نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

ڈرا ونی کہانی ..

ڈرا ونی  کہانی .. کچھ  دوست  تھے   ہوسٹل  میں  رهتے  تھے  ایک  بار  سردی  میں  واپس  آیے لحاف  میں  گھس  گیے   گھسنے  کے  بعد  دیکھا  دروازہ  تو  بند  کیا  ہی نہیں  ایک دوسرے  کو کہا   کوئی  دروازہ  اٹھ  کر  بند  کرنے  کو  تیار  نہ  ہوا  ایک  دوست  بولا  میں  کر  دیتا  ہوں  اس  نے  ہاتھ  لمبا کیا  لیتے  لیتے  بند  کردیا .. سب  ڈر کے  بھگ  گیے  نتیجہ : ٹھنڈ  آنے والی ہے  کمرے  میں  داخل  ہوتے    ہی  دروزہ  خود  بند  کرنے کی عادت ڈال  لیں  از قلم ہجوم تنہائی

انوکھی کہانی تیسری قسط

انوکھی کہانی  تیسری قسط  انوکھی تمہیں پرنسپل صاحب بلا رہے  وہ حسب معمول اکیلی آدھی چھٹی میں بیٹھی باقی بچوں کو کھیلتے  دیکھ رہی تھی جب ایک بچہ بھاگتا ہوا آیا اور اسے بتا کر واپس بھاگ گیا  وہ پیچھے پکار کر پوچھتی رہ گئی کیوں بلا رہے  خیر کیا ہو سکتا تھا وہ پرنسپل صاحب کے کمرے میں آگئی  بیٹا ادھر آؤ انہوں نے پیار سے اسے پاس بلایا  وہ حیران سی ان کے پاس چلی ای ان کے پاس دو لوگ بیٹھے تھے جو حلیے سے کافی معتبر دکھائی دیتے تھے اور تھوڑے بیزار بھی دکھائی دیتے تھے  بیٹا ان سے کہو ہمارے اسکول کی رپورٹ اچھی بنائیں اور رشوت لے لیں آرام سے   انوکھی نے ان کے کہے الفاظ د ہرا دیے  ....................................... رات کو کھانا کھاتے اسے جانے کیا یاد آیا پوچھنے لگی  ابو رشوت کیا ہوتی؟ اگر آپکو کوئی کام کرنا چاہیے اپکا فرض ہے کرنا اور پھر بھی اس کام کو کرنے یا نہ کرنے کے آپ پیسے وصول کریں یا تحفہ کوئی بھی نا جائز فائدہ اٹھائیں تو اسے رشوت کہتے  ابو نے تفصیل سے بتایا  مگر کوئی کام آپکو کرنا ہی ہے اس کے کوئی...

ہنس مکھ مکھی کہانی

ہنس مکھ مکھی کہانی  ایک تھی مکھی خرم رہتی تھی  ہنستی رہتی کسی نے جل کر اسے کہا ہر وقت ہنستی ہو کبھی ہنسی بچا بھی لو کل کو کام ایگی  مکھی احمق مان گئی اب کوئی لطیفہ سنے  ہنسے نا  کوئی خوشی کی خبر ملے نہ ہنسے  کچھ اچھا ہو نہ ہنسے  ہنسنا سمجھو بھول ہی گئی  ایک بار اسے ایک مکھی اپنا قصہ سنا رہی تھی  کیسے ایک بار وہ مٹھائی کی دکان میں چلی گئی  حلوائی شیرہ بنا رہا تھا اس نے چکھنا چاہا تو اسکے پاؤں چپک گیے  حلوائی نے اس میں گلاب جامن ڈال دیے یہ مزے لے لے کر کھاتی رہی  اتنے میں کوئی خریدار آیا اور گلاب جامن لے گیا ڈبہ کھولا سب سے پہلے مکھی والی گلاب جامں اٹھائی  دیکھا مکھی ہے تو پھینک دی  بس پوری گلاب جامن سے پورا مکھیوں کا جھنڈ کے دن مستفید ہوتا رہا  وہ بتا کر ہنسے جا رہی تھی  یہ مکھی خاموشی سے دیکھتی رہی  دوسری مکھی حیران ہو کر پوچھنے لگی تمہیں ہنسی نہیں آی؟ مکھی بولی آی کل تھوڑا سا ہنس دوں گی مکھی کیا کہتی چپ ہو رہی اگلے دن مکھی بیٹھی رو رہی تھی  ہنس مکھ مکھی نے پوچھا کیا ہوا بولی...

