نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

لمحوں کی زنجیر (آزاد نظم)

ہاتھ سے چھٹتے لمحوں کی زنجیر تھامے وہ اجنبی شہر میں کھڑی لڑکی کیا دیکھتی ہے  کوئی بتائے اسے آج تو کل بن جائے گا کہ کل تو پھر آجائے گا یہ سعی بے کار ٹھہرے گی لمحے کہاں قید ہو پاتے ہیں ازل سے گزرتے رہے ہیں  چھوڑو جانے دو۔۔  اب مٹھی سے خون رسنے لگا ہے۔۔۔ از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom #urdupoetry #urdushortstories #shayari #lifestyle #urdupoetry #urdu #poetry #shayari #love #urduadab #urdushayari #pakistan #urduquotes #urdupoetrylovers #ishq #sad #lovequotes #urdupoetryworld #urdusadpoetry #shayri #lahore #hindi #hindipoetry #quotes #urdulovers #shayar #urduliterature #urduposts #karachi #instagram #poetrycommunity #like #mohabbat #bhfyp#hajoometanhai #hajoompoetry

گھر گھر کہانی

ببلی بنٹی سونی اور ببلو گھر گھر کھیل رہے تھے۔ ببلی اور سونی اپنی ننھی گڑیوں کو سنبھالتی کھانا پکا رہی تھیں صفائی کر رہی تھیں۔ اماں کا دوپٹہ سلیقے سے اوڑھے گھر کے کام نبٹاتی جھوٹ موٹ کی بریانی بنا کر سب گڑیوں بھالوئوں کو بٹھا کر انکے ساتھ کھا رہی تھیں۔ بنٹی بھی دوپٹہ اوڑھے ایک بھالو کو چمکار چمکار کر کھلا رہا تھا ببلو تھوڑی دیر تو دیکھتا رہا پھر جھلا کر پیر پٹخا مجھے بھی کھلائو۔میں کیوں باہر کھڑا ہوں کیونکہ تم پاپا ہو پاپا دفتر چلے گئے ہیں اب پانچ بجے آئیں گے۔ ببلی نے دوپٹہ سر پر جماتے ہوئے مدبرانہ انداز میں سمجھایا یہ بنٹی تو نہیں گیا اسے بھی بھیجو۔۔  ببلو نے گھورا۔ میں ماما بنا ہوا ہوں احمق۔  بنٹی نے دوپٹہ سنبھالتے گھورا۔  لڑکے ماما نہیں بنتے لڑکے پاپا بنتے ہیں پاگل۔  ببلو نے تمسخر اڑایا پاپا بن کے تو گھر میں رہتے ہی نہیں ۔ جو پاپا بنتے کھیل سے ہی نکل جاتے ہیں میں اسلیئے ماما بنا ہوں۔۔۔ بنٹی نے سر پر ہاتھ مار کر اسکی عقل کا ماتم کرتے ہوئے سمجھایا۔  نتیجہ: پاپا کو کھیل سے نکلنا نہیں چاہیئے ویسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom #ur...

