Thursday, September 28, 2017

ڈرا ونی کہانی ..

ڈرا ونی  کہانی ..
کچھ  دوست  تھے   ہوسٹل  میں  رهتے  تھے  ایک  بار  سردی  میں  واپس  آیے لحاف  میں  گھس  گیے  
گھسنے
 کے  بعد  دیکھا  دروازہ  تو  بند  کیا  ہی نہیں 
ایک دوسرے  کو کہا   کوئی  دروازہ  اٹھ  کر  بند  کرنے  کو  تیار  نہ  ہوا  ایک  دوست  بولا  میں  کر  دیتا  ہوں  اس  نے  ہاتھ  لمبا کیا  لیتے  لیتے  بند  کردیا .. سب  ڈر
کے  بھگ  گیے 
نتیجہ : ٹھنڈ  آنے والی ہے  کمرے  میں  داخل  ہوتے    ہی  دروزہ  خود  بند  کرنے کی عادت ڈال  لیں 


از قلم ہجوم تنہائی

Wednesday, September 27, 2017

انوکھی کہانی تیسری قسط


انوکھی کہانی 
تیسری قسط 
انوکھی تمہیں پرنسپل صاحب بلا رہے 
وہ حسب معمول اکیلی آدھی چھٹی میں بیٹھی باقی بچوں کو کھیلتے  دیکھ رہی تھی جب ایک بچہ بھاگتا ہوا آیا اور اسے بتا کر واپس بھاگ گیا 
وہ پیچھے پکار کر پوچھتی رہ گئی کیوں بلا رہے 
خیر کیا ہو سکتا تھا وہ پرنسپل صاحب کے کمرے میں آگئی 
بیٹا ادھر آؤ انہوں نے پیار سے اسے پاس بلایا 
وہ حیران سی ان کے پاس چلی ای
ان کے پاس دو لوگ بیٹھے تھے جو حلیے سے کافی معتبر دکھائی دیتے تھے اور تھوڑے بیزار بھی دکھائی دیتے تھے 
بیٹا ان سے کہو ہمارے اسکول کی رپورٹ اچھی بنائیں اور رشوت لے لیں آرام سے 
 انوکھی نے ان کے کہے الفاظ د ہرا دیے 
.......................................
رات کو کھانا کھاتے اسے جانے کیا یاد آیا پوچھنے لگی 
ابو رشوت کیا ہوتی؟
اگر آپکو کوئی کام کرنا چاہیے اپکا فرض ہے کرنا اور پھر بھی اس کام کو کرنے یا نہ کرنے کے آپ پیسے وصول کریں یا تحفہ کوئی بھی نا جائز فائدہ اٹھائیں تو اسے رشوت کہتے 
ابو نے تفصیل سے بتایا 
مگر کوئی کام آپکو کرنا ہی ہے اس کے کوئی پیسے کیوں دیگا ؟
اسے ابھی بھی صحیح سمجھ نہیں آیا 
دیکھو 
اس کے بھی نے چمچ پلیٹ میں رکھا اور اسے متوجہ کیا 
مجھے امی نے کہا بازار سے چاول لے کر آؤ میں گیا لے آیا 
میرا کام تھا اگر میں کہتا مجھے چاول لانے کے لئےقیمت سے   تھوڑے سے پیسے زیادہ دیں تو یہ کام کرنے کی رشوت ہوتی
یعنی تم پہلے سے ہی رشوت خور ہو 
آپی سمجھ گئیں
کیوں کیسے ... بھائی کو کافی برا لگا 
ایسے کہ تم ہمیشہ مجھے کوئی بھی چیز لا کر دینے کے زاید پیسے وصول کرتے ہو رشوت خور 
وہ غصے سے بولیں 
کوئی نہیں میں نے کب کیا ایسا 
بھائی صاف مکر گیا 
امی اس دن 
آپی کو کوئی پرانا جھگڑا یاد آگیا دونوں لڑنے بیٹھ گیے 
خاموش ہو جاؤ دونوں اور کھانا کھاؤ 
ابو نے ڈانٹا تب جا کے چپ ہوئے دونوں 
پاپا رشوت لینا بری بات ہے ؟
انوکھی نے پوچھا 
ہاں... ابو نے بلا توقف جواب دیا
رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں 
ابو اگر کوئی رشوت نا لے رہا ہو اور کسی کے کہنے پر لے لے تب بھی جہنم میں جایے گا 
انوکھی کسی خدشے سے ڈر کر بولی 
ہاں ... کوئی غلط کام کرنے کو کہے تو ماننا نہیں چاہے نا بیٹا 
خاموشی سے کھانا کھاتی دادی نے بھی باتوں میں حصہ لیا 
اور اگر کوئی ایسا کہے جسکی بات ٹالی نا جا سکے تب بھی 
اس نے کہتے کہتے سر جھکا لیا 
ایسا کون ہو سکتا ناجائز تو والدین کی بھی ماننا منع ہے 
امی نے کہا تو اس نے مزید سر جھکا لیا 
انوکھی کی آنکھوں میں آنسو آگے 
میں .... سب گھر والے کھانا چھوڑ کر اسکو دیکھنے لگے 
..............................................
انوکھی نے میز پر سر رکھا رونا شروع کردیا 
اب وہ دونوں انکل جہنم میں جائیں گے 
ابھی تھوڑی جب مریں گے تب  اور کیوں کے تم نے غلط کام کروایا انسے تو تم بھی جاؤ گی 
بھی نے تمسخر اڑایا 
ہیں ابو 
وہ ڈر گئی 
بری بات 
امی نے بھائی کو گھرکا وہ منہ بنا کر چپ ہو رہا 
یہ تو بہت غلط بات ہے پرنسپل صاحب نے انوکھی کی صلاحیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا 
آپی شدید غصے سے بولیں 
مجھے ان سے یہ امید نہیں تھی 
ابو پر سوچ انداز میں کہنے لگے 
پورا سکول انوکھی سے ڈرتا ہے کوئی بات بھی نہیں کرتا اس سے 
سارا نے بھی بتانا ضروری سمجھا 
 کیا واقعی ایسا ہے؟
دادی کو صدمہ لگا 
ہمیں انوکھی کا سکول تبدیل کروا دینا چاہیے اور اسکی خاصیت کو بھی چھپانا چاہیے اس طرح چلتا رہا تو لوگ اسکی خاصیت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہیں گے 
ابو نے پر سوچ انداز میں کہا امی بھی متفق تھیں 

