا تھا بولی مجھے گھر کا کام کروا کر جائیں
دو گھنٹے لگا کر میں نے اسکو سارا گھر کا کام کروایا میرا پورا میچ برباد ہوا دوستوں نے الگ میری بستی کی
آپی سے چھوٹا بھائی رو رہا تھا اسکے میٹرک کے امتحان ہو چکے تھے سو تین مہینے بس کھل کود ہی کرنا تھا اس نے خاصا گراں گزرا تھا اسے کام کرنا یا کروانا
ہاں تو چھوٹی ہے کام کون کراتا اسے
امی نے اسکی حمایت نہیں کی
مگر امی یہ بہت عجیب ہے کل مجھے کہہ رہی تھی کارٹون دیکھنا میں ڈرامہ دیکھ رہی تھی مگر میں نے چینل بدل کر اسکو کارٹون لگا دیا
سارا اس سے سات سال بڑی بہن بسوری
ارے تو تم لوگ اسکی بات مانتے کیوں ہو ؟
امی نے سر پیٹ لیا
وہ معصوم سی شکل بنایے سب کو ٹکر ٹکر دیکھتی رہی
..........................
اس دن وہ سکول سے واپس آ رہی تھی کہ دیکھا دو بچے آپس میں لڑتے جا رہے بچے اس سے شاید دو چار سال بڑے ہی ہونگے
اس نے یونہی رعب سے کہا
مت لڑو اچھے بچے نہیں لڑتے ہاتھ ملاؤ چلو
دونوں نے جھٹ ایک دوسرے کا گریبان چھوڑا ہاتھ ملا لئے
اب یہ ہاتھ مت چھوڑنا ایسے ہی اچھے بچوں کی طرح گھر جاؤ
وہ آرام سے خود گھر آگئی
اگلے دن دونوں بچوں کے والدین سکول آیے ہوئے تھے
یہ دیکھیں کل سے یہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑ رہے ہم کہہ کہہ کر تھک گیے ہاتھ چھڑانا چاہا تو ہم چھڑا بھی نہیں پا رہے
دونوں بچوں کا رو رو کر گلہ بیٹھا تھا
دونوں بچے شکر ہے پڑوسی تھے دونوں کے والدین کہ سن کر بچوں کو سلا تو لیا تھا مگر شدید پریشان تھے
اتنا زور زور سے روتےہیں کہتے عالیہ کہے گی تب ہی چھوڑیں گے کون ہے عالیہ ؟
پرنسپل صاحب نے علیہ کو بلوایا
معصوم سی دو پونیاں کے بڑی بڑی آنکھیں پوری کھولے عالیہ آی تھی
عالیہ بیٹا ان بچوں سے کہو ہاتھ چھوڑ دیں ایک دوسرے کا
پرنسپل صاحب نے بڑے پیار سے کہا تھا
کیوں؟ عالیہ کو ہرگز انکا خیال پسند نہیں آیا
بیٹا کل سے دونوں مشکل میں ہیں ہاتھ نہیں چھوڑ رہے ایک دوسرے کا پ انکے والدین پریشان ہیں
انہوں نے سمجھایا
عالیہ سوچ میں پڑ گئی
مگر کل یہ دونوں لڑ رہے تھے اسلئے میں نے انکو کہا تھا ایسا
ہم کبھی نہیں لڑیں گے
دونوں بچے روہانسے ہو کر بولے
چلو ٹھیک ہے ہاتھ چھوڑ دو
اس نے کہا تو دونوں نے جھٹ ہاتھ چھوڑ دیا
دونوں بچوں کے والدین ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے پھر دونوں نے ہی اپنے اپنے بچوں کا سکول تبدیل کروا دیا تھا
.......
کوئی بار بار انکے گھر کی اطلاعی گھنٹی بجا رہا تھا
آرہی ہوں آرہی ہوں
امی باورچی خانے میں تھیں ہاتھ پونچھتی باہر آیئں
کون ہے ؟
انہوں نے دروازہ کھولا
ایک آئس کریم فروش کھڑا تھا
کیا کام ہے بھائی ؟
اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا امی نے پوچھا
بہن جی آپ عالیہ کی والدہ ہیں ؟
ہاں انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تو تو پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا
آپکی بیٹی نے آ کر مجھ سے آئس کریم لی ..
پیسے نہیں دے؟
وہ یہی سمجھیں
نہیں اس نے تو دیے پھر کہنے لگی تمہیں ویسے سب بچوں کو مفت آئس کریم دینی چاہے
یقین کیجیے دو دن سے ایک روپیہ نہیں لے رہا بچوں سے میری سب آئس کریم مفت بانٹتا رہا
مرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں غریب آدمی ہوں اسی سے کماتا ہوں بیگم صاحب
تو تمہیں کس نے کہا اس بچی کی بات مانو
انکو غصہ ہی آگیا
میں نہیں جانتا مگر میں اسکی بات ٹال نہیں سکتا آپ براۓ مہربانی اس سے مجھے اجازت دلوا دیں کہ میں پیسے وصول کر لیا کروں اپکا بڑا احسان ہوگا
وہ مسمسی سی شکل بنایے کھڑا تھا
صبیحہ اسے کچھ کہتے کہتے رک سی گئیں پھر عالیہ کو پکار لیا
..........................................
یہ تو کافی عجیب بات ہے
پاپا کافی حیران ہوئے تھے سن کر
عجیب نہیں بہت عجیب ترین بات ہے
اور کسی کو چھوڑو کل مجھے کہتی ہے مجھے چکن کھانا میں نے کل الو گوشت بنایا تھا پوری ہنڈیا پڑوس میں بھجوا کر میں نے مرغی بھونی ہے
صبیحہ بے حد حیرانی سے بتا رہی تھیں
ہاں پاپا میں نے کل اسکا سارا گھر کا کام کیا تھا آج مجھے استانی صاحب نے بلا کر ڈانٹا بھی کہ چھوٹی بہن کا ہوم ورک کیوں کیا؟
سارا نے بتایا
میں کل دو گھنٹے اسکو سائکل پر بیٹھا کر گھوماتا رہا ہوں میری ٹانگیں ٹوٹ گئیں سائکل چلا چلا کر
بھائی نے بھی دکھڑا رویا
سب گول میزکانفرنس کر رہے تھے عالیہ خاموشی سے ایک کونے میں صوفے پر بیٹھی سن رہی تھی
عجیب بات تو ہے
شکیب صاحب نے کان کھجایا
کل مجھ سے کہنے لگی مجھے چوکلاتے کا ڈبہ لا کر دیں میں منع کرنے لگا تھا کہ دانت خراب ہو جائیں گے مگر میں نے پھر اسکو پورا ڈبہ لا کر دیا
عالیہ ایلین تو نہیں؟
آپی نے خیال ظاہر کیا
سب مڑ کر اسے گھورنے لگے تھے
از قلم ہجوم تنہائی