بے امان کہانی

دنیا ختم ہو رہی تھی۔ ہر انسان اپنی ہیئت بدلتا ختم ہو رہا تھا۔ دنیا میں بچ جانا ہی زندگی کا واحد مقصد رہ گیا تھا۔ ایک تھا کوئی بچ رہا۔ کیونکہ اس میں جینے کی خواہش نہ تھی۔ جو جینا چاہتے تھے مرجاتے تھے۔ کوئی بچتا تو حیران رہ جاتا کہ کیسے بچا۔ ایک افراتفریح تھی۔ سب چیختے چنگھاڑتے اماں کی تلاش میں تھے۔کہیں بلند عمارتیں زمین بوس ہو رہی تھیں کہیں زمین شق ہو رہی تھی۔ سب اپنی اپنی قیامت سے نمٹ رہے تھے۔ کسی نے پکارا۔  کوئی ہے۔  کوئی چونک کر پلٹا  کیا دیکھا کسی پر آسمان آگرا اور زمین تنگ تھی۔ کوئی بھاگا بنا سوچے کہ لمحہ لمحہ سمٹنے والی زمین اس کو نا سما لے۔ کوئی بس آگے بڑھ کر کسی کو بچا لینا چاہتا تھا۔  کوئی اندھا دھند بھاگا۔ کسی کے اوپر سے آسمان کا ملبہ اٹھایا۔ تنگ ہوتی زمین کو ہاتھوں سے روکا۔ اپنی جان لڑا دی۔ پکارا مدد کیلئے۔ کوئی ہے۔  دوسرا کوئی مدد کو آیا کسی کو بچانے میں کوئی لگا ہوا تھا دوسرا کوئی مدد کر گیا۔ کسی کو بچایا۔ کوئی خود ہی بچ رہا۔ کیونکہ کوئی جینا نہیں چاہتا تھا۔ کسی نے شکریہ کہا دوسرا کوئی آگے بڑھ گیا کوئی کسی کے ساتھ ہو لیا۔ کسی کو پتہ تھا امان کہاں ملے...

کوئی جو خود پر روئے۔۔udas urdu shayari

کوئی جو خود پر روئے۔۔ سسک سسک کر روئے۔۔  کتنا روئے ۔۔ بلک بلک کر روئے۔۔ کب تک روئے۔۔ تڑپ تڑپ کر روئے۔۔ رو رو کر تھکے۔۔ اور تھک کر روئے۔۔ کوئی تو لاحق ہوگا غم۔۔ کوئی جو بیٹھے بٹھائے روئے۔۔ یہ انصاف تو نہیں۔۔۔ جو خود پر روئے۔۔ ہر رات روئے۔۔ بن بات روئے۔۔ وہ بس روئے جائے۔۔۔   از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom #urdupoetry #urdushortstories #shayari #lifestyle #urdupoetry #urdu #poetry #shayari #love #urduadab #urdushayari #pakistan #urduquotes #urdupoetrylovers #ishq #sad #lovequotes #urdupoetryworld #urdusadpoetry #shayri #lahore #hindi #hindipoetry #quotes #urdulovers #shayar #urduliterature #urduposts #karachi #instagram #poetrycommunity #like #mohabbat #bhfyp#hajoometanhai #hajoompoetry

زندگی سے ہو ہمیں کیا شکوہ

زندگی سے ہو ہمیں کیا شکوہ۔۔قسمت سے سب ہی خار لیئے۔۔ کچھ درد ہمارے اپنے  تھے کچھ اپنوں سے ہم نے ادھار لیے۔۔ کہتے ہیں آخری وقت آئے پھر جاتی ہے دنیا آنکھوں سے۔۔ کچھ منظر نگاہوں کو نہ جچے کچھ دنیا نے دل سے اتار لیئے۔ کچھ فسوں  تھا ایسا دو پہروں میں کہ شام زیست کھنچی چلی آتی تھی۔۔ کچھ اندھیرے بھی ہمارے پیچھے تھے کچھ ہم نے کسی سےمستعار لیے۔۔ اسے شکوہ رہا  ناآشنائی کا بے دردی کا بے نوائی کا۔۔ کچھ ہم بولے نہ کبھی اپنے لیئے ۔ کچھ اسکے لفظ  دل میں اتار لیئے۔۔ پل پل گنتے یوں گزاری جیسے زندگی ملی ہو خوب ساری۔۔ کچھ دن رات گزرے دبے پائوں کچھ رات دن انتظار میں گزار لیئے۔ حساب دوراں کے خسارے گنے تو تھے سب ہمارے یوں کہ کچھ خواب ہمارے پورے نہ ہوئے کچھ خواب خود ہم نے مار لیئے۔۔ ہجوم نے مانابھی تو تنہائی میں تنہائی ہی۔تنہائی ہے  ہجوم تنہائی میں۔ کچھاپنوں کو تنہائی ہی میسر نہ رہی کچھ اپنے ہجوم نے بے وقت پکار لیئے۔ از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom #urdupoetry #urdushortstories #shayari #lifestyle #urdupoetry #urdu #poetry #shayari #love #urduadab #urdushayari #...

