نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

عبرت کہانی

عبرت کہانی ایک بار دو آدمی پہاڑ کھود رہے تھے ایک تھک گیا بار بار دوسرے کو کسی نہ کسی کام پر ٹوکنے لگا تم نے کدال ٹھیک نہیں پکڑا میں زیادہ کھود چکا ہوں دوسرا بھی چڑ گیا دونوں لڑ پڑے دوسرا کام چھوڑ چھاڑ غصے میں دور جا کر بیٹھ گیا پہلا کھودتا رہا پہاڑ سے چوہا نکل آیا  پہلا دوسرے کے پاس جا کر چلایا اچھا بھلا خزانہ ڈھونڈ رہا تھا تم نے ہاتھ لگایا تو چوہا نکل آیا نتیجہ : کچھ لوگوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ آپ کے سب کے کرایے پر پانی پھیر دیں از قلم ہجوم تنہائی

الفاظ کہانی

الفاظ کہانی ایک بار کسی کو کچھ لفظ دانت کاٹ گیے تکلیف سے دہرا ہو گیا گھایل من ہوا مرنے کو آگیا کسی نے مشورہ دیا بےحسی کے ٹیکے لگواؤ مگر زیادہ نا لگوانا  اس نے بےحسی کے ٹیکے لگوایے درد کم ہوا اسے درد سے نجات چاہیے تھی بار بار لگواتا رہا یہاں تک کہ خود بے حس ہو گیا اب اسکے الفاظ دوسروں کے دل توڑتے ہیں مگر وہ خوش رہتا ہے ... نتیجہ : دل نہ توڑیں امرود توڑ لیں از قلم ہجوم تنہائی

مشغلہ کہانی

مشغلہ کہانی ایک تھی بلی منحوس تھی جس راستے سے گزرتی اگلے سات سال اس راستے پر گزرنے والا نا مراد رہتا بلی کا مشغلہ تھا راستہ کاٹنا لوگ اس کو دیکھتے ڈر کر رستہ بدل لیتے ایک بار ایک آدمی نے سوچا فضول بات ہے میں گزر جاؤنگا دیکھتا ہوں کیا ہوتا بلی سامنے سے گزری  اگلے سات سال بلی اپنے نصیب کو روتی رہی  نتیجہ : انسان زیادہ منحوس ہوتے از قلم ہجوم تنہائی

ختم شد

از قلم ہجوم تنہائی اسکو بیاض قلم ہاتھ میں لے کر سوچتا دیکھا تو یونہی قریب جا کے پوچھا   کیا لکھتے ہو ؟  اس نے سر اٹھایا اور جو لکھا تھا دکھایا  اس بیاض کے پہلے صفحے پر لکھا تھا  ختم شد

ایک تھی رانی

ایک تھی رانی  میری نوکرانی   جھاڑو لگاتی تھی  پوچھا بھی لگاتی تھی  کام زیادہ کرنا پڑے  خفا بھی ہو جاتی تھی  راجہ میرا مالی تھا   کام اسکا باغ کی رکھوالی تھا  ایک بات پہ روز مجھ سے جھاڑ کھاتا تھا  کام کے دوران رانی کو تاڑتا جاتا تھا  ایک دن راجہ نے رانی کو پھول دیا  رانی نے وہ پھول قبول لیا دونوں نے پیار کی قسمیں کھا ئین مجھے بولے شادی کی چھٹی دو سائیں  دونوں کی آج شادی ہے  کہانی یوں تو سادی ہے  انکا گھر خوشیوں سے بھریگا  پر کون اب میرے گھر کا کام کریگا 

خاک کہانی

خاک کہانی ایک بار انمول سا کوئی خود کو تول بیٹھا آگاہی کے در انجانے میں کھول بیٹھا  چھوٹےپڑ گئے پیمانے سارے۔۔۔ گن ۔۔۔ گن گن ہارے سارے  خزانے خالی ہوگئےدنیا کے ایسے  مول نہ مل سکے انمول کے جیسے  ۔۔۔ قدرت کے کارخانے میں فخر سے پیش کر بیٹھا خودی۔۔۔ اس مقام نے  اسکی قسمت رولدی  پھر کسی نے دیکھا انمول کو رلتےخود شناسی کی آگ میں جلتے  در در کی خاک چھانتے تڑپتے بلکتے سسکتے  ترس کھا کر احوال تھا پوچھا  پچھتایا بھی پھر کیوں پوچھا  انمول کہاں انمول تھا رہا جانے کیا بیتی مجلول تھا ہو رہا خاک اڑاتا ستمرسیدہ تلاشتا تھا خلا میں عکس نادیدہ  سوال نے اسکے ٹھٹکایا یوں دیکھا اسے جیسے سمجھ نہ پایا  استہزائیہ ہنسا پھر بولا میں وہ ہوں جس نے خود کو خود ہی رولا انمول سمجھا پھر خود کو تولا  کسی کو تجسس نے تھا آگھیرا پوچھا پھر  یہ کیسا گردش کا گھیرا جان لینے کے سنا ہے سخت عزاب ہیں ہوتے سہہ جانےوالے کم اور گوہر نایاب ہیں ہوتے  مٹی ہوئے کہ کندن اپنا حال بتائو بے مول ٹھہر ے کہ انمول اپنا خیال بتائو  انم...