کردار کہانی

کردار کہانی میں ایک کردار ہوں  کیا بد ؟ نہیں کیا معاون ؟  نہیں  کیا ثانوی ؟ نہیں  کیا مرکزی؟  وہ بھی نہیں  میں وہ کردار ہوں جو ابھی لکھا نہیں گیا  نتیجہ : کہانیاں وقت گزاری کے لئے ہوتی ہیں کردار نہیں  از قلم ہجوم تنہائی

درد کہانی ...

درد  کہانی ... ایک  بار  دو  درد  آپس میں  باتیں  کر  رہے  تھے ... دل  ٹوٹنے  کا  درد  اور  ہڈی  ٹوٹنے کا  درد  لڑنے  لگے   ہڈی  کا  درد  بولا  میں  زیادہ  محسوس  ہوتا  ہوں  نظر  بھی آتا  تمہارا  کیا  ہے  عادت  ہو  جاتی  ہے  اتنا  ٹوٹتے  ہو ... دل  کا  درد  بڑھ  گیا  کہہ  نہ  سکا  تمہیں  تو  ہمدردی  بھی  ملتی  درد  کم  بھی  ہو  جاتا ... دل  تو  نہ  جوڑتے  ہیں  نہ  ٹوٹنا  کم   ہوتے   نتیجہ : درد دل کا ہو یا ہڈی کا کوئی بانٹ نہیں سکتا  از قلم ہجوم تنہائی

کہانی shajra

رات کہانی ایک دفعہ دو لوگ آپس میں بات کر رہے تھے  یونہی شجرے کا ذکر نکل آیا ایک نے دوسرے کو غور سے دیکھا اور کہا بھائی آپ پٹھان ہو؟ دوسرے نے کہا نہیں بھائی میں پٹھان نہیں میں اردو سپیکنگ سید زادہ ہوں انڈیا سے ہجرت کر کے آیا ہے یہاں خاندان میرا نہیں بھی آپ پٹھان لگتے ہو گورے چٹے ہو پہلا آدمی بولا دوسرے نے انکار کیا بحث بڑھی پہلے والا بولا آپ کے ابو یا امی میں سے تو کوئی ضرور پٹھان ہے گھر جا کر پوچھنا اتنی یہ بحث بڑھی کے دوسرے آدمی کو خود اپنے شجرے پر شک پڑ گیا گھر گیا جا کے اپنے اماں ابا سے انکی سات پشتوں کا احوال دریافت کیا معلوم ہوا دہلی میں شجرہ موجود ہے ان کے کسی دادا کے رشتے دار کے پاس وہاں تو رابطہ نہ ہوا مگر تسلی ہوئی اگلے دن اسی آدمی کے پاس گیا تفصیل سے بتایا نہ صرف امی بلکہ ابا بھی سید ہیں اپس میں رشتے دار ہیں دہلی سے ان کے بارے یہاں آیے تھے دوسرے آدمی کو تسلی ہو گئی معذرت کی ماں لیا دوسرے آدمی نے معذرت قبول کر لی یونہی بات برایے بات دریافت کیا بھائی آپ کی ذات کیا ہے؟ پہلے نے جواب دیا ... . . . پٹھان  نتیجہ : بحث کیجیے مگر شجرہ مت کھنگالیے دوسروں کا از قل...