پیار کہانی نمبر پانچ میں وہ اور کوا


پیار کہانی نمبر پانچ 
میں وہ اور کوا 
ایک تھا لڑکا 
نہا دھو کر بالوں میں جیل شیل لگا کر تیار ہو کے ظاہر ہے کسی لڑکی سے ملنے جا رہا تھا 
بائیک لہرا لہرا کر چلاتے ہوئے گنگنا بھی رہا تھا 
اسکے اوپر سے کچھ کوے بھی اڑتے ہوئے کہیں جا رہے تھے 
ترنگ میں آ کر اس نے پوچھا 
سنو میں تو اپنی گرل فرنڈ سے ملنے جا رہا ہوں تم کہاں جا رہے ہو ؟
کوا جلدی میں تھا اڑتے اڑتے ہی بٹ کر گیا 
پھر کوے تو پتا نہیں کہاں چلے گیے 
اس لڑکے کو گھر واپس آنا پڑا اپنی گرل فرینڈ سے فون کر کے معزرت کر لی 
کافی خفا ہوئی تھی وہ 
گھر آیا تو نہا بھی لیا دوبارہ گندا بچہ تھوڑی تھا 
نتیجہ : ڈیٹ پر جاتے ہوئے کوے سے کبھی نہیں پوچھنا چاہیے وہ کہاں جا رہا ہے 

از قلم ہجوم تنہائی

بنیان والے انکل کی کہانی


بنیان والے انکل  کی کہانی 
ایک تھے انکل 
ہر وقت بنیان پہنے رکھتے تھے  شلوار پہنتے تھے  مگر کبھی بھی قمیض میں نظر نہیں آتے تھے 
جانے کیا وجہ تھی 
صبح اچھے بھلے پورے کپڑے پہن کر دفتر جاتے تھے ،مگر واپس گھر آتے اور قمیض اتار دیتے ہم بچے کافی حیران ہوتے تھے کتنے بے شرم انکل ہیں ایکدن وہ انکل نہا کر ٹیرس پر آگیے 
ہم نے انکو دیکھا اور ہم اندر کمرے میں گھس گیے 
کیونکہ اس بار وہ صرف تولیہ پہن کر باہر آگیے تھے 
اور ٹیرس پر وائپر لگانے لگ گیے 
نتیجہ : بےشرمی کی ہائٹ


از قلم ہجوم تنہائی

کوئی کہانی


کوئی کہانی 
ایک تھا کوئی 
اب تھا نہ کوئی 
اسکو کوئی کوئی ہی پسند کرتا تھا 
ایک دن کوئی نے سوچا 
کیوں نہ کوئی ایسا کام کرے کہ کوئی کوئی نہیں سب اسے پسند کرنے لگیں 
سو سوچتا رہا کوئی 
اسے سوچتے دیکھ کر کوئی ہنس پڑااور بولا 
کوئی سوچتا تھوڑی ہے کہ کوئی ایسا کیا کام کرے کہ سب پسند کرنے لگیں 
کوئی نے اس سے کہا 
کوئی تو سوچے گا نا کبھی کہ کوئی اچھا کام کر ہی لے جسے سب پسند کریں 
نتیجہ : اچھا کام کرنے کا سوچتا بھی کوئی کوئی ہے 

از قلم ہجوم تنہائی

ضرورت کہانی

ضرورت کہانی 

ایک تھی ضرورت بہت کمینی تھی ہر وقت خواہش کو مارتی رہتی تانگ کرتی رہتی تھی کبھی پورا نہیں ہونے دیتی تھی ہمیشہ آگے آجاتی تھی 
ایک بار روتی آئی اور خواہش سے بولی 
تم مر جاؤ 
ابھی خواہش سوچ ہی رہی تھی کیا جواب دوں ضرورت نے اسکا گلہ گھونٹ دیا 
مشہور ہوگیا خواہش نے خود کشی کر لی 
نتیجہ : خواہش معصوم ہوتی ہے 