از قلم ہجوم تنہائی

ہنس مکھ مکھی کہانی

ہنس مکھ مکھی کہانی 

ایک تھی مکھی خرم رہتی تھی 
ہنستی رہتی کسی نے جل کر اسے کہا ہر وقت ہنستی ہو کبھی ہنسی بچا بھی لو کل کو کام ایگی 
مکھی احمق مان گئی اب کوئی لطیفہ سنے 
ہنسے نا 
کوئی خوشی کی خبر ملے نہ ہنسے 
کچھ اچھا ہو نہ ہنسے 
ہنسنا سمجھو بھول ہی گئی 
ایک بار اسے ایک مکھی اپنا قصہ سنا رہی تھی 
کیسے ایک بار وہ مٹھائی کی دکان میں چلی گئی 
حلوائی شیرہ بنا رہا تھا اس نے چکھنا چاہا تو اسکے پاؤں چپک گیے 
حلوائی نے اس میں گلاب جامن ڈال دیے یہ مزے لے لے کر کھاتی رہی 
اتنے میں کوئی خریدار آیا اور گلاب جامن لے گیا ڈبہ کھولا سب سے پہلے مکھی والی گلاب جامں اٹھائی 
دیکھا مکھی ہے تو پھینک دی 
بس پوری گلاب جامن سے پورا مکھیوں کا جھنڈ کے دن مستفید ہوتا رہا 
وہ بتا کر ہنسے جا رہی تھی 
یہ مکھی خاموشی سے دیکھتی رہی 
دوسری مکھی حیران ہو کر پوچھنے لگی تمہیں ہنسی نہیں آی؟
مکھی بولی آی کل تھوڑا سا ہنس دوں گی مکھی کیا کہتی چپ ہو رہی اگلے دن مکھی بیٹھی رو رہی تھی 
ہنس مکھ مکھی نے پوچھا کیا ہوا بولی 
کیا بتاؤں کل میں رس ملی سمجھ کر گلو پر جا بیٹھی 
کسی بچے نے گھول رکھی تھی اپنی پتنگ جوڑنے کو 
چپک گئی 
پورے دو گھنٹے ہوا میں ادھر سے ادھر پتنگ کے  ساتھ بھوکی پیاسی اڑ ان  بھرتی رہی 
ہنس مکھ مکھی کو ہنسی آگئی مگر ضبط کرنا پڑا
نتیجہ : ایک تو بنا سوچے سمجھے ہر کسی کی سنا مت کرو 
دوسرا آج اگر ہنسی یے تو ہنس لو کل ہو سکتا اور برا کچھ ہو جایے 
از قلم ہجوم تنہائی

Tuesday, September 26, 2017

کردار کہانی

کردار کہانی

میں ایک کردار ہوں 
کیا بد ؟
نہیں
کیا معاون ؟ 
نہیں 
کیا ثانوی ؟
نہیں 
کیا مرکزی؟ 
وہ بھی نہیں 
میں وہ کردار ہوں جو ابھی لکھا نہیں گیا 
نتیجہ : کہانیاں وقت گزاری کے لئے ہوتی ہیں کردار نہیں 

از قلم ہجوم تنہائی

درد کہانی ...

