اشاعتیں

urdu short poem لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

short story

kahani ek ujray shehar ki

کہانی ایک اجڑے شہر کی نام سمجھو شہر خموشاں عوام اسکے تھے بالکل عام سےتھے خاموش رہتےانجان ہر زبان سے تھے عروج حاصل تھا انہیں دانشوروں کی نسبت سبھی با شعور تھے سیکھا کرتےعلم و حکمت ایک دن آئے انکے شہر میں اہل علم پاس جن کے تھی لمبی زبان اور ایک قلم سکھایا انہوں نے شہر کے باسیوں کو بولنا لفظ لفظ کہنا بات بات کو تولنا۔ لفظوں آوازوں سے پر شہر کی فضاء ہوئی کہنے والوں کے منہ کھلے خاموشی بد مزا ہوئی علم وحکمت دور ہوئی ان پر تنزلی آتی گئ شوریدہ سری نے سر ابھارا بے رحمی چھاتی گئ بولنے والوں نے بولا اہم علم سے اتنا بتائو سکھا دیانا سب ہمیں ؟اب تم لوگ جائو اہم علم ہوئے پریشان حیران و خاموش کون جیت سکا ہے جب ہو سامنےجہل و جوش باندھا اپنا بوریا بستر راتوں رات شہر چھوڑ گئے علم و ہنر سے بھرا صندوق ، کنجی بھی توڑ گئے سوچا کوئی تو انکا سامان اٹھائے گا جو اٹھائے گا کچھ تو دھیان لگائے گا صندوق کھول کے شہر کےلوگ حیران ہوئے ایک بھونپو چھوڑا اورایک خط وہ بدگمان ہوئے اہل علم سے بولنا سیکھا پڑھنے سے رہے نابلد بھونپو بجا کر سوچا ڈال لی آسمان پر کمند ہنرمندان شہر نے ایسے پھرکئی  اوربھونپو بنائے ہر شخص کے ہات...

انجانے راستے

انجانے سے ہیں راستے ہم تم مگر سنگ ہیں چلے۔۔ پاہی لیں گے ہم منزل کبھی۔۔ ڈھونڈے گی پھر دنیا ہمیں۔۔ میں گمشدہ ہوں ضد پر اڑا ہوں منزل مجھے خود آکے ملے۔۔ بھاگتے ہوئے میں تھک  چکا ہوں۔۔۔ میں غمزدہ ہوں ٹھکرایا گیاہوں کوئی مجھے ہے کھو کے چلا کسی کو میں پڑا ملا ہوں۔۔۔ کوئی ہاتھ پکڑ کر اٹھانے نہ آئے۔۔ کوئی ہم قدم ہو کر نہ رستے بتائے۔۔ ٹھان لو دل میں جو ہو کچھ عزم پھر آسمان تک ارادے لگا لیں کمند۔۔ انجانے سے ہیں راستے کوئی چلے سنگ ورنہ ہم تو چکے پالے گی ایکدن خود منزل ہمیں ڈھونڈے گا پھر زمانہ ہمیں۔۔ نہ خواب کوئی ہے نہ ہے امنگ مجھ میں چھڑی ہے مجھ سے ہی جنگ جیت بھی میری ہے میری ہی ہار۔۔ ہمت نہ ہارنا تم بس اس بار۔۔ اپنے سے لگیں گے پھر یہ راستے۔۔ جو سنگ چلے ہیں بنے اپنے میرے۔۔ راہیں نئی ہیں نئی منزل میری۔۔ سنگدل دنیا۔۔ ایسی کی تیسی تیری از قلم ہجوم تنہائی