از قلم ہجوم تنہائی

سائنس دان کہانی

سائنس دان کہانی 
ایک تھا سائنس دان ایک بار بیٹھا چا ۓ پی رہا تھا چینی کم لگی 
چینی دان سے چمچ بھر کر چینی ڈال رہا تھا کہ دیکھا چینی میں چیونٹی ہے 
اس نے اٹھا کر ایک طرف رکھ دی 
جانے کیا سوجھی اسے دیکھنے لگا 
چیونٹی چل نہیں پا رہی تھی صحیح طرح سے ...
لنگڑی ہو گئی تھی اسے دکھ ہوا اس نے اسی وقت چیونٹی کو اٹھا کر اپنی تجربہ گاہ میں لا کر مصنوئی ٹانگ لگا دی 
چیونٹی کے نیی ٹانگ تو لگ گئی مگر اسکے وزن سے زیادہ وزنی تھی سو وہ چل پھر نہ سکی مر گئی 
سائنس دان نے سوچا میں نے تو اسکا بھلا کرنا چاہا تھا یہ تو بھوکی مر گئی 
نتیجہ : ہر چیز میں سائنس لڑانا اچھی عادت نہیں ہے 




از قلم ہجوم تنہائی

main ne saawan se kaha

main ne saawan se kaha song full lyrics in urdu 
میں نے ساون سے کہا دل کی آگ بجھا ساون نے کہا چپکے سے جل جا
میں نے بادل سے کہا دل کی آگ بجھا بادل نے کہا پاگل ہے تو کیا 
ساون کے بس کی بات نہیں بادل کے بس کا کام نہیں 
اس روگ کی کوئی دوا نہیں اس درد کا کوئی نام نہیں 
میں نے جام سے کہا مجھ کو جلنے سے بچا 
تو جام نے کہا لے اور پی جا
مجھ کو پینے کا شوق نہیں
یہ دل کی لگی بجھانی ہے
آنکھوں میں کتنے آنسو ہیں
ساگر میں کتنا پانی ہے
میں نے ساگر سے کہا میری پیاس بجھا
ساگر نے کہا ڈوب ک مر جا
میں نے ساون سے کہا دل کی آگ بجھا
ساون نے کہا چپکے سے جل جا
جس روز یہ میرا دل ٹوٹا
اس روز بڑی برسات ہوئی
برسوں میں اس ہرجائی سے ایک دن جو میری ملاقات ہوئی
میں نے اس سے بھی کہا میری کیا ہے خطا
تو اس نے کہا تو نے پیار کیا

گوہر شناش کہانی



گوہر شناش کہانی 

ایک تھا بندر اسے سرا ہے جایے جانے کا شوق تھا 
ہر وقت اچھالتا کودتا الٹی سیدھی حرکتیں کرتا مگر کوئی بندر توجہ  نہ دیتا 
 ایک دن وہ دریا کنارے درخت پر چڑھ کر  اپنے پیٹ سے جویں چن کر کھا رہا تھا 
اس نے دیکھا ایک آدمی درخت پر چڑھا اسکی جویں کھاتے ویڈیو بنا رہا تھا 
بندر بڑا خوش ہوا بڑے انداز سے اپنی ویڈیو بنوائی تصویریں کھنچواتا رہا 
آدمی مسکرایا بندر ہے اگر آدمی ہوتا تو اپنی اتنی تصویریں کھنچوانے پر معاوضہ طلب کر لیتا خیر 
اس نے اس بندر سے دوستی کر لی اسے اپنے ساتھ لے گیا 
پھر جہاں جہاں جاتا بندر کو ساتھ لے کر جاتا بندر کوٹ پہن کر خوب بابو بن کر جاتا اسکو آدمی نے مزید کرتب سکھا دے وہ ہاتھ ملا کر سلام کرتا ہنستا حال احوال پوچھ لیتا اشارے کر کے بندر مشھور  گیا اسے سب سراہتے حوصلہ افزائی کرتے 
آدمی اپنے فن پارے دکھاتا کسی کسی تصویریں لی ہیں میں نے کیسے اسکو سب سکھایا 
مگر لوگ توجہ نہیں دیتے بس بندر بندر کرتے رہتے 
بندر مغرور ہوگیا اس نے آدمی کو جوتے کی نوک پر رکھنا شروع کر دیا بات نہ مانتا یہاں تک کے اسے چھوڑ کر چلا گیا 
آدمی اداس ہوا دوبارہ جنگل میں جا کر نیے سرے سے تصویریں بنانے لگا اس بار وہ درختوں پر چڑھتا کودتا پھاندتا  دیگر جانوروں کی تصویریں بنا رہا تھا کچھ بندر اسکی پھرتی  دیکھ کر بڑے حیران ہوئے 
کتنا قابل آدمی ہے اپنا توازن برقرار رکھتے کتنے مزے سے جیسے اڑتا پھر رہا  بندر ہوتا تو ہم اسکو سر آنکھوں پر بٹھاتے 