ایک زرافہ اور بندر کہانی

ایک تھا زرافہ خوب لمبا خوبصورت سا۔ جنگل بھر میں اسکی لمبی گردن کی دھوم تھی۔ جس کسی کو اونچائی پر کوئی کام ہو تا زرافے سے مدد لیتا۔ بی چڑیا نے سرو کے درخت پر گھونسلہ بنایا تھا ٹوٹ گیا دوسرے درخت پر گھونسلہ بنا کر ایک ایک کرکے بچوں کو لے جارہی تھی زرافے نے مدد کی پیشکش کی بی چڑیا گود میں بچوں کو سمیٹ کر بیٹھ گئیں زرافے نے بچا کھچا گھونسلہ منہ میں دبا کر نئے گھونسلے پر لے جا رکھا ۔ یوں چڑیا کو اڑ اڑ کر تھکنے کی ضرورت نہ پڑی یونہی ایک دن بندر میاں اونچی ڈال پر چھلانگ لگا بیٹھے مگر بیچ میں اٹک گئے۔ ہاتھی  گینڈا گیدڑ لومڑی سب نیچے کھڑے دیکھتے رہ گئے کیا کریں ہاتھی میاں کی سونڈ بندر تک پہنچ تو گئ مگر بندر سونڈ میں لپٹنے سے ڈر رہا تھا۔ زرافہ قریب سے گزر رہا تھا بندر کو پھنسے بیٹھا دیکھ کر اسکے پاس جا کر گردن لمبی بندر مزے سے اسکی گردن پر پھسلا اور آرام سے نیچے آگیا۔  بندر کو یہ کھیل دلچسپ لگا زرافے سے دوستی ہی کرلی۔  بندر کا پرانا ساتھی ہاتھی جل اٹھا۔ کہاں وہ بد مست ہو کر جھومتا تھا اور بندر اسکی سواری کرکے خوش ہوتا تھا کہاں اب بندر صاحب زرافے کی گردن میں بانہیں ڈالے اونچی اونچی ...

بد صورت کہانی

بد صورت کہانی ایک تھا گائوں ۔ اس میں سب بد صورت تھے۔ کوئی ایک بھی شکل کا اچھا نہ تھا۔خوب صورتی کے سب لوازم سے بے بہرہ سب اپنی بد شکل کم رنگ بے ڈھب سراپوں کے ساتھ مطمئن خوش زندگی گزار رہے تھے۔ اپنا اپنا کام کرتے کسی عورت کی بھنوئیں آپس میں ملی تھیں تو کوئی داڑھی کے خط بنوانے سے بے بہرہ جھاڑ جھنکار بال منہ پر سجائے پھرتا۔ ایک روز کسی دوسرے گائوں سے ایک حجام اور اسکی بیوی تلاش روزگار میں ادھر آ بسے۔ دونوں دیکھ کر حیران رہ گئے کہ پورا گائوں اپنے ظاہر سے بے نیاز بدصورت چہروں کے ساتھ فخر سے سینہ تان کے پھرتا۔ حجام نے اپنی دکان کھولی لوگوں کی مفت میں حجامت کرنے کا لالچ دینے کو رعائیت دی کہ پہلی دفعہ جو بھی حجامت کروانے آئے گا اسکو مفت حجامت کرکے دوں گا۔لوگ مفت کا سن کر جوق در جوق آئے حجامت کروا گئے اسکی بیوی نے سوچا یہاں کی تو عورتیں بھی بنائو سنگھار کرنا نہیں جانتی چلو میں بھی یہ کام شروع کر دیتی ہوں۔ اس نے گھر کے باہر لکھ کر لگا دیا جو بھی عورت پہلی بار بنائو سنگھار کروائے گی اسے مفت کر کے دوں گی۔ عورتیں شوق میں اس سے بھنوئیں بنوانے آگئیں۔ دونوں میاں بیوی بہت خوش ہوئے۔ لوگوں نے اپبی صورتوں ...