درد  کہانی ...
ایک  بار  دو  درد  آپس میں  باتیں  کر  رہے  تھے ...
دل  ٹوٹنے  کا  درد  اور  ہڈی  ٹوٹنے کا  درد 
لڑنے  لگے  
ہڈی  کا  درد  بولا  میں  زیادہ  محسوس  ہوتا  ہوں  نظر  بھی آتا  تمہارا  کیا  ہے  عادت  ہو  جاتی  ہے  اتنا  ٹوٹتے  ہو ...
دل  کا  درد  بڑھ  گیا 
کہہ  نہ  سکا  تمہیں  تو  ہمدردی  بھی  ملتی  درد  کم  بھی  ہو  جاتا ...
دل  تو  نہ  جوڑتے  ہیں  نہ  ٹوٹنا  کم   ہوتے 
 نتیجہ : درد دل کا ہو یا ہڈی کا کوئی بانٹ نہیں سکتا 

از قلم ہجوم تنہائی

Monday, September 25, 2017

کہانی shajra



رات کہانی

ایک دفعہ دو لوگ آپس میں بات کر رہے تھے 
یونہی شجرے کا ذکر نکل آیا
ایک نے دوسرے کو غور سے دیکھا اور کہا بھائی آپ پٹھان ہو؟
دوسرے نے کہا نہیں بھائی میں پٹھان نہیں میں اردو سپیکنگ سید زادہ ہوں انڈیا سے ہجرت کر کے آیا ہے یہاں خاندان میرا
نہیں بھی آپ پٹھان لگتے ہو گورے چٹے ہو پہلا آدمی بولا
دوسرے نے انکار کیا
بحث بڑھی پہلے والا بولا آپ کے ابو یا امی میں سے تو کوئی ضرور پٹھان ہے
گھر جا کر پوچھنا
اتنی یہ بحث بڑھی کے دوسرے آدمی کو خود اپنے شجرے پر شک پڑ گیا گھر گیا جا کے اپنے اماں ابا سے انکی سات پشتوں کا احوال دریافت کیا
معلوم ہوا دہلی میں شجرہ موجود ہے ان کے کسی دادا کے رشتے دار کے پاس
وہاں تو رابطہ نہ ہوا مگر تسلی ہوئی اگلے دن اسی آدمی کے پاس گیا تفصیل سے بتایا نہ صرف امی بلکہ ابا بھی سید ہیں اپس میں رشتے دار ہیں دہلی سے ان کے بارے یہاں آیے تھے دوسرے آدمی کو تسلی ہو گئی معذرت کی ماں لیا
دوسرے آدمی نے معذرت قبول کر لی
یونہی بات برایے بات دریافت کیا
بھائی آپ کی ذات کیا ہے؟
پہلے نے جواب دیا ...
.
.
.
پٹھان 
نتیجہ : بحث کیجیے مگر شجرہ مت کھنگالیے دوسروں کا


از قلم ہجوم تنہائی

بادل کہانی

بادل کہانی 

ایک تھا بادل یونہی کسی گھر کے پاس سے گزر رہا تھا گھر کا مالک دروازہ کھلا چھوڑ گیا تھا 
بادل اندر گیا کچن میں دیکھا چاۓ بنی پڑی تھی غٹا غٹ چڑھا گیا 
باھر گیا برسنے لگا 
لوگ حیران ہوۓ چاۓ برس رہی ہے سب کپ لے کر کھڑے ہو گیے گھر کا مالک بھی گزر رہا تھا سوچا میں گھر میں چاۓ بنانے کا که کر آیا ہوں بیوی نے بنا رکھی ہوگی وہ ہی پی لونگا گھر آیا تو دیکھا اسکا
کپ خالی پڑا ہے اور پورا گھر پانی پانی ہو رہا
بیوی پریشان کھڑی تھی
اس نے بیوی سے کہا چاۓ ؟
بیوی نے کہا بنا دونگی مگر پہلے ذرا گھر کا پانی نکال دوں بادل سب گیلا کر گیا شوہر نے کہا اچھا میں سوتھ دیتا ہوں تم چاۓ بنا دو اور
وائپر نکالا اور گھر سوتھنے لگا
بیوی کچن میں گئی دیکھا دودھ ختم انتظار کرنے لگی کہ شوہر کام ختم کر لے پھر دودھ لانے بھیجے 
نتیجہ : اگر بادل چاۓ برسا رہا ہو تو کپ لے کر کھڑے ہو جائیں گھر جا کے پینے کا شوق نہ پالیں گھر والوں کو اور بھی کام ہوتے ہیں چاۓ بنانے کے سوا

از قلم ہجوم تنہائی

short story

udaas urdu status

urduz.com kuch acha perho #urduz #urduqoutes #urdushayari #urduwood #UrduNews #urdulovers #urdu #urdupoetry #awqalezareen