نتیجہ : انسان اور بندر میں ایک بات مشترک ہے نا قدرے ہوتے 
از قلم ہجوم تنہائی

مگرمچھ کے آنسو



مگرمچھ کے آنسو
ایک تھا مگر مچھ
روتا رہتا تھا
پانی میں رہتا تو کسی کو پتا ہی نہ چلتا کے رو رہا
باہر نکل کے روتا تو ایک سمندر اور بن جاتا 
ایک دن رونا چاہتا تھا اور یہ بھی چاہتا تھا کے کسی کو پتا نہ چلے
سمندر میں جا کے رویا
ایک وہیل گزری حیران ہو کر بولی تم کیوں رو رہے ہو؟
مگر مچھ اور حیران ہوا تمہیں کیسے پتا چلا میں رو رہا؟ سمندر میں تو کسی کو پتا ہی نہیں چلتا کے رو رہا ہوں
وہیل بولی...
.
.
.
پانی کا بہاؤ مخالف سمت ہے تمھارے
اس سے پتا چلا
نتیجہ : سائنس ہے باس 
از قلم ہجوم تنہائی

بطخ کہانی


بطخ کہانی 

ایک تھی بطخ
قین قین کرتی پھرتی
قین قین سریلی سی آواز میں کرتی تھی
اس نے سوچا وہ سب بطخوں کو جمع کر کے کونسرٹ کرے 
اس نے جمع کیا سب کو قین قین شروع کر دی
بطخوں کو پسند آئی
اب روز بطخیں جمع ہوتیں اور قین قین سنتیں
ایک دن بطخ کا موڈ نہیں تھا اس نے قین قین نہیں کی
بطخوں نے غصے سے اسے گنجا کر دیا
اب وہ جہاں جاتی سب کہتے
وہ دیکھو گنجی بطخ
سب بھول گیے تھے کے وہ اچھی قین قین کرتی تھی
نتیجہ : گنجے لوگوں کی کوئی قدر نہیں کرتا
از قلم ہجوم تنہائی

الٹی کہانی

الٹی کہانی
ایک تھا سارس مچھلی کھا رہا تھا
مچھلی اس کے حلق میں پھنس گئی
بڑا پریشان ہوا کچھوے کے پاسس گیا 
اس نے کہا ایسا کرو تم بی بطخ کے پاسس جو ان کے پاس ضرور کوئی حل ہوگا
بی بطخ کے پاس آیا ماجرا کہ سنایا
بی بطخ نے سوچا پھر ایک تب منگوایا اس میں الٹی کی اب کہا پانچ خشکی کے جانور بلا کے لاؤ
زیبرا آیا اس سے بھی الٹی کروائی
لومڑی کچھوا خرگوش پھدکتا آیا بولا میںنے بھی کرنی ہے اس نے بھی کی
بی بطخ نے اس میں چمچ چلایا
کسی جانور نے کیچوے کھایے تھے ہضم نہ ہے تھے وہ الٹی میں جاگ کے تیرنے لگے
بی بطخ نے ایک چمچ بھرا اور سارس کے منہ کے پاسس لا کر کہا لو اسے کھا لو
سارس نے دیکھا گھاس کا ملیدہ گاجر کے ٹکڑے سمندری کیڑوں کا لیس اور ان پر تیرتے کیچوے ابھی دیکھ رہا تھا کے بندر آیا اور اس نے بھی بالٹی میں جھانک کے الٹی کر دی وہ ویسے کیلا کھا کے آیا تھا
نتیجہ : کیا ہوا؟ الٹی آگئی؟
سارس کو بھی آ گئی تھی 


از قلم ہجوم تنہائی

مچھلی کہانی



مچھلی  کہانی

ایک  تھی  چھوٹی مچھلی
بڑی  دکھی  تھی
اسے  دکھ  تھا  کے   اس  کے  اندر  کانٹے  ہی  کانٹے  ہیں
کافی  عرصے  سے  مسکرائی  نہ  تھی
اس  نے  سوچا  آج  اسے  جو  بھی  ملےگا  اسے  دیکھ  کے  مسکرایے گی
مگر  مچھ ملا
مسکرا  دی
کیکڑا  ملا
مسکرا  دی
کچھوا  ملا
مسکرا   دی
دریائی  گھوڑا  ملا
مسکرا  دی
بڑی  مچھلی  ملی
مسکرا  دی
مچھلی   اسے  کھا  گی
نتیجہ : یہ  دنیا  مزے  لے  لے  کر  کھا   جاتی  ہے
چاہے  آپ  میں  کتنے  ہی  کانٹے  کیوں  نہ  ہوں ...

Machli kahani
ek thi choti machli
bari dukhi thi
usay dukh tha k us k ander kaantay hi kaantay hain 
kafi arsy se muskurai na thi
us ne socha aaj usay jo b milayga usay dekh k muskurayay gi
magar mach mila
muskura di
kekra mila
muskura di
kachwa mila
muskura di
daryai ghora mila
muskura di
bari machli mili
muskura di
machli use kha gayi
Moral : yeh dunya mazay le le ker kha jati hay
chahay aap main kitnay hi kaantay kiun na houn...