Bechara kahani

بے چارے کی بے چارگی کی کہانی ایک تھا بے چارہ۔ بے چارہ بہت ہی بے چارہ تھا۔ اسکے ساتھ سب کا سلوک ایسا تھا کہ وہ بے چارہ سا ہی بن کے رہ گیا تھا۔سب اسکو بے چارہ ہی کہتے تھے۔بے چارہ بہت بے چارہ سا ہی لگتا تھا۔ بے چارے کو احساس بھی ہو گیا تھا کہ وہ تو بے چارہ ہے۔۔ ایک بار بے چارہ بے چارگی سے بولا۔  میں بے چارہ  کسی نے سنا تو ہنسا۔ تم بے چارے نہیں ہو۔ مجھے تو بے چارے نہیں لگتے۔ کسی کی سب سنتے تھے۔مانتے بھی تھے۔ اب بے چارے کو کوئی بے چارہ کہتا بھی نہیں تھا۔حالانکہ بے چارہ اب بھی بے چارہ تھا۔ نتیجہ : بے چارہ بھی بے چارہ تب ہی کہلاتا جب کسی کو لگے۔ بے چارہ از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom #urdupoetry #urdushortstories #shayari #lifestyle #urdupoetry #urdu #poetry #shayari #love #urduadab #urdushayari #pakistan #urduquotes #urdupoetrylovers #ishq #sad #lovequotes #urdupoetryworld #urdusadpoetry #shayri #lahore #hindi #hindipoetry #quotes #urdulovers #shayar #urduliterature #urduposts #karachi #instagram #poetrycommunity #like #mohabbat #bhfyp#hajoometanhai #hajoomp...

سرخاب کے پر کہانیSurkhab ke par kahani

سرخاب کے پر کہانی ایک تھا بندر چونکہ بندر تھا اسکی بندروں  جیسی حرکتیں بھی تھیں  ہوا یوں کہ ایک بار وہ اونچے درخت سے لٹک رہا تھا اس نے اونچی سی جست لگائی  دوسرے اونچے سے درخت پر اسکے ہاتھ سے شاخ چھوٹی سر کے بل نیچے آرہا۔ دھڑام سے منہ کے بل گرنے سے اسکا دانت ٹوٹ گیا۔ بندر رو رہا تھا قریب سے ایک سرخاب گزر رہا تھا اڑتے اڑتے نگاہ پڑی تو ترس کھا کے بندر کے قریب آرہا ۔۔ کیا ہوا میاں بندر کیوں روتے ہو۔ سرخاب نے ہمدردی سے پوچھا  بندر روتے روتے کہنے لگا میرا دانت ٹوٹ گیا ہے اب ہنسوں گا تو سب مجھ پر ہنسیں گے۔  اتنی معصومیت سے بندر بولا کہ سرخاب کو پیار ہی آگیا۔  نادان بندر تمہیں اچھا دکھائی نا دے سکنے کی فکر ہے دانت ٹوٹ جانے سے جو کیلا نہ کھا سکو گے اسکا کیا؟  بندر جھٹ سے بولا۔ میں کیلا جبڑے کی دوسری جانب سے کھا لونگا۔  سرخاب ہنس دیا۔ اپنا ایک پر توڑ کر بندر کے۔کان میں اڑس کر بولا جب ہنسنے لگنا تو اس پر سے منہ پر آڑ کر لینا تو کوئی تمہارا ٹوٹا دانت نہیں دیکھ پائے گا۔ بندر کو پر بھی اچھا لگا اور یہ ترکیب بھی۔ سرخاب نے اڑان بھری آسمان میں نکل گیا بندر۔  ...