بادل کہانی

بادل کہانی  ایک تھا بادل یونہی کسی گھر کے پاس سے گزر رہا تھا گھر کا مالک دروازہ کھلا چھوڑ گیا تھا  بادل اندر گیا کچن میں دیکھا چاۓ بنی پڑی تھی غٹا غٹ چڑھا گیا  باھر گیا برسنے لگا  لوگ حیران ہوۓ چاۓ برس رہی ہے سب کپ لے کر کھڑے ہو گیے گھر کا مالک بھی گزر رہا تھا سوچا میں گھر میں چاۓ بنانے کا که کر آیا ہوں بیوی نے بنا رکھی ہوگی وہ ہی پی لونگا گھر آیا تو دیکھا اسکا کپ خالی پڑا ہے اور پورا گھر پانی پانی ہو رہا بیوی پریشان کھڑی تھی اس نے بیوی سے کہا چاۓ ؟ بیوی نے کہا بنا دونگی مگر پہلے ذرا گھر کا پانی نکال دوں بادل سب گیلا کر گیا شوہر نے کہا اچھا میں سوتھ دیتا ہوں تم چاۓ بنا دو اور وائپر نکالا اور گھر سوتھنے لگا بیوی کچن میں گئی دیکھا دودھ ختم انتظار کرنے لگی کہ شوہر کام ختم کر لے پھر دودھ لانے بھیجے  نتیجہ : اگر بادل چاۓ برسا رہا ہو تو کپ لے کر کھڑے ہو جائیں گھر جا کے پینے کا شوق نہ پالیں گھر والوں کو اور بھی کام ہوتے ہیں چاۓ بنانے کے سوا از قلم ہجوم تنہائی

قسط دو انوکھی کہانی

قسط دو انوکھی کہانی  جلد ہی یہ بات سکول میں سب بچوں میں پھیلتی گئی  انوکھی سے سب بچے ڈرنے لگے وہ اکیلی رہنے لگی  وہ اکثر اکیلے بیٹھ کر روتی رہتی اور خدا سے شکوہ کرتی  سب میری بات کیوں ماں لیتے اور اگر ماں لیتے تو اس میں میرا قصور کیا ہے  اس کے امی ابو کافی خوش تھے اسکے بہن بھایئوں سے جو بات منوانی ہوتی انوکھی کے ذریے کہلاتے  نتیجہ بہن بھی علیحدہ اس سے چڑنے لگے گھر میں جہاں یہ آ کر بہن بھائیوں کے پاس آ کر بیٹھتی وہ اٹھ کر چل دیتے  انوکھی بچی ہی تو تھی اداس رہنے لگی  اسکی دادی نے اسے پیار سے سمجھایا  بیٹا یہ کوئی بری بات نہیں ہے اگر کوئی تمہاری بات ماں لیتا برا تب ہوتا جب تم اس بات کا غلط فائدہ اٹھاتیں بیٹا  غلط فائدہ؟ وہ سمجھی نہیں  ہاں جیسے تم لوگوں کو کچھ ایسا کرنے کا کہتیں جس سے انھیں نقصان ہوتا یا تم اپنے ذاتی کام کرنے کا کہتیں ٹیب بری بات تھی نا دادی کو ایسا سمجھاتے ہوئے خیال بھی ذہن میں نہ آیا کہ انہوں نے نا دانستگی میں  اسے نیی ترکیبیں اپنانے کا مشورہ دے دیا ہے  ........... انوکھی یہ تمھاری لکھائی ...

انوکھی کہانی پہلی قسط

انوکھی کہانی پہلی قسط ایک تھی انوکھی نام تو تھا خیر اسکا عالیہ ... انوکھی ایسے نام پڑا کہ اسکی دادی نے ایک دن لاڈ میں پکارا تھا اسے انوکھی کہہ کر بس چار بہن بھائیوں کی وہ سب سے چھوٹی بہن تھی سو سب نے چھیڑ چھیڑ کر اسکا نام انوکھی ہی کر دیا انوکھی کا ہر کام انوکھا تھا پہلی بار سکول گئی استانی کو گرا دیا جان کر نہیں استانی صاحب اسکی بات نہیں سن رہی تھیں اس نے انکا دوپٹہ کھینچ کر کہا سن لیں میری بات مس مس نے پھر بھی نہیں سنا کھڑی اس کے پیچھے بیٹھے بچے کو گھر کا کام نہ کرنے پر ڈانٹتی رہی تھیں اپنی اونچی ایڑھی والی صندل اسکی گری ہوئی کاپی پر رکھے تھیں اس نے اٹھانا تھا تین بار تو کہا تھا چوتھی بار اسے بھی غصہ آگیا اسکو ڈانٹے جا رہیں اب بس بھی کریں ایک تو اتنی اونچی ہوئی وی ہیں اب گر جائیں میرے ہی سر پر اس نے انکی اونچی ایڑھی والی سنڈل کو گھورا بس وہ مڑیں پیر مڑا سیدھی اسکے سر پر استانی صاحبہ نازک سی تھیں مگر ایک چار سالہ بچی کے اپر پہاڑ کی طرح گری تھیں سٹیکر بنتے بنتے رہ گیا تھا اسکا سری کلاس ہنس رہی تھی ایک وہ رو رہی تھی اس پر ہی بس نہیں اسکی امی کو بلا لیا تھا استانی صاحب نے آپکی بیٹی نے...