از قلم ہجوم تنہائی

main main kahani بکرا کہانی


بکرا کہانی


ایک تھا بکرا
میں میں کرتا تھا
ایک دن اسے ایک بھیڑیا کھا گیا
نتیجہ : زندگی بھیڑیا ہے آپ بکرا
میں میں کرنے سے کوئی فائدہ نہیں کچھ کر جاؤ تا کہ کہانی اتنی سی نہ رہ جایے

از قلم ہجوم تنہائی

تھوک کہانی



تھوک کہانی 

ایک بچے کو تھوکنے کی عادت تھی ہر وقت ہر جگہ پڑھتے کھاتے پیتے کسی سے بات کرتے سائیڈ پر تھوک دیتا تھا 
ایک دن اس نے فیس بک استمعال کی استٹس اپ ڈیٹ کیا اور سکرین پر سٹیٹس کی جگہ پر کھنکارا اور تھوک دیا 
نتیجہ : تھوکنے سے سٹیٹس گیلا نہیں ہوتا موبائل ہو جاتا 

از قلم ہجوم تنہائی

شرارتی چڑیا کہانی


شرارتی چڑیا کہانی

ایک تھی چڑیا بڑی شرارتی تھی کوا اسکا دوست تھا وہ اکثر جھوٹ بولتی اور کوے کو چڑاتی کہتی 
جھوٹ بولے کوا کاٹے 
کوا بھنا جاتا 
میں کوا ہوں مگر میں نے آج تک کبھی کسی کو جھوٹ بولنے پر نہیں کہتا 
چڑیا پھر چھیڑتی 
جھوٹ بولے کوا  کاٹے 
ایک دن کوا بولا 
تم جھوٹ بولو دیکھنا میں نہیں کاٹوں گا 
چڑیا مسکرائی بولی
تم بہت گورے چٹے ہنڈسم ہو 
کو ا چڑ گیا 
تم میرا مزاق اڑا رہی ہو چھوٹی بد صورت چڑیا تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟
تمہاری آواز بھی پیاری ہے 
چڑیا باز نہیں آیی 
دفع ہو جاؤ یہاں سے
کوا غصے سے پاگل ہو گیا 
چڑیا کو چونچ مارنے لگا
چڑیا پھر کر کے اڑی اور دوسرے شاخ پر بیٹھ کر بولی 
دیکھا میں نے کہا تھا نا 
جھوٹ بولے کوا کاٹے 

نتیجہ : چڑاؤ  مگر اتنا کہ کوئی چڑ ہی نہ جایے 

از قلم ہجوم تنہائی

پیار کہانی نمبر دس

پیار کہانی نمبر دس 

میرا موٹا پیار 

ایک تھی لڑکی تھوڑی موٹی سی ...
ایک تھا لڑکا دبلا سا 
دونوں ایک دوسرے سے بوہت پیار کرتے تھے 
ایک بار چوٹی سی بات پر دونوں کا جھگڑا ہوا لڑکی نے لڑکے کو بہت برا بھلا کہا 
لڑکے کو غصہ آگیا اس نے غصے میں لڑکی کو پتہ ہے کیا کہا ؟
موٹی 
لڑکی کو بہت دکھ ہوا رو پر اور چلی گئی 
لڑکے کو بھی احساس ہوا اپنی غلطی کا دونوں کو ایک مہینہ ہو گیا ایک دوسرے سے ملے ہوئے ایک مہینے بعد لڑکے نے لڑکی کو فون کیا اور معذرت کی 
لڑکی ماں گئی 
اس سے ملنے کو تیار ہو گئی دونوں اتنے عرصے بعد ڈیٹ پر گیے تو ایک دوسرے کو دیکھ کر حیران ہو گیے 
لڑکے نے اپنا وزن بڑھا لیا تھا پریشانی میں کھا کھا کر 
اور لڑکی نے دکھ میں کڑھ کڑھ کر اپنا وزن کم کر لیا تھا 


نتیجہ : اگر لڑنے سے کچھ اچھا ہوتا تو لڑائی اچھی ہے .. 



از قلم ہجوم تنہائی

[MV] 양요섭 (Yang Yoseob) - 신의 한 수 (The Divine Move) [화랑(HWARANG) Pt.6]

چڑیا کے بچے

چڑیا کے بچے 


ایک چڑیا کے تین بچے تھے 
وہ سارا دن ادھر ادھر اڑتے ہوئے ان کے لئے دانا ڈنکا جمع کرتی تھی جب واپس آتی تو بچوں میں بانٹ دیتی تھی اسکے دو بچے بہت تیز تھے وہ جب دن چگاتی تو چھینا جھپٹی کر کے پہلے سے لے لیتے کبھی ایک جیت جاتا کبھی دوسرا 
تیسرا ان میں ہمیشہ خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کرتا کبھی وہ کسی  کی پھرتی سے ہار جاتا کبھی کسی کی چالاکی سے چڑیا چاہتی تھی کہ تیسرا بھی کبھی اپنی قسمت ازمایے ایک بار ایسا ہوا کہ چڑیا دن میں دو بار دانہ لے آئ
پہلی بار ہمیشہ کی طرح دونوں بچوں نے پہلے حصہ لے لیا وہ جب دوسری بار دانہ لے کر آئ تو تینوں سست پڑے تھے اسکو دیکھ کر بیتابی سے آگے بڑھنے والے دونو بچے اب شکم سیری کے نشے میں چور تھے اس بار تیسرے کو موقع ملا اور اس نے بلا مقابلہ سب سے پہلے وہ دانہ لے لیا 
اگلی صبح وہ دوبارہ دانہ لینے جا رہی تھی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ کل اسکے پہلی بار دانہ جیت لینے والے بچے نے دانہ چگا نہیں تھا  
اسکو بھوک نہیں تھی کیوں کہ وہ باقی دونوں بچوں کے ساتھ پہلی بار ہی انتظار کر کے اپنا حصہ لے چکا تھا دوسری بار کی اسے بھی ضرورت نہیں تھی باقی دونوں کی طرح 

