نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

Hud hud kahani

ایک تھا ہد ہد شاخ پر بیٹھا تھا کوئل پاس سے گزری بولی اکیلے بیٹھے ہو بے چارے ہو کسی فاختہ کے ساتھ ہی بیٹھ جائوہد ہد چپ رہا ۔ کوئل کی فاختہ سے دوستی تھی اس سے ذکر کیا اسے منا کر لائی ہد ہد کے پاس لا بٹھایا۔  اگلے دن گزری اب دو نوں چپ بیٹھے تھے۔ بولی دونوں چپ بیٹھے ہو بے چارے ٹھہرو میں گانا سناتی ہوں۔ کوئل گانے لگی۔ ہد ہد اور فاختہ دونوں بیزار ہو کر اڑ گئے۔ کوئل کو کسی نے گانے کے دوران زور دار جھانپڑ لگایا کوئل گھبرا کر آنکھیں کھولتی ہے مادہ ہد ہد خونخوار نگاہوں سے دیکھتے پوچھ رہی تھی میرا ہد ہد کہاں ہے اور یہ پر کس کے ہیں سب سے بڑھ کر تم یہاں کیا کر رہی ہو کوئل گھبرا گئ بولی۔۔ ممم میں گانا سنا رہی تھی۔مادہ ہد ہد نے ایک اور جھانپڑ لگایا۔۔بولی گانا گا کے میرا ہد ہد اڑا دیا اب جائو لیکر آئو اسے  کوئل اڑ گئ۔ مادہ ہد ہد اکیلے بیٹھ کر انتظار کرنےلگی پاس سے طوطا گزرا اکیلی بیٹھی ہو بے چاری ہو کوئل کے ساتھ ہی۔۔  مادہ ہد ہد نے جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی ایک زور دار جھانپڑ اسے لگا دیا۔۔  نتیجہ: اپنے معاملے میں کسی کو ٹانگ نہ اڑانے دو۔ اردو مختصر افسانے، کہانیاں، ناول ، شاعری از...

Aabi chakar kahani

چھوٹی ندی ننھئ ندی تم میں پانی کہاں سے آیا؟ بھر گیا جو پانی کدھر گیا؟ سمندر کیسے یوں بھر گیا؟ جہاں سے آیا تم کو سنائوں اپنی کہانی تمہیں بتائوں  سمندر پر جب سورج آیا پانی سے بخارات کو اڑایا ہوا میں پھیلے ننھے قطرے ٹھنڈے ہوئے پھر بادل بنے ہوا نے بادلوں کو اڑایا اونچے اونچے پربت پر پہنچایا بادل بھر کر ان پر برسے سورج کی روشنی کو لوگ ترسے پانی پہاڑوں سے نیچے آیا  ندی نالوں کو بھئ بھرتا آیا ندی کہانی سب کو سنانی جس نےنہیں سنی اسے سمجھ نہیں آنی پانی کیسے بادل بنا آیا بارش نے کیسے ندی کو بھروایا  0 سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟  کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟  آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے   Desi Kimchi .. دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔ Desi Kimchi seoul kore...

ahsaas ka poda

میں ایک احساس کا پودا تھا۔   کبھی توجہ کی آبیاری سے پھلا پھولا تھا۔ میرے پھولوں کی خوشبو پھیلی تھی کوبکو دھنک رنگ تتلیاں میرے گرد منڈلائی تھیں۔ کئی دلگیر سکون پاگئے تھے میرے قرب میں کچھ بےدردوں نے میری جڑوں کو کھسوٹا تھا   جانے کیسے پھر موسم بدلا ہوائوں میں پھر بے گانگی چھائی  آلودہ ہوئے دل سب کے مردہ ضمیری کی رت ہے آئی۔ میں سوکھتا گیا یوں  کہ سب بے گانے ہوئے دل سمٹے سب کے  ایک دوجے سے انجانے ہوئے تم ایک جو میری بپتا سنتے ہو جان کنی کے لمحے کے اسیر لگتے ہو میرا غم سمجھ سکو تو کہوں میں آج ہوں کل رہوں نہ رہوں کیا کروگے مرتے پودے کی پوری اک خواہش  جو تم سے ہو سکے تو کرنا ذرا یہ کوشش اپنے دل میں ذرا سی نم مٹی کرنا اپنوں پرائوں کے دیئے زخم ستی کرنا مجھے بونا دل کے کسی کونے میں کبھی کبھی ان پر آنسئوں کی بارش کرنا شائد وہاں جڑ پکڑکر میں۔۔ چند ساعتیں اور جی جائوں۔ مرتے مرتے  کسی مرتے ہوئے کو  زندہ کر جائوں۔۔۔ 7/10/2022۔۔۔۔۔۔ If You Do Not (watch)REVENANT KDRAMA Now, You Will Hate Yourself Later سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں ...