Nuqsan kahani نقصان کہانی

نقصان کہانی ایک تھی لڑکی ۔ اسکے پاس چالیس ہزار کا فون تھا۔ ایکدن اس نے دکان سے دس روپے کی چاکلیٹ خریدی ہزار روپے کا نوٹ دے کر۔ دکان دار نے بقیہ رقم واپس کی تو اس نے موبائل کے کور میں پیسے رکھ لیئے۔۔ بات آئی گئ ہوگئ۔ گھر آکر اسے پیسوں کی ضرورت پڑی تو یاد آیا موبائل کور میں رکھے ہیں ۔ اس نے ڈھونڈا پھر رونے بیٹھ گئ۔ امی نے دیکھا روتے ہوئے تو ہمدردی سے پوچھنے لگیں کیا ہوا بولی میرے نو سو نوے روپے گم گئے ہیں مل نہیں رہے امی نے پوچھا کہاں رکھے تھے؟ بولی: موبائل کور میں اب مل نہیں رہے نا پیسے نا موبائل کور امی : اوہو موبائل کور گم گیا یعنی کتنے کا تھا؟ بولی: دو سو کا۔۔ امی: اوہو بارہ سو کا نقصان ہوگیا۔ چلو کوئی نہیں روئو مت۔ بولی: امی بارہ سو کا نہیں گیارہ سو نوے کا کیونکہ دس روپے کی چاکلیٹ کھا لی تھی۔ امی بولیں : اچھا چلو چھوڑو روئو مت۔ مجھ سے پیسے لے لینا شکر کرو موبائل کور گما ہے موبائل نہیں۔۔ بولی: امی مگر موبائل کور تو موبائل میں ہی لگا تھا نا۔ امی: گھبرا کر : خدایا اتنا مہنگا فون تھا ڈھونڈو مسڈ کال دو گھر میں کہیں پڑا ہوگا چالیس ہزار کا نقصان ہو۔جائے گا۔ بولی: چالیس ہزا...

سلطنت کہانیsaltanat kahani

سلطنت کہانی ایک تھی سلطنت ۔ بڑی سی ۔اسکا نظام اچھا نہیں تھا تو بہت برا بھی نہیں تھا چل رہا تھا بادشاہ بس جمعے کے جمعے وزیر کو بلاتا پوچھتا ترقی ہو رہی ہے؟ وزیر کہتا ہاں۔ بادشاہ پوچھتا فلاں فلاں کام کیئے۔ وزیر اثبات میں سر ہلاتا ۔بادشاہ مطمئن ہو جاتا۔ ایک دن وزیر نے سوچا کہ کیوں نہ جھوٹ بولنے کی بجائے کوئی ایک آدھا کام کر ہی ڈالوں۔ گیا محل کے باہر کھڑے  غربا ء میں خیرات بانٹ آیا۔ سب غرباء بادشاہ کے حضور شکریہ ادا کرنے پہنچ گئے۔  بادشاہ حیران ہوا۔ اسکی خوب واہ واہ ہو رہی تھی۔ خیر جمعہ آیا بادشاہ نے وزیر کو بلا بھیجا۔وزیر آیا۔  بادشاہ نے پوچھا۔ ترقی ہو رہی ہے۔ وزیر بولا ہاں۔ بادشاہ نے پوچھا خیرات بانٹ دی؟  وزیر اعتماد سے بولا جی ہاں۔  بادشاہ مطمئن ہوگیا۔  اگلا جمعہ آیا غربا پھر محل کے باہر خیرات کے انتظار میں آکھڑے ہوئے۔اس بار تعداد معمول سے ذیادہ تھی۔ بادشاہ خوش ہوا کہ لوگ اس سے خوش ہیں۔  جمعے کو وزیر کو بلا بھیجا۔  سوال دہرائے۔ وزیر نے خوش ہو کر بتایا کہ میں نے تو سب کام کر لیئے اور خیرات بھی بانٹی   وہ اب اپنی کارکردگی پر داد طلب کر رہا ...

Chirya ka bacha aur ghongha

ایک تھا چڑیا کا بچہ۔ اپنے گھونسلے میں بیٹھا تھا کہ ایک چیل  آئی لے اڑی چونچ میں دبا کر۔ ہوا اس دن تند و تیز تھی اڑتے اڑتے چیل جھونکوں کی ذد میں آئی چڑیا کا بوٹ اسکی چونچ سے چھوٹ گیا آگرا سیدھا ایک بڑے سے گھونگھے کے اوپر۔ گھونگھا اپنے خول میں سکڑ سمٹ کر بیٹھا تھا اپنے خول پر نرم سے وجود کے دھم سے آگرنے پر چونکا ۔ خول سے ٹکرا کر چڑیا کا بچہ زمین پرپڑا کراہ رہا تھا۔ گھونگھے نے خول سے باہر نکل کر دیکھا تو اسے بہت ترس آیا۔ اس نے چڑیا کے بوٹ کو منہ میں دبایا اور خول کے اندر لے آیا۔ اسکا خیال رکھنے لگا جو کھاتا اسے کھلاتا چڑیا کا بچہ اس سے مانوس ہوگیا اسکے پر نکل آئے گھونگھے کے ساتھ رہتے وہ جیسے ہی باہر خطرہ محسوس کرتا بھاگ کے گھونگھے کے ساتھ خول میں چھپ جاتا۔ مزید وقت گزرا چڑیا کا بوٹ تنومند ہو چلا تھا اب گھونگھے کے خول میں گھس نہیں پاتا تھا۔ ایکدن وہ اور گھونگھا دونوں باہر سیر کر رہے تھے کہ بلی چلی آئی۔گھونگھا جھٹ اپنے خول میں گھس گیا چڑیا کے بوٹ نے بھی گھسنا چاہا مگر گھونگھا تو پہلے ہی موجود تھا اسکے چھوٹے سے خول میں چڑیا کا بوٹ گھس نہیں پایا اس نے جھلا کر گھونگھے کو خوب چونچیں ماریں گ...

kahi un kahi kahani کہی ان کہی کہانی

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک بادشاہ بہت بوڑھا ہو چکا تھا مگر چاق و چوبند تھا سیاسی دائوپیچ کا ماہر ریاست کو بخوبی چلا رہا تھا اسکا ولی عہد اب بادشاہت کا خواہاں تھا اس نے باپ سے کہہ بھی دیا کہ اب اسے ریاستی امور اسے سونپ دینے چاہیئیں مگر بادشاہ اسے خود سے زیادہ اہل نہیں سمجھتا تھا۔ شہزادے کو بادشاہت کا شوق چڑھ چکا تھا۔ مگر وہ باپ کے تقدس کو پامال کرنا نہیں چاہتا تھا۔ ولی عہد کا ایک دوست تھا اس نے ولی عہد سے ایک دن کہا کہ اگروہ سو دن کے اندر بادشاہ کو نقصان پہنچائے بنا تخت اسے دلوا دے تو ولی عہد اسے کیا انعام و اکرام سے نوازے گا ۔ولی عہد نے کہا اگر میں بادشاہ بن گیا تو تمہیں وزیر بنالوں گا۔ مگر تم میرے باپ کو نقصان پہنچائے بنا ایسا کیسے کرپائوگے؟ وہ دوست ہنس دیا۔ کہہ کہہ کر  ولی عہد نے منہ بنایا کہنے سے کیا ہوتا؟ دوست چلا گیا۔ دوست نے بادشاہ کا اعتماد جیتا اور اسکے خاص غلاموں میں شامل ہوگیا جو ہروقت بادشاہ کی خدمت کیلئے حاضر رہتے۔ بادشاہ اکثر اسے دوسرے غلاموں سے کھسر پھسر کرتے دیکھتا۔ ایکدن اپنے غلام سے پوچھا آخر یہ کیا کہتا ہے۔ غلام نے جان کی امان پا کر عرض کی کہ یہ کہتا ہے بادشاہ سلام...