نتیجہ : ضرورت سے زیادہ اور خواہش سے کم کا ملنا نہ ملنا برابر ہوتا ہے 

از قلم ہجوم تنہائی

پیار کہانی نمبر آٹھ

پیار کہانی نمبر آٹھ

ایک بار ایک شرارتی سا بچہ سائکل پر ون ویلنگ کرتا  جا رہا تھا 
سامنے سے ایک بچی ٹیڈی بار لئے چلتی آ رہی تھی 
بچے سے سائکل کا توازن بگڑا وہ اس بچی سے ٹکرا گیا 
سائکل کا ہینڈل بچی کے منہ پر لگا اسکے آگے کے دونوں دانت ٹوٹ گیے 
وہ رونے لگی 
بچہ ڈھیٹ سا تھا اٹھا کپڑے جھاڑے بچی کے آنسو پونچھ کر کہنے لگا 
مت فکر کرو جب میں بڑا ہو جاؤں گا تو تم سے شادی کر لوں گا 
بچی خوش ہو گئی 
وقت گزرتا گیا دونوں بڑے ہو گیے 
لڑکی اکثر آیئنے میں دیکھتی اپنے ٹوٹے دانت پر نذر ڈالتی اور مسکرا دیتی 
لڑکا پڑھنے باہر چلا گیا 
واپس آیا تو اسکی گوری سی بیوی اور بچہ بھی ساتھ تھے لڑکی دکھی ہو گئی اس سے پوچھا اس نے
ایسا کیوں کہا لڑکا دکھی ہو کر کہنے لگا
میں گاڑی چلا رہا تھا یہ میری گاڑی سے ٹکرا گئی تھی اوس اسکی تو ٹانگ ہی ٹوٹ گئی تھی 
لڑکی نے معاف کردیا اسے 
نتیجہ : بچپن میں آپ نہیں جانتے بڑے ہو کر کب اپکا کس سے ایکسیڈنٹ ہو جایے لہٰذا دانت ٹوٹنے پر دانتوں کے معالج سے رابطہ کر کے ںیی داڑھ  لگوا لینی چاہے 

از قلم ہجوم تنہائی

hajoom e tanhai poetry

از قلم ہجوم تنہائی


hajoom e tanhai poetry

SONGS IN 50 DIFFERENT LANGUAGES

از قلم ہجوم تنہائی


  SONGS IN 50 DIFFERENT LANGUAGES

THEMES OF HAJOOM E TANHAI

از قلم ہجوم تنہائی



THEMES OF HAJOOM E TANHAI


SHORT URDU STORY

از قلم ہجوم تنہائی

TASVEERI KAHANI

از قلم ہجوم تنہائی

SAANS KAHANI






از قلم ہجوم تنہائی

بگلا کہانی


از قلم ہجوم تنہائی

Hajoom e Tanhai: دل جلانے کی بات کرو

Hajoom e Tanhai: دل جلانے کی بات کرو: دل جلانے کی بات کرو  بس چڑانے کی بات کرو بات کرو ایسی کہ تن بہ دن میں آگ لگ جایے سب کو تپا نے کی بات کرو  بات ہو ایسی سن کر اگلےکا خون ...

از قلم ہجوم تنہائی

دل جلانے کی بات کرو


دل جلانے کی بات کرو 
بس چڑانے کی بات کرو


بات کرو ایسی کہ تن بہ دن میں آگ لگ جایے

سب کو تپا نے کی بات کرو 

بات ہو ایسی سن کر اگلےکا خون جل جایے 
آگ لگانے کی بات کرو 


اب جب سنو کسی کی تو دس سنا بھی دو
کھری کھری سنانے کی بات کرو 


حد کردی دنیا نے بھی تمہیں تپانے کی
تم اب دنیا کو ستانے کی بات کرو 


ہجوم جس لہجے میں مخاطب ہو اب تم سے
تنہائی تم وہ زہر خند انداز اپنانے کی بات کرو


از قلم ہجوم تنہائی


موت اندھیرے سائے سی۔


موت اندھیرے سائے سی۔۔
مجھے ڈراتی ہے۔۔ خطرے دکھاتی ہے۔۔ 
مجھے بتاتی ہے۔۔ 
وہ دیکھو مغرب سے اٹھتے 
لاوے کے بادل ہیں۔
یہ بادل تمہارے شہر پر برسیں گے۔۔
یہ آگ کی بارش ہے۔۔
برس جو اگر پائے گی۔۔
تو تجھے صرف جلائے گی۔۔
اگر تم ایسی بارش پائو۔۔
تو دور ہٹ جائو۔
چھپ جائو سائباں میں
یا دور ہٹ جائو۔۔
دیکھو تماشا اس میں بھیگنے والوں کا۔۔
تپش سے پگھلتے جسموں ۔
ان سے بہتی خون کی آبشاروں کا۔۔
یا اگر کچھ کرنا ہو تو۔۔
کوئی آہنی چھتری لے آئو۔
نہیں وہ کھول جائے گی۔۔ جب بارش کی تپش بڑھ جائے گی۔۔
تم سمندر لے آنا۔۔
اس آگ کو بجھا جانا۔۔ ۔مگر سمندر کیسے لائو گے؟
وہ رک کر ہنستی ہے
چھوڑو۔۔
تم ایسا کرو۔۔
ارے تم۔یہ کیا کرتے ہو۔۔
کسی پگھلتے نفس کو بچانے کیا آگ میں کود پڑتے ہو۔۔
تم مجنون ہوئے ہو کیا۔۔
تم نے تپتی برستی آگ کی بوندیں خود پر لے لیں؟
تم تو مررہے ہو ۔۔
یہ کس کو بچایا ہے؟
کیا جانتے بھی ہو اسے۔۔
موت حیران بھی ہوئی
مگر۔۔
کیا تم یہ جانتے تھے ذی نفس۔۔
موت جو تم پر کھڑی ہنستی تھی۔۔
اب تم سے لپٹ کر روتی ہے۔۔
کہ
تم جلتے رہے ۔۔
پگھلتے رہے
مگر مر نہیں پائے۔۔
تم اپنے اس فعل سے
امر ہوگئے