بے خوف دوشیزہ کہانی

نیم اندھیرے کمرے میں تنہا بیٹھے کمرے کی کھڑکی سے باہر رات کی تاریکی میں ادھورے چاند کو دیکھتی اس لڑکی نے کچھ سوچا پھر خود کلامی کرنے لگی۔   گھپ اندھیروں سے  تنہائی سے اس ادھورے چاند کو دیکھتے آج پہلی بار احساس ہوا ہے مجھےکہ اس دنیا کو دیکھ لینے کے بعد  اب  مجھے دنیا میں کسی چیز سے ڈر نہیں لگتا۔چایے کوئی بھی چیز سامنے آجائے مجھے خوف نہ آپائے گا۔  دور دیوار پر بیٹھی چھپکلی نے بہت غور سے اس لڑکی کو دیکھا۔پھر۔  حیران ہو کر پوچھ بیٹھی۔۔  واقعی؟ لڑکی کی آنکھیں پھیلیں۔ نیم اندھیرے کمرے میں رات کے پچھلے پہر تنہا بیٹھےہوں اور کمرے میں اچانک ایک چھپکلی نمودار ہو کر مخاطب ہو بیٹھے تو؟  لڑکی خوف کے مارے گنگ ہوئئ اور بے ہوش ہو گری   چھپکلی نے منہ بنایا۔  توبہ ہے۔لڑکیاں کتنی عجیب ہوتی ہیں۔ روشنی ، انسانوں اور اپنائیت کے احساس کی عدم موجودگی پر خوف نہ آیا ایک مخلوق کی موجودگی ڈرا کر بے ہوش کر گئ    نتیجہ : بے خوفی بہادری نہیں ہے۔ بہادر انسان بے خوف ہو سکتا ہے مگر بے خوف انسان بہادر ہو ایسا ضروری نہیں ہے۔  © Vaiza Zaidi سلام دوس...

بیدار ہوں میں

کوئی تو جگائے ہمیں ہم خواب دیکھنے والوں کو حقیقت یہ دکھائے کہ نہ وقت بدلتا ہے نا لوگ بدلتے ہیں۔  بس یہ خواب رہ جاتا ہے کہ زندگی میں کبھی کوئی ایک ایساپل آئے گا بھلے کچھ نہ مل پائے گا بس لمحوں کیلئے سہی یہ وقت مجھ سے کچھ نا چھین پائے گا نہ وہ ادھورے خواب میرے نہ وہ خوشکن خیال میرے ناہو کچھ کر دکھانے کی لگن نا اپنا آپ منوانے کی دھن مجھے جانا ہے واپس اس وقت میں  جب  نا پاس تھا کچھ میرے نا کوئی خواب دیکھے تھے نا اپنوں کے کچھ چہرے بے نقاب دیکھے تھے ہاں  بیدار تھی بس میں۔  دنیا سے بیزار تھی بس میں۔  بس وہی وقت مجھے اب واپس کہیں سے مل جائے  اسی مقام پر زندگئ کے مجھے اب کوئی چھوڑ کر آئے میں اب وعدہ کرتی ہوں۔ کوئی خواب نہ دیکھوں گی۔ نا حساب زیاں کروں گی مجھے ایک بار بس اپنے دل سے خوش ہونا ہے نہیں چاہیئے کوئی ہنسی مجھے کھل کر اب رونا ہے۔  کوئی تو اس دنیا میں بس ایک بار مجھے  اس آگہی سے دور  پہنچا دے۔ پھر بھلے ۔  مجھے میرےخوابوں میں ہی رہنے دے۔ مگرایک بار مجھے  میرے اس  خواب سے جگا دے۔۔ © Hajoom.E.Tanhai