پیار کہانی نمبر پانچ میں وہ اور کوا

پیار کہانی نمبر پانچ  میں وہ اور کوا  ایک تھا لڑکا  نہا دھو کر بالوں میں جیل شیل لگا کر تیار ہو کے ظاہر ہے کسی لڑکی سے ملنے جا رہا تھا  بائیک لہرا لہرا کر چلاتے ہوئے گنگنا بھی رہا تھا  اسکے اوپر سے کچھ کوے بھی اڑتے ہوئے کہیں جا رہے تھے  ترنگ میں آ کر اس نے پوچھا  سنو میں تو اپنی گرل فرنڈ سے ملنے جا رہا ہوں تم کہاں جا رہے ہو ؟ کوا جلدی میں تھا اڑتے اڑتے ہی بٹ کر گیا  پھر کوے تو پتا نہیں کہاں چلے گیے  اس لڑکے کو گھر واپس آنا پڑا اپنی گرل فرینڈ سے فون کر کے معزرت کر لی  کافی خفا ہوئی تھی وہ  گھر آیا تو نہا بھی لیا دوبارہ گندا بچہ تھوڑی تھا  نتیجہ : ڈیٹ پر جاتے ہوئے کوے سے کبھی نہیں پوچھنا چاہیے وہ کہاں جا رہا ہے  از قلم ہجوم تنہائی

بنیان والے انکل کی کہانی

بنیان والے انکل  کی کہانی  ایک تھے انکل  ہر وقت بنیان پہنے رکھتے تھے  شلوار پہنتے تھے  مگر کبھی بھی قمیض میں نظر نہیں آتے تھے  جانے کیا وجہ تھی  صبح اچھے بھلے پورے کپڑے پہن کر دفتر جاتے تھے ،مگر واپس گھر آتے اور قمیض اتار دیتے ہم بچے کافی حیران ہوتے تھے کتنے بے شرم انکل ہیں ایکدن وہ انکل نہا کر ٹیرس پر آگیے  ہم نے انکو دیکھا اور ہم اندر کمرے میں گھس گیے  کیونکہ اس بار وہ صرف تولیہ پہن کر باہر آگیے تھے  اور ٹیرس پر وائپر لگانے لگ گیے  نتیجہ : بےشرمی کی ہائٹ از قلم ہجوم تنہائی

کوئی کہانی

کوئی کہانی  ایک تھا کوئی  اب تھا نہ کوئی  اسکو کوئی کوئی ہی پسند کرتا تھا  ایک دن کوئی نے سوچا  کیوں نہ کوئی ایسا کام کرے کہ کوئی کوئی نہیں سب اسے پسند کرنے لگیں  سو سوچتا رہا کوئی  اسے سوچتے دیکھ کر کوئی ہنس پڑااور بولا  کوئی سوچتا تھوڑی ہے کہ کوئی ایسا کیا کام کرے کہ سب پسند کرنے لگیں  کوئی نے اس سے کہا  کوئی تو سوچے گا نا کبھی کہ کوئی اچھا کام کر ہی لے جسے سب پسند کریں  نتیجہ : اچھا کام کرنے کا سوچتا بھی کوئی کوئی ہے  از قلم ہجوم تنہائی

ضرورت کہانی

ضرورت کہانی  ایک تھی ضرورت بہت کمینی تھی ہر وقت خواہش کو مارتی رہتی تانگ کرتی رہتی تھی کبھی پورا نہیں ہونے دیتی تھی ہمیشہ آگے آجاتی تھی  ایک بار روتی آئی اور خواہش سے بولی  تم مر جاؤ  ابھی خواہش سوچ ہی رہی تھی کیا جواب دوں ضرورت نے اسکا گلہ گھونٹ دیا  مشہور ہوگیا خواہش نے خود کشی کر لی  نتیجہ : خواہش معصوم ہوتی ہے  از قلم ہجوم تنہائی