از قلم ہجوم تنہائی

مختصر افسانہ


مختصر افسانہ
انکل نے بڑے پیار سے اس سے پوچھا
بیٹا تمہارا نام کیا ہے ؟
تین سالہ بچی سوچ میں پڑی پھر بولی
جی ،کمینی
۔
۔
۔

از قلم ہجوم تنہائی

نوٹ کہانی

نوٹ کہانی 
ایک تھا نوٹ 
اسے کوئی سنبھال کر بھول گیا 
برسوں گزرے نوٹ کی قیمت کم ہوتی گئی خستہ ہو گیا 
اسکو یونہی صفائی کرتے اپنی پرانی ڈائری  سے مل بھی گیا 
وہ نوٹ  اب تبدیل ہو چکا تھا اسکی قیمت بھی کم ہو چکی تھی خستہ اتنا تھا کہ ہاتھ لگانے پر جھڑنے  لگا اب بینک والے بھی نہ لیتے 
اس نے کوڑے دان میں ڈال 
دیا 
نتیجہ: پیسے کی وقت  کے ساتھ قدر کم ہوتی  جاتی ہے 


از قلم ہجوم تنہائی

پیسا کہانی


پیسا کہانی 


ایک آدمی کی جیب میں سوراخ تھا 
یہ بات وہ نہیں جانتا تھا  وہ   بازار سے گزر رہا تھا اسکی جیب میں کچھ پیسے تھے 
وہ چلتا جا رہا تھا اسکی جیب سے کچھ پیسے گرے 
ہوا سے اڑنے بھی لگے ایک دو لوگوں نے دیکھ لیا اور ان روپوں کی جانب لپکے
 اب اس آدمی کا حال سنو 
وہ چلتا جا رہا تھا  اسکے پیچھے لوگ آتے جا رہے تھے اس نے حیران ہو کر مڑ  کر دیکھا  اسکے مڑ  کر   جھٹکا لگتا 
کہ اسکے  پیچھے آنے والوں کی تعداد بڑھتی جا   رہی تھی اچانک اسکو چھن  چھن کی آواز آئ 
اس نے چونک کر  نیچے دیکھا اسکی جیب سے سکے اچھل کر باہر گر رہے تھے 
اس نے گھبرا کر جیب میں  ہاتھ ڈالا اسکے سب روپے گر چکے تھے 
دو چار سکے بچے تھے جو اب گرے تو اسے معلوم ہوا 
کہ اسکی جیب میں سوراخ ہے 
اس بار اس نے مڑ  کر دیکھا تو اسکے پیچھے آنے والا ہجوم چھٹ  چکا تھا اب اسکے جیب خالی ہو جانے کی وجہ سے کوئی اسکے پیچھے نہیں آ رہا تھا 
نتیجہ : دنیا صرف پیسے کے پیچھے آتی 
اور گھر سے نکلتے وقت جیب ضرور  دیکھ لینی چاہے 

از قلم ہجوم تنہائی

short urdu poetry samndr azaad nazm

سمندر 

میں انتظار میں ہوں
کب سمندر سوکھے
کب تہ اسکی نظر آیے
دیکھے دنیا کیا کیا سمیٹے تھا یہ پانی
وہ سب کچھ جس سے اسکا واسطہ نہیں تھا
تب کیا 
دنیا شکر گزار ہوگی
کتنا پردہ رکھا سمندر نے ؟
کیا کیا سہہ رہا تھا سمندر
کیا کوئی احسان مانے گا ؟
کیا جانے تب بھی یہ دنیا سمندر کو کوسے
کیا تھا اب بھی نہ سوکھتا 
سب راز کھول بیٹھا 