ایک باز اور کوا

ایک بار ایک باز اور کوے نے آپس میں شرط لگائی کون ذیادہ اونچی اڑان بھرتا ہے۔ باز نے کوے کو منع کیا۔ اس کی اڑان بلند ہے کوا اسکا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ کوا ہنسا۔ سارا دن جسکا کام شہر بھر کی فضائیں ناپنا ہو اسکی اڑان کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔ باز چپ ہو رہا۔ کوا نادان شائد باز کی پرواز سے ناواقف تھا۔ باز کیا بتاتا جہاں پر کوے کی اڑان ختم ہوتی وہاں سے باز جست لگا کر آسمان پر قلابازیاں لگاتا ہے۔  دونوں اڑے۔ کوا تیز اڑان بھرتا پہاڑ کی اونچی سی ایک چوٹی پر جا بیٹھا ۔  باز نے اڑان بھری۔ قلابازئ لگائی۔ کوا اسکی اڑان سے خوفزدہ سا ہوا۔ باز اڑتا آیا اور پہاڑ کی چوٹی پر جا نے کی بجائے کوا جہاں بیٹھا تھا وہیں اڑ کر آنے لگا۔  کوے نے باز کو اپنی برابری کرتے دیکھا تو گھبرا کر اس پر پتھر اچھا دیئے۔ باز اس حملے کیلئے تیار نہ تھا۔ بیٹھتے بیٹھتے اڑا قلابازی کھائی اور اونچی اڑان بھرتا آسمان کی وسعتوں میں گم ہو گیا۔۔ نتیجہ: جب آپ کسی کا راستہ روکتے ہیں تو وہ نئی راہ اختیار کرکے آپکی توقع سے آگے کہیں بڑھ جاتا ہے۔ 

Urdu web travel novel Links

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟  کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟  آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے   Desi Kimchi .. دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔ Desi Kimchi seoul korea based Urdu web travel Novel ALL EPISODES LINKS https://urduz.com/desi-kimchi-seoul-korea-based-urdu-web-travel-novel/ New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea. Bookmark : urduz.com kuch acha perho Salam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy New  Urdu Web Travel  Novel  : Salam Korea Featuring Seoul Korea. https://urduz.com/salam-korea-episode-1/

چڑیا اور بادل کی کہانی

چڑیا اور بادل کی کہانی۔  ایک تھی چڑیا۔ اس نے ایک ٹنڈ منڈ درخت پر گھونسلہ بنایا۔ اس میں انڈے سینچے۔ دنوں گرمائش پہنچائی۔ انڈوں سے چڑیا کے بوٹ نکلنے کو تھے۔ کہ اچانک کہیں سے موسم بدلا۔ گھٹا چھائی بادل گھر گھر آئے۔ چڑیا کا دل گھبرایا۔ بادل سے گزارش کرنے لگی۔ میرا تو تنکوں کا گھونسلہ ہے تیز آندھی بارش نا سہار پائے گا میرا آشیانہ تو بکھر جائے گا۔ کیا ہو سکتا ہے ایسا تم اپنا رخ موڑ لو برسو کہیں بھی میرا گھونسلہ چھوڑ دو۔ بادل اس ننھئ چڑیا کی بات پر سوچ میں پڑا ۔۔ اس نے چڑیا کے آگے کیا سوال ایک کھڑا۔ ایک ننھی چڑیا کے ننھے بوٹ کی خاطر میں اپنا آسمان چھوڑ دوں ؟ انکا کا کیا جو اس برستی بارش کے انتظار میں ہیں۔ بھوکے ہیں پیاسے ہیں بے حال سے ہیں۔ ۔ بارش صرف اس درخت پر تو نہ برسے گی۔ پیاسی زمین کیا ایک چڑیا کی خاطر بوند بوند کو ترسے گی؟سوچا تھا برسوں گا اتنا کہ پھر ہریالی ہوگی چرند پرند خوش ہونگے خوشحالی ہوگی۔  چڑیا بولی : میں نہ مانوں مجھے عزیز میرا ننھا سا ہے گھونسلہ۔ زمین وسیع ہے اسکا ہوگا بہت حوصلہ۔ چند دن کی بات ہے کونسا زمین زاد مرجائیں گے۔ میرے بچے چند دن سینچیں گے پروں کو پھر ا...

Ek shark aur mainduk

  ایک دفعہ ایک شارک حادثاتی طور پر سمندر کنارے آگئ۔ تڑپتی ہوئی ساحل کنارے شارک کو دیکھ کر ایک مینڈک کو ہمدردی محسوس ہوئی۔ پھدکتا پاس آیا اور احوال پوچھنے لگا۔ لب مرگ شارک نے سسکتے ہوئے بتایا کہ کیسے سمندری طوفان اسکی ہمت سے کہیں بڑا تھا اور وہ اسے کسی تنکے کی طرح بہا کر ساحل کنارے پھینک گیا۔ مینڈک کو بڑی ہمدردی محسوس ہوئی۔ بولا۔ سمندر ایسا ہی بے رحم ہے اور بڑا ہے بہتر ہے کنوئیں کا رخ اختیار کرو نہ ساحل سے آٹکرانے کا خوف نہ ہی سمندری طوفان میں ہچکولے کھانے کا۔ بس آرام سے کنوئیں میں تیرتی رہنا۔ شارک سمندری مخلوق کیا جانے کنواں کیا چیز بولی۔ اچھا ایسی بھی جگہ ہے؟ مجھے لے چلو۔ میں بخوشی ایسی جگہ رہ لوں گی۔ مینڈک ٹرانے لگا۔ پھدک کر راستہ دکھانے لگا۔ شارک اسکے پیچھے چلتی راستے کے پتھروں سے جسم چھلواتی چلتی چلی گئ۔ کچھ فاصلے پر ایک کنواں تھا۔ مینڈک نے خوشی خوشی اسے کنواں دکھایا اور خود پھدک کر کنوئیں کی منڈیر سے اسے نیچے آنے کی دعوت دینے لگا۔  شارک نے آئو دیکھا نا تائو کنوئیں میں چھلانگ لگا دی۔ مگر یہ کیا۔ کنوئیں کا منہ اسکی توقع سے کم اسکے وجود کے مقابلے تو بہت ہی کم تھا...

Story of a Tree and a parasite

 once there was a parasite. It was living with the tree.it derived food from the tree.  it was happy and contended. Tree knew that alot of creatures are living on its branches. like birds , spiders ants and much more but this parasite was different it was kind of friend of a tree.It talks to tree kept the tree updated about what was happening around the tree. one day tree said You are like a tree you leaned on me but you never move nor leave I am better atleast I dont lean on anyone I dont move but yeah its not matter of my choice I just cant But if I could I will definitely. thats not the case with you.you can move but you shamefuly chose to lean on me.. parasite smiled at that tree. yeah its my choice to lean on you but depending on someone is my nature. its same like you , you cant move and I cant get food i have to derive nutrients from other organisms Tree becane angry You are a parasite you are living on me will die on me you are extracting food from me what a low...

ایک کتا اور شیر کہانی

کتا کہانی ایک تھا کتا ۔آوارہ تھا ادھر ادھرگلیوں میں پھرتا تھا۔ لوگ جھڑکتے بھگا دیتے۔وہ ادھر ادھر منہ مار کر پیٹ بھرتااور شہر بھر میں گھومتا پھرتا۔۔ایکدن سیر کرتا چڑیا گھر جا پہنچا کیا دیکھتا ہے شیر دھاڑ رہا ہے۔لوگ اسکو پنجرے میں بند دیکھ کر بھی ڈر رہے تھے۔ کتے کو یہ ماجرا بڑا عجیب لگا۔ پنجرے کے پاس گیا شیرسے پوچھا سب تم سے ڈر کیوں رہے ہیں۔۔  شیر ہنسا۔۔  بولا میں دھاڑتا ہوں میری آواز کی گونج انسانوں کے دل پر تھرتھلی پیدا کردیتی ہے اور وہ ڈر جاتے ہیں۔۔ کتے نے سوچا یہ تو اچھا خیال ہے۔ باہر نکلا چڑیا گھر سے اسے بھی   انسانوں کو ڈرانے کا شوق چڑھ آیا۔جو انسان نظر آتا اس پر بھونک بھونک کے پاگل ہونے لگتا کچھ لوگ اسکے بھونکنے سے راستہ بدل جاتے  ۔مگرکچھ  انسان اس سے ڈرنے کی بجائے اس پر پتھر مار کر آگے بڑھ جاتے۔ وہ مایوس ہو کر دوبارہ چڑیا گھر  آیا سارا قصہ شیر کو کہہ سنایا۔ شیر ہنسا۔۔ بولا  میں شیر ہوں انسانوں کو کھا جاتا ہوں اگر کھلا ہوں تو وہ اپنی جان جانے کے خوف سے ڈرتے ہیں کتے کو نیا خیال سوجھا۔۔ اگر میں بھی شیر کی طرح کی کھال بنوا لوں اپنی اور بال سجا...

برداشت کہانی

ایک تھا بندر ۔درخت پر  خاموشی سےسر نیہواڑے بیٹھا تھا۔ پاس سے بھالو گزرا بندر کو دیکھا تو حقارت سے دیکھ کر کہنے لگا۔  کیا اوقات ہے تیری بندر درخت سے اترتا ہی نہیں پینگیں لینا زندگی بس تیری۔۔  بندر نے نگاہ اٹھا کر دیکھا پھر سر جھکا لیا۔  بھالو ہنستا گزر گیا۔  اگلے دن پھر بھالو کا گزر ہوا بندر وہیں ویسے ہی بیٹھا تھا۔ بھالو کو اچنبھا ہواٹوکنے کو کہنے لگا۔  کوئی کام کر بندر کیوں فارغ بیٹھا ہے۔ بندر چپ رہا۔۔ بھالو استہزائیہ انداز میں ہنس کر آگے بڑھ گیا۔ تیسرے دن پھر وہی بھالو وہیں سے گزرا بندر ویسے ہی بیٹھا تھا۔ بھالو کیلا کھا رہا تھا آدھا کھا کے بندر کی جانب اچھال دیا۔۔بندر چونکا مگر لپک کر تھام لیا۔  کھا لو۔ میرا پیٹ ویسے بھی بھرا ہوا ہے۔ ویسے بھی یوں ہاتھ پر ہاتھ دھرےبیٹھنے والے جھوٹا موٹا کھانے کے ہی عادی ہو جاتے۔  بھالو نے احسان کیا تھا مگر جتانے سے باز نہ آیا۔ بندر جو بقیہ کیلا لپک کےکھا چکا تھا دیکھ کر رہ گیا۔۔۔  پھر یہ معمول ہی ہوگیا۔بھالو روز گزرتا کبھی کوئی چیز اچھال دیتا کبھی بات سنا دیتا۔بندر چپ رہتا۔ ایک دن ب...

آخر کیوں؟

رات سونے سے قبل اس نے آئینہ اٹھایا۔۔۔  وہی ناک نقشہ۔۔ وہی رنگت ۔۔ وہی شکل ہی تو تھی۔۔  وہ سوچ میں پڑ گئ۔۔۔  سنیں۔۔  اس نےمڑ کرمسہری پر اونگھتے شوہر کو مخاطب کیا۔۔  ہوں۔۔ نیند سے جھومتے شوہر نے بس ہوں کہنے پر ہی گزارا کیا۔۔  میں پہلے جیسی ہوں کیا؟ اس نے دھیرے سے پوچھا ہوں۔۔۔ جواب حسب توقع مختصر تھا۔۔  پر۔۔ وہ سوچ میں پڑی۔۔۔ جانے کتنی صدیاں بیتی تھیں وہ رہ نہ سکی پوچھ بیٹھی۔۔  مجھ سا مرے میں  مجھے  اب  نظر نہیں آتا ...کیوں ؟؟؟؟  جواب ندارد تھا۔۔ فضا میں ہلکے خراٹوں کی آواز گونج رہی تھی۔  سو گئے۔۔۔ پہلے میں پوچھتی تھی تو۔۔۔۔۔  وہ پھر سوچ میں پڑ گئ۔۔۔ Support Us Salam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy New  Urdu Web Travel  Novel  : Salam Korea Featuring Seoul Korea از قلم ہجوم تنہائی Hajoom E Tanhai alone?join hajoom