اشاعتیں

اگست, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

short story

kahani ek ujray shehar ki

کہانی ایک اجڑے شہر کی نام سمجھو شہر خموشاں عوام اسکے تھے بالکل عام سےتھے خاموش رہتےانجان ہر زبان سے تھے عروج حاصل تھا انہیں دانشوروں کی نسبت سبھی با شعور تھے سیکھا کرتےعلم و حکمت ایک دن آئے انکے شہر میں اہل علم پاس جن کے تھی لمبی زبان اور ایک قلم سکھایا انہوں نے شہر کے باسیوں کو بولنا لفظ لفظ کہنا بات بات کو تولنا۔ لفظوں آوازوں سے پر شہر کی فضاء ہوئی کہنے والوں کے منہ کھلے خاموشی بد مزا ہوئی علم وحکمت دور ہوئی ان پر تنزلی آتی گئ شوریدہ سری نے سر ابھارا بے رحمی چھاتی گئ بولنے والوں نے بولا اہم علم سے اتنا بتائو سکھا دیانا سب ہمیں ؟اب تم لوگ جائو اہم علم ہوئے پریشان حیران و خاموش کون جیت سکا ہے جب ہو سامنےجہل و جوش باندھا اپنا بوریا بستر راتوں رات شہر چھوڑ گئے علم و ہنر سے بھرا صندوق ، کنجی بھی توڑ گئے سوچا کوئی تو انکا سامان اٹھائے گا جو اٹھائے گا کچھ تو دھیان لگائے گا صندوق کھول کے شہر کےلوگ حیران ہوئے ایک بھونپو چھوڑا اورایک خط وہ بدگمان ہوئے اہل علم سے بولنا سیکھا پڑھنے سے رہے نابلد بھونپو بجا کر سوچا ڈال لی آسمان پر کمند ہنرمندان شہر نے ایسے پھرکئی  اوربھونپو بنائے ہر شخص کے ہات...

Rasta aur nasoor kahani

تصویر
راستہ اور ناسور کہانی وہ شخص روز سفر کرتا تھا وہی راستہ تھا جو اسکی اسی منزل تک جاتا تھا پر اب تھکن دو گنا ہوگئ تھی پیروں میں زخم بن رہے تھے ۔ اس نے موٹے تلے والا جوتا خریدا مگر حل نہ نکلا تکلیف کا شائد راستے کے پتھر بڑے ہوگئے تھے چبھن بھی ذیادہ ہوگئ تھی۔ اس نے سوچا جب روز یہی راستہ اپنانا ہے تو کیوں نہ اسکو ہموار کردوں۔ کدال پھائوڑا بجری سمنٹ اس کو ایک لمبی سڑک اپنی منزل تک بنانے کیلئے مہینوں لگ گئے مگر ایک شفاف سڑک بن گئ۔ جس دن پہلی دفعہ اس پر قدم رکھا سوچا تھا اب سفر آسان ہو چکا ہوگا۔  سیدھئ ہموار پختہ سڑک پر قدم اٹھاتے اسکو احساس ہوا کہ نہ تکلیف میں کمی آئی نہ سیدھی سڑک سے راستہ چھوٹا ہوا۔ وہ تڑپتا منزل پر پہنچا جوتا اتارا جوتے میں خون بھرا تھا۔ اس نے پیرو کا تلوہ دیکھا تو ایک ناسور اندر پل رہا تھا اتنے مہینوں میں وہ اندر ہی اندر پل رہا تھا بظاہر پیر شفاف لگتا تھا مگر اب جا کر اسکا منہ بنا تھا اس نے ہلکے سے دباہ پچکاری کی صورت مواد باہر نکلا اس نے دبا دبا کر سب گندگی نکالی۔ جوتا دھویا زخم دھویا مگر اب اس نے جوتے کی جگہ آرام دہ کھلی ہوائی چپل پہنی   اس دن واپسی پر معمو...