Monday, June 18, 2018

قیامت کا سوچا کبھی

قیامت کا سوچا کبھی ؟
یہی وجود یہی مٹی دوبارہ بنا دیا جایگا
جنّت کا سوچا کبھی ؟
خواہش ہی نہ رہے گی تشنگی تو چھوڑ
دوزخ کا سوچا کبھی ؟
ایک یہی تو اپنے اعمال کا پھل ہوگا
مگر روح کا کیا ہوگا ؟
اسے تو موت  بھی نہ آیگی
نہ اب نہ تب
اور ایک روح ہی تو بے چین رہتی ہے
روح کا کیا ہوگا ؟
روح کا سوچا کبھی ؟
از قلم ہجوم تنہائی

Wednesday, March 28, 2018

لڑاکا کی کہانی

لڑاکا کی کہانی
ایک تھا لڑاکا۔۔۔
بہت لڑاکا تھا۔۔
لڑتا ہی رہتا تھا۔۔
اس سے اس سے کبھی کبھی خود سے۔۔
لڑتے لڑتے تھکتا بھی نہیں تھا۔
ایکدن لڑ رہا تھا۔۔ کہ
لڑتے لڑتے ہار بیٹھا۔۔
سوچ میں پڑا میں تو ہار گیا جیتا کون۔
اس الجھن میں تھا کہ پاس سے گزرتے کسی نے الجھن کا سبب پوچھا۔۔
کہنے لگا
میں لڑ رہا تھا میں ہار گیا سوچتا ہوں جیتا کون؟
کسی نے پوچھا
ظاہر ہے جس سے لڑ رہے تھے وہ کس سے لڑ رہے تھے😧
لڑاکا بھڑک اٹھا۔۔
میں خود سے لڑ رہا تھا۔
مگر میں ہار گیا جیتا کون؟
کوئی بولا ۔ تم خود ہی ہارے خود ہی جیت گئے۔۔
ایسا کیسے ہو سکتا۔۔ لڑاکا لڑ پڑا۔۔
اس لڑائئ میں کون جیتا؟
کوئی لڑاکا نہیں تھا لڑاکا ہار بھی چکا تھا لڑاکا جیت بھی گیا مگر لڑاکا ابھی بھی شش و پنج میں ہے۔۔
لڑاکا خود سے لڑے اور ہار جائے تو جیتے گا کون۔۔
نتیجہ : لڑنا چاہیئے خود سے بھی مگر خود سے جیتنا بھی عزاب ہوتا ہے خود کو ہارنا بھی


از قلم ہجوم تنہائی

سنجیدہ یا رنجیدہ کہانی

سنجیدہ یا رنجیدہ کہانی
ایک تھا کوئی سنجیدہ بیٹھا تھا
پاس سے گزرتے کسی کو تشویش ہوئی پوچھ بیٹھا
کیا ہوا اتنے رنجیدہ کیوں ہو؟
کوئی حیران ہو کر بولا۔
میں رنجیدہ دکھائی دیتا ہوں؟ میں تو سنجیدہ ہوں
کسی کو ہنسی آگئ۔۔
کوئی مزید حیران ہوا۔۔
کیوں ہنسے ہو تم؟ میں سنجیدہ ہوں
کسی نے ہنستے ہنستے بتایا۔۔
میں رنجیدہ ہوں جبھی سوچا تم بھی رنجیدہ ہوگے۔۔ویسے اچھی بات ہے تم سنجیدہ ہو مگر رنجیدہ نہیں
تم سنجیدہ ہو؟۔۔ کوئی مشکوک انداز میں پوچھنے لگا
نہیں۔۔ کسی کوپھر ہنسی آگئ ہنس کر بولا
میں رنجیدہ ہوں۔۔
کوئی چڑ ہی تو گیا۔۔
میں سنجیدہ ہوں کہا نا
اور میں رنجیدہ۔۔
کسی نے اسکا مزاج بگڑتے دیکھا تو ہنستا اٹھ گیا۔
نتیجہ: ضروری نہیں کہ سنجیدہ انسان رنجیدہ ہو بالکل اسی طرح رنجیدہ انسان سنجیدہ ہو یہ بھی ضروری نہیں۔۔۔