از قلم ہجوم تنہائی

ہائے روہنگیا Rohingya people

ہائے روہنگیا

اسکی فیس بک بھری تھی۔۔ اسکی ٹائم لائن پر جائو تو رونگٹے کھڑے کر دینے
 والے مراسلے تھے۔۔ خون لاشیں ظلم بربریت۔۔ کہیں ٹکڑے ٹکڑے جسم تھے کہیں معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کرتے جابر شقی۔۔
وہ آن لائن تھا۔۔
اس نے فورا اسے پیغام بھیجا۔۔
یہ کیا بھیج رہے ہو دل خراب ہوگیا۔۔
جہادی نامی آئی ڈی نے فورا جواب دیا تھا۔۔
یار یہ برما کی تصاویر ہیں۔ دیکھو کتنا ظلم ہو رہا بربریت کی انتہا ہے مسلمانوں کو چیونٹی کی طرح مسل رہے ہیں۔۔ عورتوں بچوں کو بھی نہیں چھوڑ رہے شقی۔۔
اوہ۔۔ اس کو یاد آیا۔۔ عالمی برادری بھی اس مسلے پر آواز اٹھا رہی تھی۔۔
صحیح۔۔
اس نے بس اتنا ہی ٹائپ کرکے بھیجا آگے سے فوری جواب آیا۔۔
تم بھی شیئر کر و نا ۔۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اس ظلم کی اطلاع پہنچے۔ یار ہم مسلمان ایک ہو جائیں تو مجال ہے دنیا ہمارا کچھ بگاڑ لے۔
ہمم۔۔ اس نے سوچا اور شئیر کر دیا۔۔
اسے فوری اطلاع آئی۔۔ جہادی نے آپکے اشتراک کیئے گئے مراسلے کو پسند کیا۔۔ پھر شائد اس نے اسکی پوری ٹائیم لائن کے ہر مراسلے کو پسند کرنا شروع کیا۔۔
جہادی نے آپکے جون میں اشتراک کیے گیے مراسلے پر تبصرہ کیا ہے۔۔
اسکو نئی اطلاع آئی۔ اس نے فورا کھولی۔۔
یہ کیا؟ تو شیعہ ہے؟
اس نے فوری جواب دیا۔۔
نہیں بھئی۔۔ میں سنی ہوں۔۔
فورا اگلا تبصرہ آیا۔۔
پھر یہ ہٹا مراسلہ۔۔
کیوں۔۔ وہ حیران ہوا۔۔
یار دیکھ اس قول میں حضرت علی کے نام کے آگے رضی اللہ کی جگہ علیہ السلام لکھا ہے۔۔
اس نے غور سے دیکھا۔۔
اس نے تو بس خلیفہ کا قول دیکھ کر اشتراک کیا تھا۔۔
قول تھا۔۔
فتنہ اور فساد میں اس طرح رہو جس طرح اونٹ کا وہ بچہ جس نےابھی اپنی عمر کے دو سال ختم کیئے ہوں کہ نہ تو اسکی پیٹھ پر سواری کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اسکے تھنوں سے دودھ دوہا جا سکتا ہو۔۔۔
تو ؟
اسے الجھن آئی۔۔
یار رضی اللہ لکھنا چاہیے حضرت علی کے نام کے ساتھ
خود تو نے تو رضی اللہ بھی نہیں لکھا۔۔ اس نے ٹوک دیا۔۔
اوہو۔۔ بحث مت کر ہٹا یہ مراسلہ گناہ گار ہو رہا ہے۔۔
جہادی کا فورا پیغام آیا۔
اسکے پاس دلیل تھی۔۔بہت سے علما متفق ہیں اس بات پر کہ حضرت علی کو علیہ السلام کہا جا سکتا ہے کہ رسول صلی اللہ و علیہ واآل وسلم کا نسب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور انکی اولاد پر درود و سلام بھیجا جاتا ہی ہے ۔۔وہ اہل بیت کو ماننے والا تھا سب سے بڑھ کر اس نے قول شئیر کیا تھا رضی اللہ یا علیہ السلام تو دیکھا بھی نہیں تھا پھر تھے تو وہ صحابی رسول پھر رسول کے داماد چچا زاد اہل بیت میں سے تھے انکا احترام اپنی جگہ تھا۔۔
اس نے سب کچھ لکھتے لکھتے مٹایا۔۔ اور بس اتنا سا تبصرہ لکھا۔۔
تو کہتا ہے نا ہم مسلمان ایک ہوجائیں تو مجال ہے دنیا ہمارا کچھ بگاڑ لے۔۔
میں کہتا ہوں مجال ہے جو تمام مسلمان ایک ہو جائیں۔۔
از قلم ہجوم تنہائی

sakitnya tu dsini indonesian song sung by pakistani girl

چڑیا کہانی


چڑیا کہانی


ایک تھی چڑیا ایک تھا چڑا
دونوں  ایک دن اڑتے جا رہے تھے کہ اچانک بارش شروع ہو گئی 
چڑیا کو بارش پسند نہیں تھی 
بولی چھتری لے کر آؤ
چڑا بھیگتا گیا اور چھتری لے آیا 
دونوں چھتری کے نیچے بیٹھ گیے 
بارش رکی ہی نہیں 
چھتری پکڑ کر اڑنا چاہا تو پتا چلا انکے پنجے چھتری پکڑ بھی لیں تو اپر سے تو وہ بھیگتے رہیں گے 
سو چھتری چھوڑی اور اڑ کر اپنے گھونسلے میں چلے گیے 

نتیجہ : اگر آپکو چھتری چاہیے تو نیی خرید لیجیے وہ چڑیا چڑا جانے کہاں گرا گیے چھتری 


از قلم ہجوم تنہائی



ذات کہانی



ذات کہانی 



قلق اتنا سا ہے 
ذوق تنہائی جدا سب سے 



از قلم ہجوم تنہائی

غصہ کہانی


غصہ کہانی 



ایک بار ایک کوئل اور کوے کی لڑائی ہو گئی 
کوے نے کوئل کو خوب برا بھلا کہا 
کیں کائیں کائیں کر کے خوب شور مچایا اتنی باتیں سن کر کوئل 
کو خوب غصہ آیا اور وہ شدید غصے میں بولی
کو ہو کو وووووو کو ہوو 
نتیجہ : غصے میں آپ کے منہ سی وہی نکلتا ہے جسکے آپ عادی ہوتے کہنے کے 



از قلم ہجوم تنہائی

short story

udaas urdu status

urduz.com kuch acha perho #urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen