نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

قیامت کا سوچا کبھی

قیامت کا سوچا کبھی ؟ یہی وجود یہی مٹی دوبارہ بنا دیا جایگا جنّت کا سوچا کبھی ؟ خواہش ہی نہ رہے گی تشنگی تو چھوڑ دوزخ کا سوچا کبھی ؟ ایک یہی تو اپنے اعمال کا پھل ہوگا مگر روح کا کیا ہوگا ؟ اسے تو موت  بھی نہ آیگی نہ اب نہ تب اور ایک روح ہی تو بے چین رہتی ہے روح کا کیا ہوگا ؟ روح کا سوچا کبھی ؟ از قلم ہجوم تنہائی

لڑاکا کی کہانی

لڑاکا کی کہانی ایک تھا لڑاکا۔۔۔ بہت لڑاکا تھا۔۔ لڑتا ہی رہتا تھا۔۔ اس سے اس سے کبھی کبھی خود سے۔۔ لڑتے لڑتے تھکتا بھی نہیں تھا۔ ایکدن لڑ رہا تھا۔۔ کہ لڑتے لڑتے ہار بیٹھا۔۔ سوچ میں پڑا میں تو ہار گیا جیتا کون۔ اس الجھن میں تھا کہ پاس سے گزرتے کسی نے الجھن کا سبب پوچھا۔۔ کہنے لگا میں لڑ رہا تھا میں ہار گیا سوچتا ہوں جیتا کون؟ کسی نے پوچھا ظاہر ہے جس سے لڑ رہے تھے وہ کس سے لڑ رہے تھے 😧 لڑاکا بھڑک اٹھا۔۔ میں خود سے لڑ رہا تھا۔ مگر میں ہار گیا جیتا کون؟ کوئی بولا ۔ تم خود ہی ہارے خود ہی جیت گئے۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا۔۔ لڑاکا لڑ پڑا۔۔ اس لڑائئ میں کون جیتا؟ کوئی لڑاکا نہیں تھا لڑاکا ہار بھی چکا تھا لڑاکا جیت بھی گیا مگر لڑاکا ابھی بھی شش و پنج میں ہے۔۔ لڑاکا خود سے لڑے اور ہار جائے تو جیتے گا کون۔۔ نتیجہ : لڑنا چاہیئے خود سے بھی مگر خود سے جیتنا بھی عزاب ہوتا ہے خود کو ہارنا بھی از قلم ہجوم تنہائی

سنجیدہ یا رنجیدہ کہانی

سنجیدہ یا رنجیدہ کہانی ایک تھا کوئی سنجیدہ بیٹھا تھا پاس سے گزرتے کسی کو تشویش ہوئی پوچھ بیٹھا کیا ہوا اتنے رنجیدہ کیوں ہو؟ کوئی حیران ہو کر بولا۔ میں رنجیدہ دکھائی دیتا ہوں؟ میں تو سنجیدہ ہوں کسی کو ہنسی آگئ۔۔ کوئی مزید حیران ہوا۔۔ کیوں ہنسے ہو تم؟ میں سنجیدہ ہوں کسی نے ہنستے ہنستے بتایا۔۔ میں رنجیدہ ہوں جبھی سوچا تم بھی رنجیدہ ہوگے۔۔ویسے اچھی بات ہے تم سنجیدہ ہو مگر رنجیدہ نہیں تم سنجیدہ ہو؟۔۔ کوئی مشکوک انداز میں پوچھنے لگا نہیں۔۔ کسی کوپھر ہنسی آگئ ہنس کر بولا میں رنجیدہ ہوں۔۔ کوئی چڑ ہی تو گیا۔۔ میں سنجیدہ ہوں کہا نا اور میں رنجیدہ۔۔ کسی نے اسکا مزاج بگڑتے دیکھا تو ہنستا اٹھ گیا۔ نتیجہ: ضروری نہیں کہ سنجیدہ انسان رنجیدہ ہو بالکل اسی طرح رنجیدہ انسان سنجیدہ ہو یہ بھی ضروری نہیں۔۔۔ از قلم ہجوم تنہائی

امریکہ کی چھوٹی سی فرمائش

 امریکہ کی چھوٹی سی فرمائش  سنو پاکستان  مرے گھر میں میلہ  لگا ہے   بہت سے خوش کن تماشے ہو  رہے ہیں  سب ہنس رہے ہیں  سب خوش ہیں  تمہارے حال پر سب ہنستے ہیں  انکو اور ہنسانا ہے   تم بھی شامل ہو جاؤ  مگر تماشا کرنے کے لئے  کہ ہمیں اور خوش ہونا ہے  ہمیں آتش بازی پسند ہے  ایک چھوٹی سی فرمائش ہے  تم اپنا گھر  جلا دو  کہ اس آتش بازی سے سب خوش ہو جائیں گے  بس چھوٹی سے فرمائش ہے  از قلم ہجوم تنہائی

کہیں چہرہ کتابی

kaheen chehra kitabi... kisi k andaz nawabi...  koi kam sukhan per tez... kisi ki tabyat hungama khez... kbi dobo dia jheel si ankho nay... kbi saya kia daraz zulfo nay... kisi ki masoom ada k aseer huay... kisi ki shola bayani k agay tasveer huay... mang bethay hum b khuda e ishq say... bach na sakay hum b waba e ishq say... kaha tau bs itna k humain khazena e hayat tau ata kijyay... huns k jawab mila ya wehshat kissi aik pe tau iktefa kijyay... by hajoom e tanhai   کہیں چہرہ کتابی  کسی کے انداز نوابی   کوئی کم سخن پر تیز  کسی کی طبیعت ہنگامہ خیز  کبھی ڈبو دیا جھیل سی  آنکھوں نے  کبھی سایا کیا دراز زلفوں نے  کسی کی معصوم ادا کے اسیر ہوئے  کسی کی شعلہ  بیانی کے آگے تصویر ہوئے  مانگ بیٹھے ہم بھی خداۓ عشق سے  بچ نہ سکے ہم بھی وبا ۓ  عشق سے  کہا تو بس اتنا کہ ہمیں خزینہ حیات تو عطا  کیجئے  ہنس کے جواب ملا یا وحشت کسی ایک پہ اکتفا کیجئے  از قلم ہجوم تنہائی

تھوڑا سا دھواں ہے

تھوڑا سا دھواں ہے   چھوٹی سی چنگاری کا  مگر تپش بہت ہے  یہ تپش مرے  اندر ہے   میں جل رہی ہوں  میں اس سے نجات بھی پا سکتی ہوں  مگر میں ایسا نہیں چاہتی  مجھے جلنے میں ایک خوشی ہے  کہ  میں نے جلنے کے باوجود  اس چنگاری کو ہوا دی ہے  از قلم ہجوم تنہائی

بادل کہانی

بادل کہانی  ایک تھا بادل یونہی کسی گھر کے پاس سے گزر رہا تھا گھر کا مالک دروازہ کھلا چھوڑ گیا تھا  بادل اندر گیا کچن میں دیکھا چاۓ بنی پڑی تھی غٹا غٹ چڑھا گیا  باھر گیا برسنے لگا  لوگ حیران ہوۓ چاۓ برس رہی ہے سب کپ لے کر کھڑے ہو گیے گھر کا مالک بھی گزر رہا تھا سوچا میں گھر میں چاۓ بنانے کا که کر آیا ہوں بیوی نے بنا رکھی ہوگی وہ ہی پی لونگا گھر آیا تو دیکھا اسکا کپ خالی پڑا ہے اور پورا گھر پانی پانی ہو رہا بیوی پریشان کھڑی تھی اس نے بیوی سے کہا چاۓ ؟ بیوی نے کہا بنا دونگی مگر پہلے ذرا گھر کا پانی نکال دوں بادل سب گیلا کر گیا شوہر نے کہا اچھا میں سوتھ دیتا ہوں تم چاۓ بنا دو اور وائپر نکالا اور گھر سوتھنے لگا بیوی کچن میں گئی دیکھا دودھ ختم انتظار کرنے لگی کہ شوہر کام ختم کر لے پھر دودھ لانے بھیجے  نتیجہ : اگر بادل چاۓ برسا رہا ہو تو کپ لے کر کھڑے ہو جائیں گھر جا کے پینے کا شوق نہ پالیں گھر والوں کو اور بھی کام ہوتے ہیں چاۓ بنانے کے سوا از قلم ہجوم تنہائی

بہت سوچا آج میں نے کہ میں کیا کیا سوچوں ..

boht socha aj mene k main kia kia sochoun... phr sochta houn sochna kia k kia kia sochoun...  socha akhir kuch mene ab is soch me gum houn... sochta houn k kia bataon main kia kia sochoun... itna socha sochain meri khud soch me per gaen... sochta kitna hay is soch ko k main kia kia sochoun... sochtay ho tum k socha mene akhir ab kia hay... me yeh sochoun tujh ko laga kia main kia kia sochoun... tanhai me sochoun hajoom mery gird sochta kya ha... hajoom me sochoun tanhai main main akhir kia kia sochoun poetry by Hajoom e Tanhai بہت  سوچا  آج   میں نے  کہ  میں  کیا  کیا  سوچوں ... پھر  سوچتا  ہوں  سوچنا  کیا  کہ  کیا  کیا  سوچوں ... سوچا  اکھڑ  کچھ  میں نے  اب  اس  سوچ  میں  گم ہوں ... سوچتا  ہوں  کہ  کیا  بتاؤں  میں  کیا  کیا  سوچوں ... اتنا  سوچا  سوچیں  میری...

کون سب سے برا ہے؟

کون سب سے برا ؟ کہانی ایک تھا فلسفی۔۔ بہت برا ۔۔ اسکی سب سے بڑی برائی تھی وہ سوچتا تھا۔۔ ہر وقت لگاتار ۔۔ سوچ سوچ کر اسکے سر کےنبال جھڑ چکے تھے۔۔ وہ اپنے شاگردوں کو بھی یہی تلقین کرتا تھا۔۔ سوچو۔ اسکے سب شاگرد بھی سوچ سوچ کر گنجے ہو چلے تھے۔۔ ایک دن فلسفی نے سوچا مقابلہ کرائے اپنے شاگردوں میں کون سب سے زیادہ برا ہے۔۔یعنی اپنی خامیوں سے سب سے زیادہ واقف کون ہے۔۔اس نے اپنے شاگردوں کو جمع کیا اور کہا۔۔ اپنی تعریف کرو۔۔ اپنی خوبیوں کو بیان کرو تاکہ مجھے اندازہ ہو تم لوگوں میں سے کون سب سے زیادہ برا ہے۔۔ کسی شاگرد نے ہاتھ کھڑا نہ کیا۔۔ سب سر جھکا کر بیٹھ گئے۔۔ فلسفی انہیں دیکھتا رہا۔۔ کسی کو اپنی کوئی خوبی معلوم نہ تھی۔۔ اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔ تم سب میں سب سے زیادہ میں برا ہوں۔۔ شاگرد حیرت سے سر اٹھا کر فلسفی کو دیکھنے لگے۔۔ گنجا بوڑھا روتا ہوا فلسفی واقعی دیکھنے میں بہت برا لگ رہا تھا۔۔ پھر جس جس کے سر پر بال بچے تھےانہوں نے اس کو دیکھ کر برا سمجھا انہیں احساس ہوا وہ کتنے بہتر ہیں۔۔ اور جس جس کا سر سوچ سوچ کر صفا چٹ ہو چلا تھا انہوں نے اسے دیکھ کر رشک کیا انہیں یقین ہ...

دھتکارے کی کہانی

دھتکارے کی کہانی ایک تھا کوئی۔۔ دنیا کا مارا تھا۔۔ جہاں جاتا ٹھکرایا جاتا۔۔ جو ملتا دھتکار دیتا۔۔ کوئی اپنا قصور بھی آج تک نہ جان پایا تھا۔۔ کوئی روتا تھا۔۔ بلکتا تھا۔۔ آخر مجھ سے ہی سب کو نفرت کیوں۔۔ یونہی دنیا کی دھتکار سہتا ملول سا جا رہا تھا۔۔ دیکھا کسی کو دنیا سر آنکھوں پر بٹھا رہی تھی۔۔ پھول نچھاور کر رہی تھی۔۔ کسی کو سب نے قبول کیا تھا۔۔ کوئی دیکھ کر اداس ہوا۔۔ مجھے ہی کیوں دنیا دھتکار دیتی۔۔ مجھے ہی کیوں خلوص نہ مل سکا۔۔ مجھ سے ہی سب بے زار کیوں ہیں۔۔ مجھے آخر اتنا زلیل و خوار ہونے کے لیئے پیدا ہی کیوں کیا۔۔ اتارا ہی نہ ہوتا زمیں پر یا واپس بلا لیا ہوتا سوال عرش والے سے کیا تھا۔۔ جواب ایک زمین زاد دے گیا۔۔ گزرتے ہوئے اسکا شکوہ سن کر ہنس پڑا۔۔ تم بہت خو ش نصیب ہو۔۔جو  دنیا کی ٹھوکر پر ہو جسکو دنیا مل جاتی ہے اسکو عرش میں مقام نہیں ملا کرتا۔۔ نتیجہ: چھوڑ دنیا دیتی ہے شکوہ خدا سے ہوتا ہے۔۔ از قلم ہجوم تنہائی

ایے دل مرے کبھی تو آرام کر

ایے دل مرے کبھی تو آرام کر  یوں دھڑک دھڑک کے نہ مجھ کو پریشان کر  اس نے تو پلٹ کر دیکھنا بھی نہیں تجھ کو  چاہے تو جتنا بھی اپنی آنکھوں کو مہربان کر  یہاں کسی نے تیرے دکھوں کا مداوا نہیں کرنا  یوں چوراہے پر نہ حال دل بیان کر تیری کم  عقلی  پر یہ لوگ ہنستے   بہت ہیں  اپنے دوستوں میں اب تو تو پہچان کر  عمر  کے ساتھ بھی نہ تھک کر بوڑھی ہوئیں  میری حسرتوں ذرا مجھے بھی تو جواں کر  وہ بھی تیرے دل سے اتر جائیں گے ہجوم انھیں ایک مرتبہ تو اپنی تنہائی میں مہمان کر  از قلم ہجوم تنہائی