از قلم ہجوم تنہائی

Saturday, February 24, 2018

امریکہ کی چھوٹی سی فرمائش

 امریکہ کی چھوٹی سی فرمائش 
سنو پاکستان 
مرے گھر میں میلہ  لگا ہے 
 بہت سے خوش کن تماشے ہو  رہے ہیں 
سب ہنس رہے ہیں 
سب خوش ہیں 
تمہارے حال پر سب ہنستے ہیں 
انکو اور ہنسانا ہے 
 تم بھی شامل ہو جاؤ 
مگر تماشا کرنے کے لئے 
کہ ہمیں اور خوش ہونا ہے 
ہمیں آتش بازی پسند ہے 
ایک چھوٹی سی فرمائش ہے 
تم اپنا گھر  جلا دو 
کہ اس آتش بازی سے سب خوش ہو جائیں گے 
بس چھوٹی سے فرمائش ہے 
از قلم ہجوم تنہائی

کہیں چہرہ کتابی

kaheen chehra kitabi...
kisi k andaz nawabi... 


koi kam sukhan per tez...
kisi ki tabyat hungama khez...


kbi dobo dia jheel si ankho nay...
kbi saya kia daraz zulfo nay...


kisi ki masoom ada k aseer huay...
kisi ki shola bayani k agay tasveer huay...


mang bethay hum b khuda e ishq say...
bach na sakay hum b waba e ishq say...


kaha tau bs itna k humain khazena e hayat tau ata kijyay...
huns k jawab mila ya wehshat kissi aik pe tau iktefa kijyay...


by hajoom e tanhai 
 کہیں چہرہ کتابی 
کسی کے انداز نوابی 

 کوئی کم سخن پر تیز 
کسی کی طبیعت ہنگامہ خیز 

کبھی ڈبو دیا جھیل سی  آنکھوں نے 
کبھی سایا کیا دراز زلفوں نے 

کسی کی معصوم ادا کے اسیر ہوئے 
کسی کی شعلہ  بیانی کے آگے تصویر ہوئے 

مانگ بیٹھے ہم بھی خداۓ عشق سے 
بچ نہ سکے ہم بھی وبا ۓ  عشق سے 

کہا تو بس اتنا کہ ہمیں خزینہ حیات تو عطا  کیجئے 
ہنس کے جواب ملا یا وحشت کسی ایک پہ اکتفا کیجئے 

از قلم ہجوم تنہائی

Monday, February 19, 2018

تھوڑا سا دھواں ہے

تھوڑا سا دھواں ہے 

 چھوٹی سی چنگاری کا 

مگر تپش بہت ہے 

یہ تپش مرے  اندر ہے 

 میں جل رہی ہوں 

میں اس سے نجات بھی پا سکتی ہوں 

مگر میں ایسا نہیں چاہتی 

مجھے جلنے میں ایک خوشی ہے 

کہ 

میں نے جلنے کے باوجود 

اس چنگاری کو ہوا دی ہے 

از قلم ہجوم تنہائی

بادل کہانی



بادل کہانی 
ایک تھا بادل یونہی کسی گھر کے پاس سے گزر رہا تھا گھر کا مالک دروازہ کھلا چھوڑ گیا تھا 
بادل اندر گیا کچن میں دیکھا چاۓ بنی پڑی تھی غٹا غٹ چڑھا گیا 
باھر گیا برسنے لگا 
لوگ حیران ہوۓ چاۓ برس رہی ہے سب کپ لے کر کھڑے ہو گیے گھر کا مالک بھی گزر رہا تھا سوچا میں گھر میں چاۓ بنانے کا که کر آیا ہوں بیوی نے بنا رکھی ہوگی وہ ہی پی لونگا گھر آیا تو دیکھا اسکا
کپ خالی پڑا ہے اور پورا گھر پانی پانی ہو رہا
بیوی پریشان کھڑی تھی
اس نے بیوی سے کہا چاۓ ؟
بیوی نے کہا بنا دونگی مگر پہلے ذرا گھر کا پانی نکال دوں بادل سب گیلا کر گیا شوہر نے کہا اچھا میں سوتھ دیتا ہوں تم چاۓ بنا دو اور
وائپر نکالا اور گھر سوتھنے لگا
بیوی کچن میں گئی دیکھا دودھ ختم انتظار کرنے لگی کہ شوہر کام ختم کر لے پھر دودھ لانے بھیجے 
نتیجہ : اگر بادل چاۓ برسا رہا ہو تو کپ لے کر کھڑے ہو جائیں گھر جا کے پینے کا شوق نہ پالیں گھر والوں کو اور بھی کام ہوتے ہیں چاۓ بنانے کے سوا


از قلم ہجوم تنہائی

short story

udaas urdu status

urduz.com kuch acha perho #urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen